سفید ساڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


لکشمی ایک خوب صورت عورت تھی۔ وہ دن اس کے لئے قوس قزح کی مانند تھے جب نندن اس کی زندگی میں آیا تھا اس کی زندگی خوشیوں کے رنگ میں رنگنے لگی تھی۔ نندن لکشمی سے بہت پیار کرتا تھا اور لکشمی بھی اس کے پیار کا سندور لگائے بہت خوش تھی۔ کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے آنگن میں پیارا سا پھول کھلا جس کا نام انھوں نے مدھو رکھا۔ نندن کو اپنی قسمت پررشک تھا۔ اسے لکشمی جیسی عورت ملی۔ وہ کپڑے کے کارخانے میں کام کرتا تھا۔

آج بدھ وار تھا اسے کام پے جانا تھا اس نے لکشمی کو بلایا میری گھڑی لا دو۔ اس نے بڑے پیار سے گھڑی اس کی کلائی میں بندھی۔ نندن نے اسے گود میں اٹھایا پیار کیا اور کام پے چل دیا لیکن اسے کیا معلوم تھ۔ بدھ وار اس کے لئے شبد دن نہیں تھا بلکہ اندھیری رات تھی۔ اسی رات کارخانے میں آگ لگ گئی اور نندن اس آگ میں جل کے مر گیا۔ وہیں سے اس کی خوشیوں نے دم توڑ دیا۔ دل دھک سا رہ گیا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور ننھی مدھو کو اپنی گود میں لیا۔ اب اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا مدھو۔ اس کے دھرم میں دوسری شادی کا تصور نہ تھا۔ اس نے سفید ساڑی زیب تن کر لی۔ وہ ہر روز پوجا پاٹ کے لیے مندر جاتی۔

دوسری طرف چیتن کی ابھی کچھ ہی عرصے پہلے انبالہ چھاؤنی دہلی میں تبادلہ ہوا تھا۔ دو تین مہینوں میں دفتر میں اس کی اچھی جان پہچان ہو گئی تھی۔ اس رکھ رکھاوں سے اس کے دل کو بڑا سہارا تھا۔ بڑے دن بعد اسے دور کی چچی کی یاد آئی۔ اس نے اپنے گھر سے اس کا پتا لیا اور پہنچ گیا دروازہ کٹکھٹایا۔ اندر سے خوبصورت نسوانی آواز سنائی دی کون؟ جی میں آپ کے دور کا رشتے دار رام پور سے آیا ہو۔ لکشمی چونکی دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلنے کی دیر تھی۔

چیتن اسے دیکھ کے ہکا بکا رہ گیا۔ بھگوان نے اسے فرصت کے لمحوں میں بنایا تھا۔ اس کی گول گول خوب صورت آنکھیں اس کے بدن کی تراش بھرابھرا جسم تن پے سفید ساڑی بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ لکشمی نے چیتن کو اندربٹھایا اور وقت گزرتا گیا۔ چیتن دل ہی دل میں اس پے لٹو ہو رہا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کا دل نوکری سے ہٹنے لگا۔ وہ بیقرار سا رہنے لگا تھا۔ عجیب سی آوارگی اس کے ذہن میں جنم لینے لگی تھی اس سے کوئی کام نہ ہو پاتا وہ غیر ارادی طور پے لکشمی کے جسم میں کشش محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے خیالات کے ٹانکے تانکنے لگتا۔ چیتن آج کام پے نہیں گیا آج دال میں کالا تھا لکشمی کہنے لگی آج کام پے نہیں گئے میں نے صبح تمہیں بہت آوازیں دیں۔

چیتن اپنے خیالوں میں مگن آسمان پے گھور رہا تھا۔ لکشمی رسوئی میں کھانا بنانے میں مصروف تھی۔ مصالحہ پیستے وقت جب لوہے سے لوہا ٹکراتا تو عجیب سی آواز سنائی دیتی آج چیتن کا دل بے ایمان تھا۔ وہ کسی بھی طرح اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا۔ وہ رسوئی پانی پینے کے بہانے دروازے پے کھڑا ہو گیا لکشمی کو آہٹ سنائی دی ایک دم مڑی۔ چیتن گھبرا سا گیا اپنے پاؤں پیچھے اٹھا لئے وہ واپس کمرے کی طرف لوٹ گیا اور چار پائی پے لیٹ گیا۔

لکشمی کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی تو اس نے جھٹ سے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور اس کے بدن کی باس لے لی۔ وہ بہت چیخی چلائی مگر چیتن نے اس کی ایک نہ سنی اور اس کی سفید ساری کو خون کا دھبہ لگا دیا اب عمر بھر چاہے تو بھی اس دھبے کو وہ دھو نہیں سکتی تھی۔ چیتن لاہوربھاگ گیا اور وہاں کسی عورت سے دوستی کر کے اس سے دھندہ کروانے لگ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *