اردو کے برطانوی اسکالر ڈیوڈمیتھوز کی موت ، ایک درخشندہ باب کا اختتام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن جسے برصغیر پاک و ہند سے باہر اردو کا دوسرا بڑا مرکز کہا جاتا ہے ، اس کی رونق میں پروفیسر رالف رسل کے بعد بلاشبہ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کا نام آتا ہے۔ اردو زبان کے حوالے سے ان کے کام کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان کی غیر موجودگی سے اس شہر میں اردو کی ایک بڑی شان دار روایت کا چراغ گل ہو گیا ہے۔

ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

عموماً موسم کے بارے میں ایک آدھ جملے یا سیاست کے بارے میں ایک آدھ فقرے کا تبادلہ ضرور ہو جاتا ہے۔ ان دونوں طالب علموں نے بھی ایک دوسرے کو دیکھا لیکن موسم یا سیاست کے موضوع پر بات کرنے کے بجائے انگریز طالب علم نے پہل کرتے ہوئے دوسرے طالب علم سے پوچھا کہ جناب کیا آپ کو عربی زبان آتی ہے؟ ”جی ہاں تھوڑی بہت آتی تو ہے“ یہ تھا اس طالب علم کا مختصر سا جواب جو ان دنوں حصول تعلیم کی غرض سے، ڈاؤننگ کالج کے عربی کے شعبہ سے وابستہ تھا۔ سوال کرنے والے اس انگریز طالب علم ڈیوڈ میتھوز کو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شخص کسی عرب ملک کا نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا رہنے والا تھا اور جو عربی اور فارسی اسے آتی تھی ، اس کا تعلق جدید عربی اور فارسی سے نہیں بلکہ پاک و ہند کے مدارس میں پڑھائی جانے والی قدیم عربی اور فارسی سے تھا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے واقعات انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں ، اسی طرح اس چھوٹی سی ملاقات نے بھی ڈیوڈ کی بقیہ زندگی کا رخ بدل دیا اور انہیں ایک نئے راستے پر گام زن کر دیا۔ ڈیوڈ کی زندگی میں اس اولین مکالمے کی بڑی اہمیت ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے ڈیوڈ کے لیے مختلف زبانوں کے ہرے بھرے گلستاں میں ایک ایسی کھڑکی کھلنے جا رہی تھی، جہاں سے اردو زبان و ادب کی تازہ اور معطر فضاء کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔

اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ اس سے قبل اردو ہی کیا بلکہ ڈیوڈ کا جنوبی ایشیا کی کسی بھی زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے اسکول کے زمانے میں فرانسیسی، یونانی اور لاطینی زبانوں کو بنیادی مضمون کے طور پر پڑھا تھا۔ لندن یونیورسٹی سے انہوں نے قدیم اور جدید زبانوں کے تقابلی مطالعے میں امتیازی نمبروں سے آنرز کی ڈگری لی اور پھر کیمبرج یونیورسٹی میں کلاسیکل یونانی اور قدیم مشرقی زبانوں کے باہمی تعلق کے بارے میں مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس علمی سفر میں انہیں بہت سے قدیم مخطوطات کا مطالعہ بھی کرنا تھا اور اس کے لیے سامی زبانوں میں سے کسی ایک زبان سے واقفیت بہت ضروری تھی۔ چنانچہ اس حوالے سے وہ عربی زبان کے مطالعے کی طرف آئے اور اسی ضرورت نے انہیں اس پاکستانی طالب علم کے قریب کر دیا جس کی عربی اور فارسی سے وہ کم از کم اس وقت تک بے حد مرعوب اور متاثر تھے۔

ان ہی دنوں اسکول آف اورنٹیل اینڈ افریقن اسٹڈیز کے لسانیات اور صوتیات کے شعبے میں لیکچرر کی ایک اسامی خالی ہوئی جس کے لیے جنوبی ایشیا کی کسی ایک زبان سے واقفیت اضافی قابلیت کے ذیل میں آتی تھی۔ ہرچند کہ ڈیوڈ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے واقف نہیں تھے لیکن اخبار میں یہ اشتہار دیکھ کر انہیں ایک لمحے کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ بھی اس ملازمت کے لیے قسمت آزمائی کریں۔ علم لسانیات اور صوتیات کے حوالے سے تو وہ اس عہدے کے پوری طرح حق دار تھے ہی مگر اضافی قابلیت والا مسئلہ کیسے حل کیا جائے؟

یہ ایک بہت بڑا سوال تھا۔ یہاں پر انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔

ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔ بس یہی سمجھیے کہ

خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

مجھے یاد آتا ہے کہ ایک بار لکھنؤ میں مجاز سیمینار اور مشاعرے کا انعقاد ہوا تھا۔ باہر سے آنے والے تمام لوگ جن میں برطانیہ سے پروفیسر ڈیوڈ میتھیوز، افتخار عارف صاحب اور کینیڈا سے میں بھی شامل تھا۔ ہم سب لوگوں کو دہلی سے لکھنؤ بذریعہ ریل سفر کرنا تھا۔ دہلی سے ہمارے ساتھ سفر کرنے والوں میں پروفیسر گوپی چند نارنگ اور پروفیسر شارب ردولوی بھی تھے۔ یہ سفر رات بھر کا تھا اور اس سارے راستے جہاں اور بہت سی باتیں ہوئیں وہیں افتخار عارف صاحب کی فرمائش پر خاص طور سے ڈیوڈ سے عمر خیام کی یہ رباعی بھی سنی گئی۔

درس و تدریس کی پیغمبری ملنے کا یہ واقعہ 1965ء کا ہے لیکن اس کے صرف ایک سال کے بعد ڈیوڈ کا تبادلہ لندن یونیورسٹی کے پاکستان، ہندوستان اور سیلون کے شعبے میں ہو گیا۔ اور یہاں سے ڈیوڈ کے اس سفر عشق کا باقاعدہ آغاز ہوا جسے دنیا اردو زبان کے نام سے جانتی ہے۔ انہوں نے نہایت سنجیدگی اور مسلسل محنت سے اردو زبان و ادب اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور اس زبان کے دامن کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی اردو کے حوالے سے کوئی عالمی اجتماع ہوتا تھا ، وہاں پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کے افکار و خیالات جاننے کے لیے انہیں ضرور مدعو کیا جاتا تھا۔

کہتے ہیں کسی زبان کا مطالعہ صرف کتابوں کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس زبان کے بولنے والوں کے درمیان گھل مل کر جو زبان و بیان کی باریکیاں سمجھ میں آ سکتی ہیں وہ خالی مطالعے سے نہیں آ سکتیں۔ ڈیوڈ نے بھی لندن کی تعلیمی فضاء کو ایک سال کے لیے خیر باد کہا اور 1968ء اور 1969ء کے دوران پاکستان اور ہندوستان کے سفر پر چل پڑے۔ کراچی، لاہور، دہلی، لکھنؤ اور بمبئی کے گلی کوچوں سے آشنائی حاصل کی۔ دوسری بار 1973ء میں جب وہ کراچی آئے تو میں ان دنوں کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اور وہیں پروفیسر جمیل اختر خان صاحب کی معرفت میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔

بہت عرصے کے بعد جب میں نے لندن میں ان سے اس ملاقات کا ذکر کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ جی ہاں پروفیسر جمیل اختر خان صاحب سے میرے بہت ہی قریبی تعلقات تھے۔ ڈیوڈ نے بتایا کہ جب وہ کراچی یونیورسٹی پہنچے تو صدر شعبٔہ اردو نے اپنے شعبہ کے ایک نوجوان استاد سے ان کا تعارف کروایا اور کہا کہ جب تک تم کراچی یونیورسٹی میں ہو یہ تمہاری مکمل رہنمائی کریں گے۔ ڈیوڈ دوسری صبح، خوش خوش، ان سے ملنے کے لیے شعبٔہ اردو میں پہنچ گئے تاکہ وہ پروفیسر صاحب سے ملاقات کر کے اپنا آئندہ لائحہ عمل طے کر لیں۔

وہاں کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد جب ان کے استاد آئے تو کہنے لگے کہ آج وہ کسی کو نہیں پڑھائیں گے۔ دوسرے دن تو وہ شعبے میں بالکل ہی نہیں آئے۔ تیسرے دن ڈیوڈ نے نہایت سعادت مندی سے کہا کہ جناب میں آپ کا بہت دیر سے انتظار کر رہا ہوں۔ جمیل صاحب نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا کہ وہ تو خیر ٹھیک ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ میں آج بھی آپ کو نہیں پڑھا سکوں گا کیوں کہ مجھے کہیں اور جانا ہے۔ بے چارے ڈیوڈ جو انگلستان کے نظم و ضبط کے ماحول میں پلے بڑھے تھے اس مشرقی طرز ادا پر خاصے حیران ہوئے اور ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

ان کی حیرانی کو دیکھتے ہوئے پروفیسر موصوف نے کہا کہ آخر آپ اتنے پریشان کیوں ہو گئے ہیں؟ انہوں نے نہایت معصومیت سے جواب دیا ”میں چاہتا ہوں کہ مجھے اردو زبان اچھی طرح سے آ جائے اور اس سلسلے میں مجھے آپ کی مدد چاہیے“ ۔ انہوں نے ڈیوڈ سے مسکراتے ہوئے کہا کہ میاں اگر زبان ہی سیکھنی ہے تو چلو تم بھی میرے ساتھ جبیز ہوٹل چلو، وہاں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جائے گی اور وہیں گپ شپ کے دوران تمہیں زبان بھی اچھی طرح سے آ جائے گی۔

نوجوان ڈیوڈ کو اس بات پر حیرانی تو بہت ہوئی لیکن ان کے لیے اس دوستانہ آفر میں دل کشی کا بہت سا سامان بھی پوشیدہ تھا سو انہوں نے دل ہی دل میں اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ چائے خانوں میں وقت بھی گزارا جائے، لوگوں سے گپ شپ بھی کی جائے اور یونیورسٹی کے ریکارڈ میں حاضری بھی لگتی رہے، یعنی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی والا معاملہ تھا۔ ویسے کچھ ہی دنوں بعد ڈیوڈ اور جمیل صاحب کے آپس میں دوستانہ مراسم ہو گئے اور پھر ڈیوڈ نے ان کے گھر ہی بسیرا کر لیا اور زبان کے رموز سے گھریلو ماحول میں آشنائی حاصل کی۔

آج میں یہ سوچتا ہوں کہ وہ بیسویں صدی کا زمانہ تھا ، اگر ڈیوڈ میتھوز جان عالم کے لکھنؤ میں پیدا ہوئے ہوتے تو یہ کام کسی امراؤ جان ادا کے کوٹھے پر اور زیادہ بہتر طور پر انجام دیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب میں انہیں صاف شستہ اور بامحاورہ اردو بولتے ، لکھتے اور پڑھتے ہوئے دیکھتا تھا تو مجھے یقین ہونے لگتا تھا کہ کسی زبان کا اصل علم صرف یونیورسٹی اور کالج کے بند کمروں ہی میں نہیں بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے در در کی خاک بھی چھاننی پڑتی ہے اور پھر بقول ڈیوڈ انہوں نے تو اردو زبان سے محبت کی خاطر در در کی خاک ہی نہیں چھانی ہے بلکہ گھاٹ گھاٹ کا پانی بھی تو پیا ہے۔

در در کی خاک چھاننے کے حوالے سے مجھے ڈیوڈ کے سنائے ہوئے دو دلچسپ واقعات بھی یاد آ رہے ہیں۔ ایک بار وہ لندن میں اپنے ایک انگریز دوست کے ساتھ سینما ہال کے باہر کھڑے ہوئے تھے اور پان کی گلوری ان کے منہ میں تھی۔ قریب کھڑے ہوئے دو ایشیائی لڑکوں نے کہا ”ابے یار! یہ گورا تو سالا پان بھی کھا رہا ہے“ کوئی اور ہوتا تو شاید طیش میں آ جاتا مگر ڈیوڈ نے بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا کہ ”ابے یہ گورا صرف پان ہی نہیں کھاتا بلکہ زبان بھی تمہاری ہی طرح بولتا ہے“ ۔

یہ سن کر ان لڑکوں پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ صاف اور شستہ اردو بولنے کا ایک اور دلچسپ واقعہ لاہور میں بادشاہی مسجد کے سامنے پیش آیا۔ ڈیوڈ ایک اردو کانفرنس میں لاہور گئے ہوئے تھے جہاں جاپان سے آئے ہوئے ایک اور مہمان کے ساتھ شہر کی سیر میں مصروف تھے۔ ڈیوڈ کو جاپانی بالکل نہیں آتی تھی اور جاپانی پروفیسر کو انگریزی میں بہت زیادہ مہارت نہ تھی لہٰذا دونوں آپس میں اردو ہی میں بات کر رہے تھے۔ ایک سیدھے سادھے لہوریے نے بڑی معصومیت کے ساتھ پوچھا کہ آپ ایک انگریز ہیں اور دوسرا جاپانی ہے تو پھر آپ لوگ آپس میں اردو میں کیوں بات کر رہے ہیں۔ ڈیوڈ نے اصل بات بتائی تو اس نے بڑے فخر سے کہا ”اچھا اب میں سمجھا اردو واقعی ایک بین الاقوامی زبان ہے“ ۔

زبانوں کی بین الاقوامی برادری میں غیر اہل زبان کا ہمیشہ سے ایک خاص کردار رہا ہے اور اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ڈیوڈ نے بھی اس کردار کو بہت خوبی، محنت اور جاں فشانی سے نبھایا، جس کا اندازہ ان کے علمی مضامین اور کتابوں کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اردو کی کلاسیکی اور جدید تخلیقات کو بڑی گہری نگاہ سے دیکھا اور ان پر اپنی مکمل رائے قائم کی ہے۔ یہ کام بغیر محنت، لگن اور انہماک کے ہرگز ممکن نہیں۔

پروفیسر میتھوز علامہ اقبال، میر انیس اور مرزا سودا کو اپنے پسندیدہ شاعروں میں شمار کرتے تھے۔ اقبال اور سودا کا نام تو خیر سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن میر انیس کے حوالے سے اس میں حیرانی کا پہلو نکلتا ہے۔ مرثیوں کا ایک خاص تہذیبی اور تاریخی پس منظر ہے۔ اس سے مکمل واقفیت کے بغیر نہ تو اس کی ادبی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تحسین شناسی ممکن ہے۔

اپنے ایک مضمون ”اردو ادب میں میر انیس کا مقام“ میں پروفیسر میتھوز لکھتے ہیں کہ میں پہلی بار 1969ء میں لکھنؤ گیا۔ میرا وہاں پہنچنا اتفاقاً نہیں بلکہ عمداً محرم الحرام کے پہلے دس دنوں میں ہوا۔ میں ہر صبح بلاناغہ لکھنؤ کی چلچلاتی دھوپ میں اپنے میزبان کے ہمراہ پا پیادہ اس جگہ جاتا تھا، جہاں مرثیہ خوانی کی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔

یہ جو ڈیوڈ نے عمداً اور پا پیادہ مجلس تک جانے کا ذکر کیا ہے اس کے پیچھے ایک خاص نفسیات، ایک خاص مقصد اور ایک خاص جہان معنی پوشیدہ ہے۔ یقیناً کسی زبان کے ادب کو اس کے تہذیبی پس منظر سے علاحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر انہوں نے صنف مرثیہ کو سمجھنے کی خاطر لکھنؤ کی مرثیہ خوانی کی مجلسوں میں شرکت نہ کی ہوتی اور اس ماحول کو خود اپنی آنکھوں بلکہ دل کی آنکھوں سے محسوس نہ کیا ہوتا تو وہ انیس کے مرثیے ”جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے“ کا انگریزی زبان میں اتنا خوب صورت ترجمہ نہ کر سکتے تھے۔

اس مرثیے کا ترجمہ کتابی شکل میں THE BATTLE OF KARBALAکے نام سے 1994ء میں دہلی سے ، 2001ء میں اسلام آباد سے، 2002ء میں ٹورنٹو سے اور پھر 2003ء میں یہی مرثیہ کراچی سے شائع ہو چکا ہے، جس سے اس ترجمے کی مقبولیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مطالعہ انیس کے ضمن میں انہوں نے اردو مرثیے کے بارے میں چند بنیادی سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں اردو ادب پر لکھے جانے والے چند ایک تذکروں میں صنف مرثیہ اور اردو کے جلیل القدر مرثیہ گو شاعر میر انیس کو نہ صرف ایک معمولی سا مقام دیا گیا ہے بلکہ ان کے ساتھ کھلے طور پر معاندانہ برتاؤ کا بھی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح انہوں نے اپنے دوسرے پسندیدہ شاعروں اور نثر نگاروں کے بھی خوب صورت تراجم کیے ہیں اور ان کے مطالعے کے بعد اپنی نپی تلی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ اقبال کے فکر و فن پر انہوں نے کئی کتابیں اور مقالے تصنیف کیے ہیں جن میں اقبال کی شاعرانہ عظمت کا کھلے دل سے اعتراف کیاہے مگر انہوں نے قیام پاکستان کے پس منظر میں اقبال کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے بڑی حیرت سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اقبال کے یہاں ہندوستان کے بنگالی مسلمانوں کا کوئی خاص ذکر نہیں ملتا ہے۔ یعنی با الفاظ دیگر شاعر مشرق نے خود اپنے مشرق کی طرف تو دیکھا ہی نہیں۔

جس طرح انہوں نے میر انیس کے مرثیے کا منظوم ترجمہ کیا ہے اسی طرح اقبال کی شہرہ آفاق نظم ”اسرار خودی“ کابھی منظوم ترجمہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعری کا منظوم ترجمہ ہی زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے۔ انہوں نے سودا کا بھی ترجمہ کیا ہے اور ان کے خیال میں سودا کی ہجویات میں غیر اہل زبان خصوصاً انگریزوں کو خاصی دلچسپی ہو سکتی ہے کیوں کہ اس میں طنز کی جو تیز لہریں ہیں ، وہ انگریزی مزاج سے کافی قریب ہیں۔

پروفیسرڈیوڈ میتھوزنے سولہویں اور سترہویں صدی کے درمیانی عرصے میں گول کنڈہ اور بیجاپور کے درباروں اور بازاروں میں تشکیل پانے والی قدیم دکنی زبان کا تحقیقی مطالعہ کیا جس پر 1975ء میں لندن یونیورسٹی سے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی۔

وہ صحیح معنوں میں ایک محقق اور دانشور تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا علمی دائرہ صرف اردو زبان تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ دنیا کی کئی قابل احترام زبانوں میں بھی ان کی مشغولیت بالکل اسی نوعیت کی تھی۔ وہ فرانسیسی، اطالوی، روسی، ہندی، نیپالی، اور اردو کے علاوہ قدیم یونانی، لاطینی، سنسکرت، عبرانی، ہسپانوی، عربی، ترکی، سویڈش اور دوسری بہت سی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔

ان کی موت سے برطانیہ میں اردو زبان کے ایک درخشندہ دور کا اختتام ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply