یوں تو ساکھ داغدار نہیں ہوگی


ہمارے سماج میں عورت کی عزت حقیقی معنوں میں بالکل بھی نہیں کی جاتی۔ اس سماج میں بس اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کی عزت کی جاتی ہے۔ وہ بھی اس ڈر سے کیونکہ ان ہستیوں کے بدنام ہونے سے آپ کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے حقیقی معنوں میں عورت کی عزت تو کی ہی نہیں جاتی۔ ہماری معاشرتی ذہنی سوچ کی سطح کے مطابق، دوسری خواتین صرف ایک تحفہ ہیں۔ میں کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بات کر رہا ہوں۔ ہر انسان اور ان سب کی سوچ ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ لیکن عام طور پر ہمارے لوگ اس معاملے میں ایک جیسی ہی سوچ کے رکھتے ہیں۔

دنیا میں اخلاقیات کی بات کی جائے تو مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ پاکستان اس فہرست میں بہت نچلی سطح پر موجود ہے۔ یہاں کا مذہب اسلام تو وجود میں ہی اخلاقیات کی بنا پر آیا تھا پھر ایسی کیا وجہ کہ اب اس کے آثار لوگوں میں پائے ہی نہیں جاتے؟ یقیناً اس میں زیادہ تر بنیادی وجوہات ہیں اور وہ بھی بہت بنیادی۔ تب کی جب ایک بچہ گھر میں یا سکول میں یہ ساری چیزیں سیکھنے کے لیے آتا ہے۔ مگر اس کو تعلیم دلوانے کے نام پر سکول بھیجا جاتا ہے اور بڑے بستوں کے اندر دس کتابیں جس کا وہ وزن بھی نہیں اٹھا سکتا، دے کر روانہ کر دیا جاتا ہے اور اگلے کئی سال وہ تعلیم حاصل کرنے کے نام پر اسی سزا کا مرتکب رہتا ہے۔

اسی دوڑ میں نہ ہمیں اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے اور نہ ہمیں اصلی تعلیم دی جاتی ہے۔ بس ہمیں ایک معمول میں ڈال دیا جاتا ہے جس کو ہم ایک لمبا عرصہ اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسی دوڑ میں بھاگنا سکھایا جاتا ہے جہاں ہم اپنی انا کو ہتھیلی پر رکھ کر بس دوڑتے ہی جاتے ہیں اور رستے میں کوئی بھی آئے ہم کچلتے چلے جاتے ہیں۔ اس بیماری کے عناصر ہمارے معاشرے میں ہر ایک کہ اندر پائے جاتے ہیں مگر کوئی کوئی ہی اس پر قابو پا سکتا ہے۔

میرا ایک دوست، جس کا نام جواد ہے، کچھ دن پہلے میرے پاس آیا اور کافی پریشان تھا۔ وہ عمر میں تو مجھ سے تھوڑا بڑا ہے لیکن کسی دور میں ہم دونوں ایک ہی جماعت کے طالبعلم تھے۔ سکول سے نکلنے کے بعد میں کالج چلا گیا تو اس کے گھر والوں نے اس بیرون ملک بھیج دیا۔ میرا دو سالہ کالج کا دورانیہ ختم ہوا تو وہ بھی اچھی خاصی کمائی کر کے گھر آیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے گھر والوں نے اپنے رشتہ داروں ہی میں ایک لڑکی، جس کا نام زویا تھا، دیکھی اورجواد کا رشتہ طے کر دیا۔

جواد اور زویا پہلے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور یہ رشتہ بھی جواد کے کہنے پر ہوا تھا۔ زویا ابھی پڑھ رہی تھی اس لیے یہ طے پایا گیا کہ شادی دو سال بعد کی جائے گی تب تک جواد واپس چلا جاتا ہے اور زویا کی تعلیم بھی مکمل ہو جائے گی۔ چنانچہ جواد نے ایک دفع پھر جہاز پکڑا اور بیرون ملک چلا گیا۔ جواد کی ہونے والی بیوی ایک یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ جواد خوش تھا کہ اسے ایک پڑھی لکھی لڑکی کا ساتھ ملے گا اور وہ اپنی زندگی کو زیادہ بہتر طریقے سے گزار سکے گا۔ جواد کی زویا سے بات فون پر بات ہوتی رہتی تھی اور وہ دونوں خوش تھے۔

جواد کے ساتھ اس کی خالہ کا بیٹا بھی ہوتا تھاجس کا نام عمران تھا اور وہ دونوں وہاں مل کر کام کرتے تھے۔ جواد اور عمران کا آپس میں بہت پیار تھا اور بڑے اتفاق سے رہتے تھے۔ جواد اور عمران ایک دوسرے کو اپنی باتیں بتاتے تھے اور دوسرے پر بڑا بھروسا کرتے تھے۔ جواد کی عادت میں ایک یہ چیز تھی کہ وہ ہر بات بالکل سچ اور کھل کر بتا دیتا تھا۔ مگر عمران اپنی بات بتاتا تو ضرور مگر تھوڑا مصالہ لگا کر یعنی جھوٹ ملا کر۔

جواد نے عمران سے اپنی منگیتر کے متعلق بھی بتا رکھا تھا اور جب بھی منگیتر سے بات کرتا تو بعد میں وہ ہی باتیں عمران سے بھی شیئر کرتا تھا۔ کسی حد تک عمران جواد سے حسد بھی کرتا تھا لیکن کبھی بھی اس نے اپنی اس برائی کو ظاہر نہیں کیا۔ دوسری طرف زویا اور زویا کے گھر والے جواد پر بہت زیادہ بھروسا کرتے تھے اور دونوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے۔

زویا تو جیسے جواد کو اپنے والد سے بھی آگے رکھتی تھی کیونکہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اتنی اجازت اپنے والد سے نہیں لیتی تھی جتنی وہ جواد سے لیتی تھی۔ اور اسی جذباتی رشتے میں جواد نے بھی زویا کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ اتنی چھوٹ دے رکھی تھی کہ اکثر زویا اپنے دوستوں سے بات کرواتی جن میں لڑکے بھی ہوتے اور جواد ان سے بہت اچھے انداز میں بات کرتا۔ جب کبھی جواد عمران سے اس بارے میں بات کرتا تو عمران جواد سے کہتا کہ مجھے لڑکی کا کردار ٹھیک نہیں لگتا۔ وہ اپنی یونیورسٹی میں کلاس کے لڑکوں کے ساتھ گھومتی ہے یقیناً اس کے ناجائز تعلقات بھی ہوں گے۔ جواد جب یہ سنتا تو اکثر پریشان ہو جاتا لیکن کبھی اس نے اس بات کو دل پر نہ لیا اور نظرانداز کر دیتا۔ مگر عمران اس کو بار بار یہی کہتا۔ ایک دو دفعہ تو دونوں ایک دوسرے سے لڑ بھی پڑے مگر جلد ہی صلح کر لی۔

ایک دفعہ زویا نے ٹک ٹاک پر ایک وڈیو بنائی اور وہ وڈیو اس نے جواد کو بھی بھیجی۔ اس وڈیو میں زویا روایتی انداز میں آگے آگے چل رہی تھی اور دو لڑکے اس کا پیچھا کر رہے تھے جو اس کو پانے کے لیے پیچھے لڑنے کی اداکاری کرہے تھے۔ جواد نے اس وڈیو کو اپنے پاس موبائل میں محفوظ کر لیا۔ کچھ دن بعد جواد اور عمران اکٹھے بیٹھے تھے تو عمران نے جواد سے کسی کام سے موبائل مانگا۔ جواد نے بغیر کسی سوال کے اپنا موبائل عمران کے حوالے کر دیا۔

جواد کھانا بنانے لگ گیا اور عمران نے اپنا کام کرنے کے بعد موبائل کی گیلری دیکھنا شروع کردی وہی اس نے وہ ویڈیو بھی دیکھی جو زویا نے جواد کو بھیجی تھی۔ بغیر بتائے وہ وڈیو عمران نے اپنے موبائل میں ٹرانسفر کرلی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دنوں کے اندر عمران نے اپنے کافی رشتہ داروں کو بھیج دی۔ جواد کو یہ تو پتا لگ گیا کہ وڈیو عمران کے موبائل میں چلی گئی ہے مگر اس بات سے باخبر تھا کہ یہ وڈیو آگے کتنے ہی لوگوں کے پاس چلی گئی تھی۔

ایسے ہی کچھ دنوں کے بعد وہ وڈیو زویا کے گھر والوں کے پاس بھی پہنچ گئی۔ اور زویا کے گھر والوں کو بولا گیا کہ لڑکی تم لوگوں کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ زویا کے والدین کو یہ بھی بولا گیا کہ اس لڑکی کو یونیورسٹی سے نکلواؤ اور اس کی شادی کروا دو اس بے حیائی کی وجہ سے بہت بدنامی ہوگی۔ زویا کے گھر والوں اس پر کوئی ردعمل نہ دیا اور خاموشی اختیار کر لی۔ ان کو اس بات کا بھی پتا تھا کہ یہ سب سے پہلے جواد کے موبائل ہی سے نکلی ہے مگر انہوں نے کوئی بات بھی نہ کی۔

وڈیو میں ایسا کچھ خاص تھا بھی نہیں۔ یونیورسٹیز میں دوست ایسے کام کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر اگر زویا کے کردار کی بات کی جائے تو وہ اگر خراب ہوتا تو کیوں ساری باتیں جواد سے شیئر کرتی اور دوسری طرف جواد تنگ ذہن کا ہوتا تو کیوں وہ اس سب کے باوجود زویا سے بات کرتا رہتا اور ذرا بھی اپنے پیار میں کمی نہ لایا۔ کچھ دیر کے لیے تو زویا کے گھر میں لڑائی بنی لیکن انہوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو نظر انداز کر دیا اور زویا کو آگے پڑھنے دیا۔ اس سب کے ہونے کے بعد زویا چپ چپ رہنے لگی اور جیسے تنہائی پسند بن گئی ہو۔

جب جواد وطن واپس آیا تو زویا کی والدہ شکایت لے کر جواد کے گھر آئی اور جواد سے کہنے لگی کہ بیٹا تمہاری تو وہ بیوی بننے جا رہی ہے اور تم نے ہی اس کی ذاتی زندگی کو بے نقاب کر دیا۔ یہ سب باتیں جواد کے لیے حیرت کن تھیں کیونکہ وہ تو ان باتوں سے آشنا ہی نہیں تھا۔ زویا کے گھر والوں کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ہماری بیٹی کا رشتہ نہ چھوڑ دیں۔ جواد کے گھر والوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ جب انہوں نے وڈیو دیکھی تو جواد کے والد نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا اور فوراً رشتے سے انکار کر دیا اور زویا کے گھر والوں کو اپنی بیٹی پر نظر رکھنے پر زور دیا۔ جواد کے اپنے لاکھ سمجھانے کو باوجود اس کے والد نے بات نہ مانی اور آخر رشتہ ٹوٹ گیا۔ زویا کی وہ ٹک ٹاک کی وڈیو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور اس کے پیچھے عمران ہی تھا۔

وہ دور دور کے رشتہ داروں کو بھیجتا اور ساتھ میں یہ بھی بتاتا کہ اس لڑکی کے بہت ناجائز تعلقات ہیں۔ رشتہ داروں کی بہت بڑی تعداد زویا کے گھر جاتے اور یہی تلقین کرتے کہ اس کو جامعہ سے ہٹا لو۔ بہت زور آنے پر زویا کے گھر والوں نے اس کو یونیورسٹی سے ہٹا لیا۔ زویا ایک کمزور دل کی لڑکی تھی پڑھنے کا شوق بھی رکھتی تھی۔ اس سے روز روز کے طعنے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ پہلے تو باہر والے اس پر باتیں بناتے تھے پھر اس کے گھر والے بھی اس کو کوسنا شروع ہو گئے۔

محلے میں عجیب عجیب باتیں اور افواہیں اٹھنیں لگی۔ انہی افواہوں میں زویا کو بہت بدنام کر دیا گیا تھا۔ ظالم اور تنگ نطر کے لوگوں نے راہ جاتی زویا کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ ایک دو دفعہ تو جب زویا اپنے باپ کے ساتھ تھی تو تب بھی دو بدمعاش لڑکوں نے اس پر سیٹیاں ماری اور خوب تنگ کیا۔ یہ سب زویا کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا اور زویا کے باپ نے اس کا گھر سے نکلنا بالکل بند کر دیا۔ یہ سب زویا سے برداشت نہ ہوا اور کچھ ہی دنوں بعد اس نے اپنی جان لے لی۔ معصوم کا قتل سب کے لیے حیران کن تھا۔ اور پھر سب حاموش ہو گئے سب کی زبانیں بند ہو گئیں۔ تنگ ذہن کے اس معاشرے نے ایک ایسی غلطی پر جان لے لی جو غلطی تھی ہی نہیں۔

یہ ساری کہانی سناتے ہوئے جواد رو پڑا اور خود کو جذبات میں آ کر قاتل کہنے لگا۔ جواد زویا سے بہت محبت کرتا تھا لیکن کچھ کر نہ پایا۔ زویا کی موت کے بعد جواد کے گھر والے بہت شرمندہ تھے۔ جواد نے مجھے بتایا کہ یہی وڈیو میں نے زویا کے مرنے کے بعد اپنے باپ کو دس مرتبہ دکھائی اور پوچھا کہ اس میں ایسا کیا غلط تھا کہ آپ کی اس سے ناک کٹ جاتی یا پگڑی پر داغ لگ جاتا۔ جواد نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنے اس کزن عمران سے ضرور بدلہ لے گا لیکن میں نے جواد سے سوال پوچھا کہ اس نے تو بس وڈیو لوگوں کو بھیجی ہے زویا کی موت کی حقیقی وجہ تو اس معاشرے کے لوگ ہیں جنہوں نے اس کو طعنے دے دے کر مار ڈالا۔ اس پر جواد سوچنے لگا اور پھر مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کروں اب؟ میں نے کچھ نہ سوچتے ہوئے بولا کہ بھائی اب اپنی اولاد کی تربیت ایسے کرنا کہ وہ کسی کے بارے میں ایسا خیالات نہ رکھیں اور اتنی تنگ سوچ کے مالک نہ بنیں۔ جواد میرا یہ جواب سن کر سر ہلاتا ہوا بولا کہ سہی کہہ رہے ہواور چلا گیا۔

ان سب میں اگر کوئی غلط تھا تو وہ عمران تھا جس نے تین غلطیاں کی۔ سب سے پہلے تو اس نے اپنے کزن جو اسے بھائیوں سے بھی زیادہ چاہتا تھا اور اپنی ہر بات اس کو بتاتا تھا کو دھوکا دیا اور اس سے حسد اور بغض رکھا۔ پھردوسرے نمبر پر اس نے ایک ایسی لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھائی جو اس کی بھابی بننے جا رہی تھی۔ تیسرا اس نے اس لڑکی کے کردار کو داغدار کرنے کے لیے اس کی ذاتی زندگی کو جان بوجھ کر دنیا کے سامنے لے آیا۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ آخر عمران نے ایسا کیوں کیا تو شاید اس کا جواب نہ ملے لیکن اگر عام بات کی جائے تو ہمارا پورا معاشرہ ایسے ہی پروان چڑھتا ہے۔ دوسروں کی زندگی پر کھلے عام تنقید کرنا اور اس پر کیچڑ اچھالنا تو ان کے لیے بالکل ایک عام سی بات ہے۔ اگر راستے میں دو لوگ کوئی چھوٹی موٹی بات پر ایک دوسرے پر گرم سرد ہو جائیں تو وہاں پر ہر گزرنے والا عادمی کھڑا ہوگا اور تماشا دیکھے گا۔

اسی تنگ نظری اور غیر اخلاقی تربیت والے معاشرے نے زویا کو قتل کر دیا۔ زویا نے کتنے خواب دیکھے ہوں گے اور کتنے ارمان دل میں سجائے ہوں گے۔ مگر کچھ بھی اس کو نہ مل سکا اور مجبور زویا نے اس دنیا سے جانا بہتر سمجھا۔

Facebook Comments HS