آغوش: الخدمت فاؤنڈیشن کا کفالت یتیم پروجیکٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے یہ کائنات وجود میں آئی تب سے لے کر لمحۂ موجود تک معرکہ خیر و شر جاری ہے اور تا ابد جاری و ساری رہے گا۔ لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خیر ہمیشہ شر پر غالب رہا ہے اور برائی کو شکست ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں خیر و شر کی ایک تشریح معاشی آسودگی اور بدحالی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی معاشی حالت مستحکم نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک پر کوئی افتاد پڑی اہل پاکستان نے دل کھول کر اپنے بھائیوں کی مدد کی خواہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ ہو یا دو ہزار دس کا سیلاب، پاکستانی ہمیشہ جذبۂ خدمت سے سرشار رہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ آٹھ سو ارب کے عطیات دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بے شمار ایسے ادارے ہیں جو بلارنگ، نسل و مذہب کے امتیاز عوام کی خدمت میں دن رات مصروف عمل ہیں۔ ان میں ایک نمایاں نام الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے۔

الخدمت فاؤنڈیشن جو بہت سے بھلائی کے کام سرانجام دے رہی ہے ، ان میں سرفہرست آغوش کے نام سے یتیم بچوں کی کفالت کا کام ہے۔

اس وقت پاکستان میں بیالیس لاکھ یتیم بچے ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن آغوش کے نام سے اس وقت چودہ ہزار کے قریب یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام کر رہی ہے۔ چند روز قبل الخدمت فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خبیب بلال کی دعوت پر اپنے میڈیا کے دوستوں کے ہمراہ شیخوپورہ روڈ پر واقع آغوش کے مرکز جانے کا اتفاق ہوا جس کا رقبہ سترہ ایکڑ پر محیط ہےاور نوے کے قریب یتیم بچے وہاں پر رہائش پذیر ہیں۔

سترہ ایکڑ پر مشتمل اس وسیع و عریض رقبے کی کل مالیت بیس کروڑ روپے ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کے اس رقبے کے مالک نوے سال کی ضعیف العمر بابا جی شیخ افضل صاحب ہیں جنہوں نے اپنی یہ انتہائی قیمتی جائیداد نہ صرف ان یتیم بچوں کے لئے وقف کی بلکہ اللہ کا یہ نیک بندہ خود بھی ان بچوں کے ساتھ آغوش میں رہائش پذیر ہے۔ شیخ افضل صاحب کی کل کائنات یہ یتیم بچے ہیں ، جن کو وہ اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر پیار کرتے ہیں اور بچے بھی شیخ صاحب کو دادا ابو کہہ کر پکارتے ہیں۔

آپ خود اندازہ لگائیں کہ جس معاشرے میں لوگ یتیموں کا مال ڈکار جائیں، جہاں بیواؤں کی زمینیں ہتھیا لی جائیں ، جس معاشرے میں بھائی جائیداد کی لالچ میں اپنے ہی بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں،  اس معاشرے میں شیخ افضل جیسے لوگوں کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں۔ ہمارے لئے سب زیادہ باعث مسرت و اطمینان یہ بات تھی کی آغوش کے ان یتیم بچوں کی جس طریقے سے جسمانی و تعلیمی تربیت کی جا رہی تھی وہ قابل رشک تھی۔ بچوں کے لئے بڑا سا پلے گراؤنڈ بنایا گیا ہے، جہاں بچوں کی جسمانی تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔

گراؤنڈ کے عقب میں ہی خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے جہاں بچے باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ غرض یہ کے بچوں کو وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو کہ عام بچوں کو دستیاب ہوتی ہیں۔

بچوں کی عمارت سے کچھ ہی فاصلے پر ایک نئی اور خوبصورت عمارت تعمیر ہو رہی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عمارت یتیم بچیوں کے لئے تعمیر ہو رہی ہے ، جہاں پر بچیوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی بہترین تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔ لیکن ظاہر ہے یہ سب اہل خیر کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

بطور ذمہ دار شہری ہم سب کا فرض ہے کہ ان یتیم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا جائے اور صرف ماہانہ چودہ ہزار روپے سے ہم کسی ایک یتیم بچے کی کفالت کا بیڑہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ کفالت یتیم سے جنت کا حصول اور رفاقت رسول ﷺ بھی نصیب ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وجاہت ندیم خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments