اپنی بیٹی کی شادی کے جوڑے خود تیار کرنے والے بلوچستان کے حفیظ اللہ: ’بیٹی میرے ہاتھ کے بنے کپڑے پہنے گی تو یاد بھی کرے گی اور فخر بھی‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حفیظ اللہ، کوئٹہ، کشیدہ کاری، بلوچستان

BBC

ہاتھوں سے کشیدہ کاری بلوچستان کے قبائلی سماج میں عمومی طور پر خواتین کے لیے مخصوص ہے اور مرد اپنے ہاتھوں سے خواتین کے لیے سلائی کڑھائی کرنے سے نہ صرف جھجھکتے ہیں بلکہ اسے معیوب بھی سمجھتے ہیں۔

مگر کوئٹہ کے رہائشی حفیظ اللہ اپنے ہاتھوں سے سلائی اور کڑھائی کر کے بیٹی کی شادی کے جوڑے تیار کر رہے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے اُن کی صرف ایک مجبوری ہے۔

اور وہ یہ کہ وہ اپنی بیٹیوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چوّٹ: بلوچی چپل کو عید کا انتظار رہتا ہے

’دونوں بازو، ٹانگ کٹ گئی تو میں نے سوچا کیا وہ مجھے چھوڑ دے گی؟‘

سال بدلا، دن بھی کچھ بدلے، لیکن مٹھو کی مٹھی کے لیے محبت نہیں بدلی

حفیظ اللہ چاہتے تو پیسے دے کر اپنی بیٹی کے لیے جوڑے باہر سے تیار کروا سکتے تھے مگر انھوں نے اپنی بیٹی کی خاطر یہ کام خود کرنے کی ٹھانی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وہ فخریہ انداز میں کہتے ہیں: ‘جب میری بیٹی سسرال میں میرے ہاتھ کے بنے ہوئے کپڑے پہنے گی تو نہ صرف وہ والد کو یاد رکھے گی بلکہ لوگوں کو فخر سے بتائے گی کہ یہ کپڑے میرے والد نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں۔’

حفیظ اللہ کون ہیں؟

حفیظ اللہ طویل عرصے سے کوئٹہ کے علاقے سریاب میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

وہ ملازمت بھی کرتے ہیں، مستونگ میں زرعی اراضی بھی رکھتے ہیں اور اُن کی اپنی دکان بھی ہے جہاں وہ کشیدہ کاری کے لیے پرنٹ بھی کرتے ہیں۔

حفیظ اللہ، کوئٹہ، کشیدہ کاری، بلوچستان

BBC

وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے علاقے میں والدین کی جانب سے لڑکی کے لیے شادی کے موقع پر 15 سے 20 جوڑے دیے جاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے معاشرے میں بہت کم مرد ہوں گے جو ہاتھ سے کشیدہ کاری کا کام کرتے ہیں۔ وہ اگر مشینوں پر کرتے ہیں تو وہ وہ زیادہ تر اپنے کاروبار کے حوالے سے کرتے ہیں۔ چونکہ مجھے میری بیٹی سے محبت زیادہ ہے اور ممجھے یہ ہنر بھی آتا ہے اس لیے میرا دل چاہتا ہے کہ ان کی شادی کے جتنے بھی جوڑے ہیں وہ اپنے ہاتھ سے بناﺅں۔’

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے ابھی تک 12 سے 13 جوڑے بنائے ہیں جن میں خوبصورت کشیدہ کاری کے جوڑے بھی شامل ہیں۔ جو جوڑے اب تک بنے ہیں ان میں ان کے پسند کے علاوہ لڑکی کی پسند کے جوڑے بھی شامل ہیں۔

خواتین کی طرح کشیدہ کاری پر طعنے بھی سننے پڑے

حفیظ اللہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب ان کی بہنیں کشیدہ کاری کرتی تھیں تو ان کو دیکھ کر اُنھوں نے بھی کشیدہ کاری شروع کی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے اس میں مہارت حاصل کی۔

حفیظ اللہ، کوئٹہ، کشیدہ کاری، بلوچستان

BBC
حفیظ اللہ، کوئٹہ، کشیدہ کاری، بلوچستان

BBC

اب اس کام پر ان کی مہارت ایسی ہے کہ کشیدہ کاری کرتے ہوئے اُن کے ہاتھ خواتین سے بھی زیادہ تیز چلتے ہیں بلکہ اگروہ چاہیں تو کام کے معیار کے حوالے سے خواتین کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی مجبوری کے تحت خواتین کے کپڑوں پر کشیدہ کاری نہیں کر رہے بلکہ یہ ان کا شوق ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ خواتین جیسی روایتی کشیدہ کاری کرنے پر ان کو بچپن سے لے کر اب تک کافی باتیں سننی پڑی ہیں۔ ‘لوگ یہ کہتے رہے کہ یہ خواتین والا کام ہے لیکن اس کے باوجود میں یہ کام کر رہا ہوں۔ یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ایک ہنر ہے۔’

اگرچہ ان کے معاش کا انحصار اس کشیدہ کاری پر نہیں لیکن اس ہنر کے باعث ان کی آمدنی بھی ہوتی ہے۔

اُن کے مطابق بلوچی کشیدہ کاری سے مزین جوڑوں میں سے ہلکے سے ہلکا پانچ سے چھ ہزار روپے کا ہے جبکہ ان کی قیمتیں 60 ہزار روپے تک بھی ہیں۔

حفیظ اللہ نے بتایا کہ جب کسی کی بیٹی کی شادی ہوتی ہے اور اپنے گھر کو چھوڑ کر جاتی ہے تو اس پر اُنھیں رونا آتا ہے۔

‘اب میری باری ہے۔ جب بڑی بیٹی کو رخصت کرنے کا سوچتا ہوں تو مجھے رونا آتا ہے۔ لیکن یہ اللہ کی طرف سے فیصلہ ہے تو اس کو برداشت کرنا پڑے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اُن کی بیٹی جدا ہو کر جائے گی لیکن اُن کے ہاتھ کے بنے کپڑے اسے اپنے والد کی یاد دلاتے رہیں گے۔

حفیظ اللہ، کوئٹہ، کشیدہ کاری، بلوچستان

BBC

‘یہ کپڑے جہاں میری طرف سے ان کے لیے گفٹ ہوں گے، وہیں جب ان میں سے وہ کوئی سوٹ پہنے گی تو وہ اپنے والد کو یاد کرے گی۔’

ان کا کہنا تھا کہ وہ دکان پر بھی کام کرتے ہیں، رات کو تھک ہارنے کے بعد گھر میں بیٹی کی شادی کے جوڑے سینے بیٹھ جاتے ہیں تو اُن کی بیٹی آکر ان کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور اپنے کام اور کپڑوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔

‘جب بیٹی کپڑوں کو دیکھ کر مسکراتی ہے تو اس کی ایک مسکراہٹ سے میرے دن بھر کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔’

حفیظ اللہ کہتے ہیں کہ ماں باپ کو محبت بانٹتے ہوئے لڑکیوں کے حوالے سے تنگ نظری اور امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہیے بلکہ لڑکیوں کو محبت میں زیادہ اہمیت اور ترجیح دینی چاہیے کیونکہ لڑکیاں گھروں میں ایک لحاظ سے مہمان ہوتی ہیں اور شادی کے بعد وہ چلی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ محبت میں اپنے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ لڑکے اللہ کی طرف سے نعمت اور لڑکیاں اللہ کی طرف سے رحمت ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18520 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp