تربت کے بے روزگار خصوصی آرٹسٹ احسان رشید کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


احسان رشید کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ علاقے پسنی سے ہے۔ حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں تھری ڈی آرٹ جیسی جدید پینٹنگ متعارف کروانے کے بعد بھی احسان مستقل نوکری اور کام سے محروم ہیں۔

احسان کا خاندان چھ بھائی اور پانچ بہنوں پر مشتمل ہے۔ بچپن سے ہی تخلیقی ذہن کے مالک ہیں۔ کھلونوں کو کھولنا، کھول کر جوڑنا ہر وقت اسی جوڑ توڑ میں لگے رہنا۔ پنسل سے اتنے اعلیٰ سکیچ بناتے کہ لوگ دنگ رہ جاتے۔

میٹرک تک پہنچتے پہنچتے فن میں اتنی مہارت حاصل کر لی تھی کہ ٹو اسٹروک انجن کی مرمت بھی کر لیتے تھے۔ احسان کو اپنے اوپر اس وقت حیرت ہوئی جب انہوں نے بیس سال پرانے ناکارہ انجن کو بھی سٹارٹ کر لیا۔ موٹر سائیکل کے انجن، ٹی وی اور ریڈیو کی مرمت احسان کے لئے معمولی سی بات ہوا کرتی تھی۔ گھر میں اپنا ایک سٹور بنا رکھا تھا جہاں گھر کی پرانی اور ناکارہ اشیاء جمع کرتے رہتے تھے۔

والد صاحب محکمہ تعلیم میں ملازمت کرتے تھے۔ جن کی ٹرانسفر مختلف شہروں میں ہوتی رہتی تھی۔ احسان نے دوسری جماعت تک تعلیم پنجگور کے ایک نجی سکول سے حاصل کی۔ تیسری سے پانچویں جماعت تک تعلیم گوادر کے ایک تعلیمی ادارے سے حاصل کی۔ پھر والد صاحب کی ٹرانسفر تربت ہو گئی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول تربت سے کرنے کے بعد پری میڈیکل میں ایف ایس سی عطاء شاد ڈگری کالج سے پاس کی۔ بی اے کے فائنل امتحان سے چار پانچ روز قبل حادثے کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے تعلیمی سفر تعطل کا شکار ہوا۔

احسان نے 2000ء میں اپنے کزن کے ساتھ مل کر ٹی وی، ریڈیو اور الیکٹرانکس کی مختلف اشیاء ریپیئر کرنے کی دکان کھولی۔ خدا نے کام میں خاصی برکت ڈالی۔ 2005ء میں موبائل فون ٹیکنالوجی نے عروج حاصل کیا تو احسان کے دل میں موبائل فون ریپیئر کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ بلوچستان میں اس وقت اس قسم کا کوئی کورس نہیں ہوا کرتا تھا اس لیے کورس کے لئے راولپنڈی آ گئے۔

دوست کے ساتھ مل موبائل فون ریپیئرنگ کی دکان کھولی۔ یہ کام بھی منافع بخش رہا۔ 26 مئی 2007 دکان میں احسان کا آخری دن تھا اس روز یہ کراچی کے لئے روانہ ہوئے اور حادثے کا شکار ہو گئے۔

حادثے کی رات احسان اپنے دوستوں کے ہمراہ پسنی سے کراچی جا رہے تھے۔ اورماڑہ پر پل کی مرمت کا کام جاری تھا جس کی وجہ سے روڈ پر کرش کے لوڈر کھڑے تھے۔ جبکہ گزرنے والوں کے لئے ایک طرف عارضی راستہ بنا رکھا تھا۔ احسان کی گاڑی اس لنک روڈ پر چڑھ تو گئی لیکن یہ راستہ گاڑی کے گزرنے کے لئے کافی تنگ تھا جس کی وجہ سے گاڑی پل سے پھسل کر نیچے جا گری۔

حادثے کے وقت گاڑی میں چار دوست سوار تھے۔ دو کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ایک کے ہاتھ کی نسیں کٹ گئیں جبکہ احسان حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہو گئے۔

حادثے کے نیتجے میں احسان کا کافی خون بہ گیا۔ جس کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔ ابتدائی طبی امداد کے لئے پسنی کے نجی ہسپتال لے جایا گیا۔ دوران علاج ڈاکٹرز کو اندازہ ہوا کہ احسان حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ سپائنل کارڈ انجری کے آپریشن کے حوالے سے کراچی کا لیاقت ہسپتال کافی شہرت رکھتا تھا، اس لیے حرام مغز کا آپریشن اسی ہسپتال سے کروایا گیا۔

والد صاحب نے احسان کے علاج پر اپنی ساری جمع پونجی لگا دی۔ آپریشن کے بعد دو سال تک کراچی میں قیام کیا جہاں مختلف ہسپتالوں سے علاج اور فزیوتھراپی کرواتے رہے۔ لوگوں کے مشورے پر اسلام آباد، لاہور اور بہاولپور تک آئے لیکن افاقہ نہ ہوا۔

احسان کہتے ہیں کہ ایک چلتے پھرتے شخص کا اچانک سے بیٹھ جانا اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ حادثے کے بعد بہت عرصہ تک ڈپریشن کا شکار رہے۔ جینے کی امید کھو چکے تھے۔ دل کرتا تھا کہ موت جلدی سے آئے اور احسان کو اپنی آغوش میں لے لے۔

ایک روز اچانک احسان کو ایک پرانے دوست کی کال آئی ہے۔ ملاقات ہونے پر احسان کی حالت دیکھ کردوست کو بہت دکھ ہوا۔ کہنے لگا کیا حال بنا رکھا ہے، گھر میں کیوں بند پڑے ہو۔ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہو ، اپنے آپ کو ضائع مت کرو۔ دوست نے احسان کے لئے پینٹنگ کا سامان خریدا اور کہنے لگا کہ اپنے کینوس کو رنگوں سے بھر دو اور دنیا کو بتا دو کہ تم کسی سے کم نہیں ہو۔ دوست کی باتوں نے احسان کو جینے کا حوصلہ دیا ، برش اٹھایا اور اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔

دوست کا نام ایاز ہاشم بزنجو ہے۔ احسان انہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی موٹی ویشن قرار دیتے ہیں۔

احسان کہتے ہیں کہ آرٹ کی کوئی عالمگیر تعریف نہیں ہے۔ آرٹ مہارت اور تخیل کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور بامعنی چیز کی آرزو ہے۔ ہر قوم، قبیلے اور گروہ نے آرٹ کی اپنے انداز میں تعریف بیان کی ہے اور سب اپنی جگہ ٹھیک بھی ہیں کیونکہ ہر شخص دنیا کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔

آرٹ میں ابداعیت کا خیال رکھا جاتا ہے، آرٹ کو بیان کرنے کے بہت سے طریقے اور ذرائع ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ ڈیجیٹل آرٹ، کارکردگی آرٹ، تصوراتی آرٹ، ماحولیاتی آرٹ، الیکٹرانک آرٹ وغیرہ۔

احسان بصری آرٹسٹ ہیں بصری آرٹ، آرٹ کی وہ قسم جس میں ایک آرٹسٹ اپنے خیالات، جذبات اور تخیلات کے اظہار کے لیے مختلف اقسام کے میڈیمز کا سہارا لیتا ہے۔ بصری آرٹ میں ڈرائنگ اہم ترین رول ادا کرتی ہے۔ ڈرائنگ کے لئے پنسل، قلم اور چارکول وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لازمی نہیں کہ ڈرائنگ صرف ارد گرد کے ماحول یا موجودہ حالات کی عکاسی کرے۔ بلکہ یہ آرٹسٹ کے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات، جذبات، احساسات اورتصورات کی عکاس بھی ہو سکتی ہے۔ مصوری رنگوں سے کھیلنے اور تصویروں کو زبان دینے کا دوسرا نام ہے۔ احسان اپنی پینٹنگز میں آئل کلرز، پسٹلز، واٹر کلرز اور چارکولز بطور میڈیم استعمال کرتے ہیں۔

احسان کہتے ہیں کہ تھری ڈی پینٹنگ انامورفک آرٹ کی ایک قسم ہے۔ جس میں تصویر حقیقت سے قریب تر نظر آتی ہے۔ تھری ڈی پینٹنگز زیادہ تر فٹ پاتھوں، دیواروں اور عوامی جگہوں پر نظر آتی ہیں۔ تھری ڈی پینٹنگ کے لئے آرٹسٹ اپنی مرضی کا میڈیم استعمال کر سکتا ہے۔ تھری ڈی میں ریاضی کے استعمال سے تصویر میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تھری ڈی آرٹ، آرٹ کی جدید قسم ہے۔ اسے بلوچستان میں احسان نے متعارف کروایا ہے۔ احسان مشہور شخصیات کے پورٹریٹ، بلوچ کلچر اور لینڈ سکیپ بنانا پسند کرتے ہیں۔

احسان کہتے ہیں پینٹنگ کے لئے تسلسل کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے ، تسلسل ٹوٹ جائے تو کام میں فرق رہ جاتا ہے، معذوری کی وجہ سے ان کے لیے زیادہ دیر تک بیٹھنا ممکن نہیں ، اس لیے جب بیٹھے بیٹھے تھک جاتے ہیں تو لیٹ جاتے ہیں اور لیٹ کر اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

احسان کی کوئی مستقل آمدنی ہے اور نہ ہی ذریعہ معاش۔ نمائشوں اور کمیشن کے ذریعے اپنے کام کو فروخت کرتے ہیں۔ کام ملتا ہے تو کر لیتے ہیں نہیں تو انتظار کرتے رہتے ہیں۔

فروری 2021ء میں احسان نے چھوٹی بہن معصومہ شاہین کے ساتھ مل کر ایک اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام شاہینہ شاہین اکیڈمی ہے۔ مختصر سے عرصے میں اکیڈمی نے ورک شاپس اور مختلف شہروں کی دیوراوں کو پینٹ کرنے کے پروگروامز بھی منعقد کیے ہیں جنہیں بہت پذیرائی ملی ہے۔ اکیڈمی کو نوجوان نسل کی طرف سے اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ احسان پر امید ہیں کہ اکیڈمی آرٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

سیر و تفریح کا شوق بچپن سے ہے جو حادثے کے بعد بھی کم نہیں ہوا۔ گاڑی خود چلانا پسند کرتے ہیں۔ اکثر اسسٹنٹ کو ساتھ لے کر لانگ ڈرائیو پر نکل جاتے ہیں۔ پسنی سے گوادر تک کا تھکا دینے والا سفر کئی بار طے کر چکے ہیں۔

رسائی کو معذور افراد کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ فائن آرٹس میں ماسٹرز کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے فائن آرٹس میں ایم۔ اے کا ارادہ ترک کر دیا۔ آج کل یوینورسٹی آف تربت سے سوشیالوجی میں ڈگری کر رہے ہیں جہاں رسائی کے نامناسب انتظامات کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

احسان کہتے ہیں بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ غربت، بے روزگاری، دہشت گردی، لاقانونیت، تعلیم و صحت کی نامناسب سہولیات اور پسماندگی بلوچستان کے اہم ترین مسائل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے خصوصی افراد کے مسائل بھی ملک کے دوسرے صوبوں سے مختلف ہیں۔

بلوچستان کا خصوصی فرد بنیادی انسانی حقوق اور سہولیات تک سے محروم ہے۔ صوبائی حکومت کو خصوصی افراد کے مسائل میں سنجیدگی لینی چاہیے تاکہ بلوچستان کے خصوصی افراد بھی ملک کی ترقی میں اپنا کردار کر سکیں۔

بلوچستان کے خصوصی افراد میں بے روزگاری کی شرح ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بنیادی وجہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ خصوصی افراد کے لئے مختص کوٹے پر عمل درآمد نہ ہونا اور کرپشن ہے۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے انتہائی تعلیم یافتہ خصوصی افراد بھی نوکری کے لئے دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کے خصوصی افراد میں کاروبار اور روزگار کے حوالے سے شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ جس کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

کوکنگ کرنے کا بہت شوق ہے۔ موسم اور موڈ کی مناسبت سے کھانا بنانا پسند کرتے ہیں۔ احسان کہتے ہیں پینٹنگ کی طرح کھانا بنانا بھی آرٹ ہے۔ احسان کو فارغ رہنا پسند نہیں ہر وقت الیکٹرانکس اور رنگوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔

مستقبل میں ایک جدید طرز کا سٹوڈیو اور اکیڈمی بنانا چاہتے ہیں۔ جہاں نوجوانوں کو رنگوں سے کھیلنے کے گر سکھائے جائیں۔ الیکٹرانکس کی ایسی ورکشاپ بنانا چاہتے ہیں جو ہر قسم کے اوزاروں سے لیس ہو۔

اپنی کہانی کے اختتام پر احسان خصوصی افراد سے کہنا چاہتے ہیں کہ حالات کا مقابلہ کرنا سیکھیں۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ محنت اور لگن وہ ہتھیار ہیں جن کی مدد سے خصوصی افراد خود مختار اور با اختیار زندگی گزار سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *