خوشی کے آنسو


رات بھر کی بے خوابی اور ذہنی اذیتوں سے تنگ ہو کر میں طلوع آفتاب سے پہلے بند کھوٹی سے نکل چکا تھا، مجھے خود معلوم نہیں تھا کہ آج میری منزل مقصود کہاں ہے؟ میرے راستے بھی غیر متعین اور منزل کا بھی پتا نہیں تھا، کیونکہ اداسی اور شدید ڈپریشن کی وجہ سے میں پاگلوں کی طرح تاریک اور بند گلیوں میں آوارہ گھوم رہا تھا۔ چلتے چلتے میری نظر ایک خوبصورت عمارت پر اٹک گئی، قرب و جوار میں بھی کئی خوبصورت اور کھنڈرات نما بنگلے موجود تھیں۔ لوگوں کی رونق سی تھی اور ہر ایک کو جلدی اپنی منزل مقصود تک پہنچنا تھا۔

میں ایک عالی شان عمارت کے اندر داخل ہوا اور چہل قدمی کے انداز میں تمام کمروں کا جائزہ لیتا رہا، اپنائیت کا جذبہ نہ پا کر میں اس عمارت سے نکل گیا اور چند فاصلے پر جا کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا، پت جھڑ کے موسم کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب درخت کے پتے مجھ پر گر رہے تھے اور مجھے خود پتہ نہیں تھا کہ میرے جسم کے ہر حصے میں پتے ہی بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنی زندگی میں مگن، ہر ایک کو اپنی منزل کی تلاش اور کسی کو دوسرے کی خوشی اور غم سے واسطہ نہیں تھا۔

درخت کے چھاؤں بھی اب اپنا رخ بدل چکی تھی اور گرمی کی ہلکی تپش اب ماحول کو مزید اجنبی بنا رہی تھی، اس گھٹن زدہ ماحول میں مجھے درخت کے نیچے بیٹھنا ایسا سکون فراہم کر رہا تھا کہ اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔

مجھے پتہ نہیں تھا کہ کوئی میرے قریب کھڑی اس منظر کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ مجھے دنیاوی غموں سے آزاد دیکھ کر آخر وہ بول پڑی۔

چاکر! آپ درخت کے سائے میں بیٹھنے کی بجائے گرمی میں کیوں بیٹھے ہوئے ہو، سایہ تو دوسری طرف ہے اور تمہارے جسم کے ہر حصے پر پتے بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ کیا سوچ رہے ہو، اس گھٹن زدہ ماحول سے نکل کر یہاں سے کوسوں دور جاؤ، یہاں تمہارے غموں اور اداسی کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے اور روز تمہارا مذاق اڑایا جاتا ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔

میں نے جب پیچھے پلٹ کر دیکھا تو کوئی انجان حسینہ میرے قریب کھڑی تھی، اس کے کالے اور لمبے بال اس کے حسین رخساروں کو چھو رہے تھے اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر اس کے نرم بدن پر خوشبو بکھیر رہے تھے اور وہ بار بار مجھے یہاں سے کوسوں دور جانے کا کہہ رہی تھی۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا جواب دوں، کیونکہ اس کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو مجھے مزید اداس کرنے لگے، اور اس اجنبی ماحول میں رہنا بھی میری ایک مجبوری تھی کیونکہ یہاں میں کئی ادھورے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی امید لے کر آیا تھا اور اب منزل مجھ سے ایک قدم دور، مجھے قریب آنے کی آواز دے رہی تھی۔

میری خاموشی کو بھانپتے ہوئے حسینہ پھر بولنے لگی:

چاکر! میں جانتی ہوں آپ پاگل نہیں ہو، مگر اس گھٹن زدہ ماحول میں آپ کی درد کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ آپ کی منزل آپ کو پکار رہی ہے اور راستے پر پھولوں کے ہار بھی میں نے سجا کر رکھ دیے ہیں، اب تمہارے راستے میں کانٹے نہیں بلکہ پھول بکھرے ہوئے ہیں۔ صرف میری بات مانو، ورنہ۔

میں نے کہا، ورنہ کیا کرو گی؟

اس نے صرف اتنا کہا کہ ’وہ کروں گی جو تم سوچ نہیں سکتے ہو کیونکہ مجھ سے زیادہ آپ کا دکھ درد کوئی نہیں سمجھتا۔‘
میں جب یہاں سے نکلنے لگا تو کئی ادھورے خواب خود بخود پورا ہونے لگے اور منزل تک پہنچتے ہی حسینہ میری بانہوں میں آ کر لپٹ گئی اور اب اس کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو غم کے نہیں بلکہ خوشی کے آنسو تھے۔

Facebook Comments HS