سائنس کی دنیا سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے امیونالوجسٹس کے خیال میں کورونا وائرس میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں یا میوٹیشنز کے باوجود ویکسین کا استعمال وائرس کے خلاف اجتماعی قوت مدافعت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

2۔ برطانیہ کا ایک شخص ایچ آئی وی سے مکمل چھٹکارا حاصل کرنے والا دنیا کا دوسرا فرد بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس کے جسم میں زندہ وائرس کی موجودگی کا کوئی ثبوت حاصل نہیں کیا جا سکا۔

3۔ ماہرین حیاتیات نے انسانی دفاعی نظام میں موجود ایک ایسا پروٹین دریافت کیا ہے جو کئی طرح کی حساسیت اور انسانی جسم کے خلاف ”آٹوامیون“ بیماریوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

4۔ سائنسدانوں نے پہلی دفعہ ایک ایسا محفوظ رکاز دریافت کیا ہے جس میں ایک ڈائنوسار ایسے انڈوں کے اوپر بیٹھا ہوا ہے جن سے بچے نکلنے کو بالکل تیار تھے۔

5۔ ایک حیرت انگیز تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ محفوظ حد تک برقی رو گزارنے سے انسانی شریانوں میں موجود سفید حفاظتی خلیے اور آکسیجن زخموں تک نسبتاً زیادہ تیزی سے پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے زخموں کے ٹھیک ہونے میں مدد ملتی ہے۔

6۔ سائنسدانوں نے دنیا کے اولین کمپیوٹر سمجھے جانے والے آلے میں استعمال ہونے والے قدیم ”اینٹی کائیتھیرا“ نامی میکانزم کو سمجھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

7۔ ایک تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ سر پر لگنے والی واحد چوٹ بھی مستقبل میں ڈیمنشیا نامی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک سے زیادہ دفعہ چوٹ لگنے کی صورت میں اس بیماری کا خطرہ بھی اتنا ہی زیادہ ہو جاتا ہے۔

8۔ ایک دلچسپ تحقیق کے مطابق پارٹنر سے جدائی یا بریک اپ کے نتیجے میں رونما ہونے والی خود شناسی سے متعلق الجھن اپنے سابقہ ساتھی کی طرف لوٹ جانے کی شدید خواہش کا سبب ہو سکتی ہے۔

9۔ آئن سٹائن کے نظریات کے مطابق مستقبل میں روشنی کی رفتار سے سفر کرنا ایک نئے تجویز کردہ وارپ ڈیزائن خلائی جہازوں کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔

10۔ موڈرنا نے اپنی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی بچوں میں آزمائش شروع کر دی ہے جس کے لئے تقریباً سات ہزار صحت مند رضاکار بچوں کا اندراج کیا گیا ہے۔

11۔ بھنگ میں موجود انسانی ذہن پر اثرانداز ہونے والا ایک کیمیکل ماں کے دودھ میں چھ ہفتوں تک فعال رہ سکتا ہے۔

12۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جس سے برقی سگنلز کی مدد سے پودوں کے ساتھ رابطہ استوار کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

13۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے منصوبے کا انکشاف کیا ہے جس میں سڑسٹھ لاکھ زمینی انواع کا ڈی این اے چاند پر محفوظ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ”قمری کشتی“ کا نام دیا گیا ہے۔

14۔ سائنس کے لیے اب تک بالکل انجان چار نئے جراثیم بین الاقوامی خلائی مرکز کے مختلف حصوں میں نشوونما پاتے دریافت ہوئے ہیں۔

15۔ دنیا کے 133 ملکوں میں تقریباً 47 کروڑ افراد کو کرونا وائرس کی ویکسین لگ چکی ہے۔ ویکسین لگنے کے آغاز سے اب تک یہ تقریباً ایک کروڑ افراد روزانہ کی تعداد بنتی ہے۔

16۔ انسانی آنکھوں کے رنگ سے متعلق 50 نئے جینز کی دریافت نے سائنسدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ انسانی آنکھ کی ساخت پہلے سے معلوم اور ثابت شدہ نظریات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

17۔ جنگلات کی کٹائی نے نابودگی کے خطرے سے دو چار ”ریجینٹ ہنی بیٹر“ نامی پرندوں کو گانا گانا بھلا دیا ہے جس سے ان کے اپنے ساتھی کی تلاش کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔

18۔ آئی بی ایم کمپنی نے مصنوعی ذہانت کا حامل ایک ایسا جدید نظام تیار کرنے کا دعوی کیا ہے جو انسانوں کے ساتھ تقریر اور بحث میں حصہ لے سکتا ہے۔

19۔ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کا چکر لگانے والے ”اومومورا“ نامی فلکی جسم کا معمہ حل کر لیا ہے جس کے مطابق یہ نظام شمسی سے باہر کسی پلوٹو کی طرح کے سیارے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *