ذوالفقار احمد تابش کا مجموعۂ کلام: در نیم وا

پھانس سینے میں گڑی رہتی ہے
رات کمرے میں کھڑی رہتی ہے
مرے پہلو میں مری پرچھائیں
یونہی چپ چاپ پڑی رہتی ہے
پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو ”اردو شاعری کی آبرو“ کہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اردو غزل واقعی آبروئے شعر اردو ہے۔ صدیوں کے عبور و مرور کے باوجود یہ صنف آج بھی موجب دلکشی ہے.
ذوالفقار احمد تابش ملک کے بہت ہی معروف شاعر، ادیب اور مصور ہیں۔ ’در نیم وا‘ محترم ذوالفقار احمد تابش کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ہے جو انہوں نے کمال محبت سے مجھے تحفہ کیا۔ اس کتاب میں دو قصائد، ایک منقبت، لاہور کے نام، کشمیر اور فلسطین کے نام اور جناب محمد سلیم الرحمٰن کے نام منظومات کے علاوہ 82 غزلیں اور 22 نظمیں شامل ہیں۔ میری نطر میں تو یہ ”دیوان تابش“ کہلانا چاہیے۔ محترم سلیم الرحمٰن نے تابش کی شاعری کے حوالے سے اپنی قیمتی رائے بھی تحریر کی ہے جو اس شاعری کو سمجھنے کی کلید بھی ہے۔ میں نہ تو شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن اس شاعری نے مجھے اس پر کچھ لکھنے پر انگیخت کیا ہے۔
مجھے اتنا علم ہے کہ مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے جدید اردو غزل کی بنیاد ڈالی۔ اس روایت کو بعد کے زمانے میں علامہ اقبال اور جوش ملیح آبادی نے آگے بڑھایا اور نئی روش پیدا کی۔ اسی طرح علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک نے ادب ، سماج اور سیاست کی تاریخ میں جو فعال کردار ادا کیا ، اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ گزشتہ چھے دہائیوں کے دوران اردو غزل میں جو تبدیلیاں اور اضافے ہوئے ، اس میں ترقی پسند شعرائے اردو اور جدید غزل نگاروں کا بڑا حصہ ہے۔
ذوالفقار تابش کی غزل میری نظر میں روایتی اور جدید غزل کا امتزاج ہے۔ ان کی غزلوں میں سوز و گداز کی دنیا بھی آباد ہے، محبوب کے حسن و جمال کی محفل بھی سجی نظر آتی ہے۔ یہ غزلیں ان کی آپ بیتی بھی ہیں اور جگ بیتی بھی۔ ان کا دائرہ چوں کہ زندگی اور زمانے پر محیط ہے ، اس لیے ان میں ایک جہان معنی بھی آباد ہے۔ غزل کی جمالیات کے نئے تجربے بھی ہیں اور عصری زندگی کے مسائل اور تقاضوں کا ذکر بھی ہے۔ مصرعوں کا در و بست اور ان کی نشست و برخاست اس شعری مجموعے کی اہم خاصیت ہے۔
اگرچہ ان میں جذبات اور احساسات کا اظہار بے تکلفی سے کیا گیا ہے لیکن کہیں بھی غیر رومانوی، ناہموار زبان یا غیر شاعرانہ کھردرا انداز بیان، اکھڑا اکھڑا لب و لہجہ یا سخت مجرد الفاظ موجود نہیں ہیں۔ تابش صاحب نے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کسی ثقہ شعری اسلوب اور پرتکلف انداز میں نہیں کیا بلکہ اس میں ان کی عمیق فکر، زندگی سے گہرا تعلق اور ماحول کا مکمل مطالعہ ملتا ہے۔ ساخت اور باخت سے نئے پن اور ندرت کا احساس ہوتا ہے۔
نظم الفاظ سے بنتی ہے جبکہ غزل اشعار سے۔ اگر غزل میں ایک شعر اچھا نہیں ہو سکا تو خیر، اس سے اگلا شعر اچھا نکل آئے گا لیکن جب نظم کے الفاظ کی بات آتی ہے تو ایک لفظ کی وجہ سے پوری نظم اپنا تأثر کھو بیٹھتی ہے۔ نظم ایک لفظ اضافی برداشت کر سکتی ہے نہ کم۔ اور یہی کچھ باتیں ہیں جو نظم کو غزل کی نسبت مشکل ثابت کرتی ہیں۔ تابش صاحب کی نظموں میں مرکزی خیال سے زیادہ جزئیات اور اظہار کی اہمیت نظر آتی ہے۔ مضبوط بیانیے اور الفاظ پر مکمل گرفت والی یہ نظمیں، مرکزی خیال کی کٹیا سے باہر نکل کر کیسی تانک جھانک کرتی ہیں اور قاری اس تانک جھانک سے مختلف جہانوں کی سیر کرتا ہے۔
یہ نظمیں حسی واردات کی نظمیں ہیں جو اپنے اندر کئی احساسات کو ایک پلیٹ فارم کی صورت میں سامنے لاتی ہیں۔ اپنے موضوعات کے اعتبار سے یہ نظمیں افسانے کے قریب قریب ہیں۔ ( یاد رہے کہ جناب تابش نے ”جوار بھاٹا“ کے نام سے ایک سفری داستان بھی تحریر کی تھی جس کی نثر عمدہ پائے کے افسانوں جیسی ہے )
مشتے از خروارے
کچھ نہیں تھا اور ساتوں آسماں خالی پڑے تھے :: غور سے دیکھا جو میں کون و مکاں خالی پڑے تھے
خستگی تھی اور گلی کوچوں میں کوئی بھی نہیں تھا:: بام و در افسوس میں تھے اور مکاں خالی پڑے تھے
عجب الٹا اثر کرنے لگی ہے :: محبت در بدر کرنے لگی ہے
بسر میں کر سکا نہ زندگی کو :: یہ اب مجھ کو بسر کرنے لگی ہے
آہ کی بھی کوئی تاثیر تو ہوتی ہو گی::ورنہ مر جانے کی تدبیر تو ہوتی ہو گی
ہم ہی کیوں دہر میں بے نام و نشاں رہتے ہیں ::آدمی کی کوئی تقدیر تو ہوتی ہو گی
آ ہی جاؤ کبھی مہتاب کی چادر اوڑھے :: ایسے خوابوں کی بھی تعبیر تو ہوتی ہو گی
نظم
ایک چھوٹی سی کہانی
اتنی لمبی داستاں کیوں ہو گئی تھی
اتنی چھوٹی سی زمیں تھی
پھر یہ رشک آسماں کیوں ہو گئی تھی
وسعت دل میں کوئی آہٹ سی تھی
وہ بے نشاں کیوں ہو گئی تھی
نیلگوں میں اک ستارہ جگمگاتا تھا
مگر بے نور کیسے ہو گیا تھا
پاس ہی تو تیرا گھر تھا
وہ اچانک دور کیسے ہو گیا تھا
تابش صاحب کی ساری زندگی میرے سامنے ہے، بس اتنا ہی کہوں گا، کامرانی کے لئے شرط ہے چلتے رہنا۔ شاعری کا یہ مجموعہ اپنے خوبصورت مصورانہ سرورق کے اعتبار سے بھی قابل کشش و ستائش ہے۔


