پاکستانی ڈراموں کے زوال کی وجہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں کا پرانے ڈراموں سے موازنہ کریں تو ایک فیصد بھی ان ڈراموں جیسی حقیقت پسندانہ بات نظر نہیں آتی۔ سب ڈراموں میں ایک ہی تھیم مختلف انداز میں دکھائی جاتی ہے۔ کہانی کو غیر ضروری طول دیا جاتا ہے۔ ہر ڈرامے میں ہدایت کار کی توجہ کا مرکز کہانی سے زیادہ گلیمر پر ہوتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے میڈیا نے ہندوستانی طرز کو بھرپور انداز سے اپنا لیا ہے۔ ہدایت کار اگر مارکیٹنگ ایک طرف رکھ کر فن ،ادب، کہانی اور حقائق سے قریب تر بہترین سماجی، معاشی اور گھریلو مسائل کی عکاسی پر توجہ دیں تو ڈراموں کی ریٹنگ بھی مزید بڑھے گی اور کمائی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

سب سے پہلے ڈراما تھیمز کی جانب آتے ہیں۔ اگر گزشتہ کچھ عرصے کے ڈراما سیریلز پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی تھیمز طلاق، حلالہ، معاشقہ، بیوفائی اور گھریلو سازشوں پر مبنی ہیں۔ کہیں بھابھی اپنے دیور کو پسند کرتی ہے تو کسی ڈرامے میں سالی کا بہنوئی پر دل آ جاتا ہے۔ کہیں پر نند اپنی بھابھی کی طلاق کرواتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امیر لڑکی غریب لڑکے کو پسند کرتی ہے یا پھر اس کے الٹ امیر لڑکا غریب لڑکی کو پسند کرتا ہے۔

یہ سیریلز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں اور کوئی سماجی مسئلہ اپنا وجود ہی نہیں رکھتا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ڈراما سیریلز کے نام (مثلاً جلن، حسد، محبوب آپ کے قدموں میں، مجھے بیٹا چاہیے وغیرہ وغیرہ) ہی ناظرین کو ذہنی تناؤ کا شکار بنانے کے لئے ہیں۔

کہانی کا ذکر کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ڈرامے کے آن ایئر ہونے کے بعد شائقین کی پسندیدگی کو مدنظر رکھ کر کہانی کی سمت طے کی جاتی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو ڈراما پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ پر مبنی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ہر ڈرامے میں کہانی کو اتنا غیر ضروری طول دیا جاتا ہے کہ بندہ بیزار ہونے لگتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً ہر ڈرامے کی اڑتیس منٹ پر مبنی قسط میں کہانی صرف دس منٹ ہی ہوتی ہے۔ بقایا تمام وقت بیک گراؤنڈ میں ڈرامے کا ٹائٹل سانگ، میوزک سنا کر اور چہرے کے تأثرات دکھا کر پورا کیا جاتا ہے جو کہ کہانی کو آگے بڑھانے میں کسی بھی طرح مددگار ثابت نہیں ہوتا ہے۔

ایک ڈرامے کی کہانی کو تو اتنا بڑھایا گیا کہ ہمارے معاشرے کی نوجوان لڑکیوں کی ایک قاتل کے ساتھ ہمدردیاں پیدا ہو گئیں۔ آخر کار جب سماجی رابطوں کی سائٹس پر لوگ اکتاہٹ کا اظہار کرنے لگتے ہیں تب کہیں ڈراما جا کر کسی ’منطقی‘ انجام تک پہنچتا ہے۔

گلیمر کی تو بات ہی مت پوچھیں۔ ہر طرح کے سین میں لڑکی کو فل میک اپ کے ساتھ کھلے ہوئے بالوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو اپنے گھر کے باورچی خانے میں بھی برانڈڈ کپڑے، زیورات، فل میک اپ، کھلے بال اور لاکھوں کی بہترین وگ کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ جس سے ایک ڈراما واقعی ’ڈراما‘ ہی لگنے لگتا ہے۔ یہ دیکھ کر غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے ناظرین سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ لڑکیاں کہاں پائی جاتی ہیں اور ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ مزید نا امیدی اور مایوسی کا شکار بن جاتا ہے۔ کیوں کہ ان ڈراموں میں ہمارے معاشرے کی کہیں سے بھی کوئی جھلک تک نہیں ملتی۔

یہ سب ٹرینڈز ہم نے بھارتی ڈراموں سے لیے ہوئے ہیں۔ اسٹار پلس کے ’تاحیات‘ چلنے والے ڈراموں میں یہ سب خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ نتیجہ کیا ہوا کہ ان کی نقل کرتے ہوئے اپنی انفرادیت بھی کھو بیٹھے جس کو اردو میں بجا طور پر کہتے ہیں کہ ’کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا‘ ۔

راقم کے لیے یہ سب باتیں نوٹ کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نوے کی دہائی میں پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھ کر جوان ہوئے ہیں جنہوں نے دماغ پر ڈرامہ کا ایک انمٹ تأثر چھوڑ رکھا ہے۔ ان ڈراموں میں ایک گھریلو لڑکی کو گھر میں سادہ سا سوٹ پہنا ہوا دکھا کر محسوس کروایا جاتا تھا کہ وہ لڑکی ہمارے ہی معاشرے کا ایک حصہ ہے اور ہم میں سے ہی ایک ہے۔

پی ٹی وی کے وقت میں ڈراموں میں مصنف و ہدایت کار آرٹ کا سہارا لے کر نہایت خوش اسلوبی سے ایک سماجی مسئلہ دکھا کر اس کا سدباب بھی دکھاتے تھے۔ جب کہ آج کے ٹی وی ڈرامے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ادب و فن کی خدمت کرنا نہیں بلکہ مارکیٹ کی ضرورتیں پوری کرنا ہے۔

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ سب ٹی وی چینلز کے لیے اشتہارات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے سوا کسی بھی چینل کا گزارا ممکن نہیں ہے۔ لیکن وہی اشتہارات ایک اچھا ڈراما بنا کر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ڈراموں میں گلیمر کو کم کر کے حقیقت پسندانہ بنایا جائے، کسی ایک فرد کے ساتھ ہوئے واقعے کے بجائے کوئی مجموعی سماجی مسئلہ پیش کیا جائے، انڈین ڈراموں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی انفرادیت کو مدنظر رکھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے ڈرامے کو ناظرین کی اکثریت کی جانب سے پذیرائی حاصل ہو گی۔ ’باغی‘ ، ’۔ گگھی‘ ، ’کنیز‘ ، ’اڈاری‘ ، اور ’چیخ‘ جیسے ڈرامے اس زمرے میں بہت اچھی مثال ہیں جو کہ ماضی قریب کے بہترین پاکستانی ڈرامے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply