’’حیات اقبال‘‘ کچھ الگ تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال افغانستان گئے۔ وہاں عبدالمجید اتاشی کے ساتھ مذاق کا سلسلہ رہتا۔ ایک روز عبدالمجید اتاشی نے کہا!ڈاکٹر صاحب کیا اچھا ہو کہ آپ بھی انگلستان آتے ہوئے یادگار کے طور پر بیویاں لانے والوں کی طرح افغانستان سے جاتے وقت افغان خاتون سے شادی کر کے لے جائیں۔ اقبال نے پوچھا کہ یہ خاتون مجھ سے کیا برتائو کرے گی۔ مجید نے کہا کہ اچھا برتائو کرے گی‘ ہاں منہ نہار جگا کر حکم دیا کرے گی’’او ڈاکٹر او ڈاکٹر برخیز برائے من چائے تیار کن‘‘ او ڈاکٹر اٹھو فوراً میرے لئے چائے تیار کرو۔

اقبال نے ہنستے ہوئے پوچھا:کیا واقعی؟مجید بولے جی وہ ایسا ضرور کہے گی اور ایک وقت چائے نہ ملی تو آپ کی وہ درگت بنائے گی کہ نانی یاد آ جائے گی۔یہ اس اقبال کی جھلک ہے جو زندگی کو ہنسی مذاق،رکھ رکھاواور انسانی پہلو سے دیکھنے کے لئے آمادہ رہتے۔

اقبال کی زندگی صرف سنجیدہ فکر شاعری اور فلسفہ کا عکس نہ تھا ،ان کے دل میں بچوں کے لئے جو شفقت امنڈتی ،نظموں میں ڈھل کر لب پر جاری ہو جاتی ،یہ محبت آج بھی لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری،پہاڑ اور گلہری اور دوسرے استعاروں میں لہلہا رہی ہے۔

1926ء میں صوبائی انتخابات کا موقع آیا۔ ہندوستان بھر میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔ علامہ اقبال کے مقابلے میں پنجاب کونسل کی رکنیت کے لئے ملک محمد دین کھڑے ہوئے۔ ملک محمد دین کو برادری کی حمایت حاصل تھی جبکہ اقبال مسلم قومیت کے داعی اور قومی شاعر کی حیثیت سے مقبول تھے۔ علامہ اقبال کو 2698کے مقابلے میں 5675ووٹ ملے۔

اقبال نے سرفضل حسین کی یونینسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ کونسل کی لوکل سیلف گورنمنٹ کمیٹی ،تعلیم‘ فنانس اور دوسری کمیٹیوں کے لئے ایسی تجاویز پیش کیں جن سے پنجاب میں ترقی‘ عوامی بہبود اور تعمیر کا عمل آگے بڑھ سکتا تھا۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ سرفضل حسین جاگیرداروں اور زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں‘ عام آدمی کا مفاد انہیں عزیز نہیں۔ اس دور میں اقبال نے ایک تقریر میں رکن اسمبلی کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ ِِ

ممبر کا سب سے بڑا وصف یہ ہونا چاہیے کہ ذاتی اور قومی منفعت کی بحث کے وقت شخصی مفاد کو قوم کے مفادات پر قربان کر دے۔ میں بھی اپنے مفاد کو قوم کے مفاد کے مقابلے میں ترجیح نہیں دوں گا اور اغراض ملی کے مقابلے میں ذاتی خواہشوں پر مرمٹنے کو موت سے بدتر خیال کرتا ہوں۔ِِ اقبال کی یاد میں دن منانے والے‘ اقبال کی دعائیہ نظم پڑھ کر جوان ہونے والے اور کلام اقبال سے محفلوں پر دھاک بٹھانے والے معزز منتخب نمائندے اقبال کو یاد کرتے ہیں‘اقبال کی پیروی کرتے تو ان کا طرز عمل مختلف ہوتا۔منتخب نمائندوں کا طرز عمل ذمہ دارانہ ہوتا۔

لندن میں تین گول میز کانفرنسیں ہوئیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح پہلی اور دوسری کانفرنس میں شریک تھے لیکن 1932میں ہونے والی تیسری کانفرنس کے وقت سیاست کو خیر باد کہہ چکے تھے۔ علامہ اقبال نے قائد اعظم محمد علی جناح کو جداگانہ مسلم ریاست کے تصور کے حوالے سے کئی خطوط لکھے۔ ان خطوط کے متعلق خود قائد اعظم نے فرمایا: ’’یہ خطوط زبردست تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً جن میں اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کو موضوع بحث بنایا۔

ان کے خیالات مجموعی طور پر میرے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور برصغیر کو جو آئینی مسائل درپیش تھے ان کے تفصیلی جائزے اور گہرے مطالعے سے میں بھی سراقبال کے خیالات اور ممکنہ نتائج پر پہنچا۔ بعدازاں یہی تصورات مسلمانان برصغیر کے متفقہ عزم اور امنگ کی شکل میں ظاہر ہوئے‘‘ یہ اقبال کا اصرار تھا کہ قائد اعظم واپس ہندوستان آئے اور 4مارچ 1934ء کو مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ 12مئی کو علامہ اقبال پھر سے مسلم لیگ پنجاب کے صدر مقرر ہو گئے۔

بطور فلسفی اقبال کا فلسفہ خودی ایک ایسی قوم کے درد کی دوا قرار پایا جو بے رہنما اور بے سمت تھی۔ یورپ میں قیام کے زمانے میں اقبال نے فلسفے کا عمیق مطالعہ کیا۔ ایران کی مختلف ادبی و لسانی تحریکوں اور ادب کو گہری نظر سے دیکھا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلامی تہذیب کی ابتری خصوصاً جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی تباہی کی ذمہ دار وہ فارسی شاعری ہے جس نے افلاطونی فلسفے کی موشگافیوں میں پھنس کر حیات جاودانی کے سرچشموں کو خشک کر دیا۔

اس کے بعد سکون اور بے عملی کو زندگی کا مقصد سمجھا جانے لگا۔ افراد میں خودی اور خودداری کی بو نہ رہی۔ ذلت و نکبت موجب فخرہوئیں۔ یہ روگ آہستہ آہستہ قوم کے رگ و پے میں سرائیت کر گیا: خودی کیا ہے؟ راز درونِ حیات خودی کیا ہے؟ بیداری کائنات ازل اس کے پیچھے‘ ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے کل 23مارچ ہے‘ وہ دن جب ہندوستان کے مسلمانوں نے الگ وطن کی قرار داد منظور کی۔قوم کی بیداری تحریک کو پیدا کرتی ہے اور تحریک ایک مقصد و منزل کا تعین کرتی ہے۔ اس عمل میں اقبال ہر مقام پر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔اگرچہ وہ منٹو پارک اجلاس میں شریک نہ ہوئے‘ چند سو گز دور بادشاہی مسجد کے پہلو میں ابدی نیند سو رہے تھے لیکن اقبال کشتی کو بھنور سے نکال چکے تھے۔

ہمارے بزرگ ریاض احمد چودھری مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ’’حیات اقبال‘‘ کے نام سے عظیم مفکر اور مسلمانوں کے ہمدرد ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی زندگی اور تصورات سے آگاہی کا فریضہ بخوبی ادا کر دیا۔بزم اقبال پچھلے چھ ماہ میں حضرت اقبال پر چھ کتابیں شائع کر چکی ہے،وسائل میسر ہوں تو اقبال کی فکری و علمی ترویج کا کام زیادہ توانائی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت سے بزم اقبال اور اس کے جوان جذبہ ڈائریکٹر بزرگوارم ریاض احمد چودھری مالا مال ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply