خوشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


20 مارچ خوشی کا عالمی دن تھا۔ جو خاموشی سے گزر گیا۔ ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہماری زندگی کا اہم ترین عنصر جو اتنا ہی ضروری ہے جیسے آکسیجن ہم اس کو یکسر بھولتے جا رہے ہیں۔ اگر ہماری زندگی میں خوشی جیسا جذبہ ناپید ہوتا جائے تو اس جگہ کو پر کرنے کے لیے نفرت، حسد، کینہ اور ذہنی تناو جیسے منفی جذبات آ گھستے ہیں بالکل جیسے ہمارے معاشرے میں ایک متھ ہے کہ خالی گھروں میں بھوت رہنے لگتے ہیں۔ زندگی کو خوبصورتی عطا کرنے والے چند جذبے جیسے محبت، احساس اور خوشی یقین مانیے کہ آپ کی خشک اور بنجر زندگی کو گلستان بنا دیں گے بس ان جذبوں کو اپنے دل کے کسی کونے میں جگہ دے کر تو دیکھیے۔

مسکراہٹ کو اپنے چہرے کی زینت بنا کر تو دیکھیے۔ کچھ ادارکار تو ہمارے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے خود اپنی شخصیت پر بھی پھبتی کسنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ یقیناً وہ اپنے فن میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ خوشی ہے کیا؟ خوشی وہ پرندہ ہے جو زندگی کے درختوں پر پتوں کی اوٹ میں چھپا بیٹھا ہوتا ہے جس کو ہمیں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس آرٹ کو سمجھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ اس تلاش کو بوجھ سمجھ کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ویسے خوشی کے بھی کئی روپ ہوتے ہیں یہ کہیں ہمیں ماں کی ممتا بھری آواز میں دکھائی دیتی ہے، کبھی باپ کی اس ادا میں جو اپنی اولاد کی کامیابی پر ہوتی ہے۔

اور کبھی محبوب کے اقرار میں چھپی ہوتی ہے۔ اور کبھی بچے کے اس لفظ میں بھی جو وہ پہلی بار بولتا ہے۔ وہ ایک شاہکار پینٹنگ میں ملے گی اور کبھی ایک خوبصورت شعر میں بھی۔ آج اس وبا نے ہمیں تفکرات اور ذہنی تناؤ (stress) کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بیروزگاری اور آئے روز کے لاک ڈاؤن سے دنیا اس قدر بیزار ہو گئی کہ اب ترقی یافتہ معاشرے بھی دہائی دینے لگے ہیں۔ گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کام پر وہ توجہ نہیں دی جا پا رہی۔

سکول و کالج بند ہیں۔ کئی ایسے طالب علم جن کی یونیورسٹی کی زندگی کا آغاز ہو گیا ہے مگر آن لائن تدریس کے سلسلے کی بنا پر ابھی تک اپنی یونیورسٹی کی شکل تک نہیں دیکھ پائے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ کسی بھی انسان کے تعلیمی سفر کا سب سے خوبصورت دور یونیورسٹی کا دور ہوتا ہے، جس سے یہ لوگ ابھی آشنا ہی نہیں ہوئے۔ اس وقت دنیا کو جن باتوں کی اشد ضرورت ہے وہ ہے حوصلہ اور خوشی جو ایک ٹانک کی طرح ہمارے اس ذہنی اضطراب کو دور کر سکتا ہے۔

خوش مزاج انسان وسعت قلب کا مالک ہوتا ہے۔ اگر ہم بات کریں تخلیقی صلاحیتوں کی تو وہ کسی طور خوش مزاجی کی دین ہے۔ کچھ دانشور حقیقی خوشی حاصل کرنے کو ایک عمل اور ہنر کہتے ہیں اور کسی بھی ہنر کو پختہ کرنے کے لیے ایک مشق کی ضرورت ہوتی ہے جیسے فن موسیقی سے وابستہ افراد ریاض کو باقاعدگی سے بجا لاتے ہیں اور اپنے فن میں نکھار لاتے ہیں۔ اسی طر ح حقیقی خوشی کا حصول بھی ہم سے ریاض مانگتا ہے مشق مانگتا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسی خوشی جو آپ کے اندر سے پھوٹتی ہے اس کا تعلق ہر اس کام سے جڑا ہے جو آپ من سے کرنا چاہتے ہیں جیسے آپ کو لکھنے کا یا ایکٹنگ کا یا مارکیٹنگ کا شوق ہے تو اگر آپ اس شوق کو بطور پیشہ اپنا پاتے ہیں تو آپ ایک خوش قسمت انسان ہیں اور آپ خوشی کی حقیقی روح سے بھی واقف ہیں۔

ہمارے اردگرد کا ماحول ہمارے مزاج پر گہرا اثر رکھتا ہے۔ آپ کے دوست جس قدر مثبت سوچ کے مالک ہوں گے آپ اتنا ہی ان دوستوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوں گے ۔ خوشی کا منبع انسانی زندگی سے جڑے دو بڑے فیکٹرز سے بھی ہے جیسے آپ کی فیملی سے آپ کا تعلق، آپ اپنے خاندان کے ساتھ کتنا وقت بتاتے ہیں۔ اور آپ اپنے مذہب پر عمل پہرا ہوکربھی آسودہ رہ سکتے ہیں۔ خوشی اور مسکراہٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آپ کے چہرہ پر مسکراہٹ جہاں آپ کی شخصیت کو پر کشش بناتی ہے وہاں دوسرے انسان کو بھی ایک موٹیویشن دیتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں یورپ میں راہ چلتے اجنبیوں کو دیکھ کر مسکراہٹ کا تحفہ دے دیتے ہیں۔

یہ ہی چند سیکنڈ کی مسکراہٹ انسانوں کے رویوں کو بدلتی ہے اور معاشروں کو بھی۔ ہمیں آج سے ہی اس بات کا ارادہ کرنا چاہیے کہ ہم خود بھی خوش رہیں گے اور دوسروں کو بھی خوشیاں تقسیم کریں گے۔ اشفاق احمد صاحب بھی تمام عمر آسانیاں تقسیم کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ زیادہ نہیں اپنوں اور غیروں کو ایک مسکراہٹ کا تحفہ ضرور دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *