عورت کو بااختیار کیسے بنایا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہر پاکستانی اس بات سے واقف ہے کہ عورت کو بااختیار بنانے کے لیے صرف نیک نیتی کافی نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پریقین کرنا مشکل ہے جو عورت کے اختیار کی بات کو صرف میڈیا کی حد تک کرتے ہیں، ان کی عملی زندگی میں اس بات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عورتیں اپنے اختیارات کے لیے مارچ کرتی دکھائی ہیں۔ عورت کو اس ملک میں صرف کمزور سمجھا جاتا ہے، جسے اختیارات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں عورتیں تشدد کا شکار ہو رہی ہیں، تو سوچیے چھوٹے علاقوں میں اس تشدد کی شرح کتنی زیادہ ہو گی۔

عورت کو ہی ہمیشہ دبایا گیا، پیدا ہونے سے پہلے ہی دفنایا گیا۔ دین اسلام نے جتنی عزت اور اختیارات عورتوں کو دیے ہیں، اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے کیونکہ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے علاوہ کوئی بھی نفس ایسا نہیں ہے جو بغیر ماں کے پیدا نہ ہوا ہو۔ مردوں کو جنم دینے والی بھی عورت ہوتی ہے اور وہی عورت اختیارات مردوں سے مانگتی نظر آتی ہے، کیوں؟

آج اکیسویں صدی میں بھی عورت بااختیار نہیں ہے، اور پسماندہ علاقو ں میں اس مسئلہ پر بات بھی نہیں کی جاتی۔ آج بھی 72 فی صد لڑکیاں تشدد اور زبردستی کا شکار ہو رہیں۔

ہم وہی قوم ہیں جو فاطمہ جناح کو ”مادر ملت“ کا خطاب دے کر سیاسی اختلافات کی بنا پر پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ عرصہ دراز سے خواتین ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئیں ہیں بلکہ ان کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب یا تو ہم خاموش تماشائی بن کر خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہوئے ان کو اور ان کے مسائل و ضروریات کو نظر انداز کرتے چلے جائیں جو کہ ہم کرتے آ رہے ہیں، یا ہم اس آبادی کو ان کی اپنی ترقی اور اس قوم کی ترقی کے عمل میں اپنا شریک بنائیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ایسے قوانین بنائے جن میں عورت کو بااختیار بنایا جائے، عورت کو ہر طبقے میں برابر کا حصہ دار بنایا جائے۔ عورتوں کے لیے ایسے قوانین بنائے جائیں کہ وہ ظلم کے خلاف بول سکیں، ان کو ہر قسم کے تشدد کے خلاف انصاف دلوایا جائے، تاکہ جو خواتین ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں، وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments