قائداعظم کی نوجوانوں سے امیدیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کا مستقبل نوجوانوں کی معیار سوچ اور فکر پر منحصر ہوتا ہے ، یہ جتنی بامقصد اور بلند ہو گی ملک ترقی کی منازل اتنی تیزی سے طے کرے گا ، بصورت دیگر تنزلی اور پستی کی راہ لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم محمد جناح کو نوجوانوں سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔ تقریباً آپ اپنے ہر خطاب میں نوجوانوں کو کوئی نہ کوئی نصیحت یا پیغام ضرور دیتے تھے۔

نوجوانوں میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہوتا ہے لیکن خدمت کے اس جذبہ کو بروئے کار لانے کا طریقہ اور اسلوب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اپنے تئیں ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہے تو وہ کس طرح ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے؟ وہ کون سے اصول ہیں جن پر چل کر وہ ملک و قوم کی خدمت میں اپنا حصہ شامل کر سکتا ہے؟

لکھنؤ میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”نوجوانو! اپنی تنظیم کرو۔ یک جہتی اور مکمل اتحاد پیدا کرو ، اپنے آپ کو تربیت یافتہ اور مضبوط سپاہی بناؤ۔ اپنے اندر اجتماعی جذبہ اور رفاقت کا احساس پیدا کرو اور ملک و قوم کے نصب العین کے لیے وفاداری سے کام کرو“

’’مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ تاریخ میں وہ مقام حاصل نہ کریں جو آپ کے آباء و اجداد نے حاصل کیا تھا۔ آپ میں مجاہدوں جیسا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ”۔ (لاہور میں طلبا سے خطاب 30 اکتوبر 1937 ) ۔

قائد اعظم محمد علی جناح کو نوجوان طلبا سے بہت محبت تھی، اسی لیے تو نوجوان مسلم طلبا نے قائداعظم کے ولولہ انگیز پیغام کو حرز جان بناتے ہوئے تحریک پاکستان میں سردھڑ کی بازی لگا کر تاریخ حریت کو اپنے خون اور نوک شمشیر سے رقم کیا۔ قائداعظم نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

”نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلبا نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘

1937ء کے کلکتہ کے اجلاس میں قائداعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”نئی نسل کے نوجوانو! آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کر کے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا“ ۔

تحریک پاکستان میں سب سے پہلے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کرنے والا بھی ایک طالب علم تھا۔ جنوری 1947 کی تحریک سول نافرمانی میں بھی طلبا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

”آپ کو یاد ہو گا، میں نے اکثر اس بات پر زور دیا ہے کہ، دشمن آپ سے آئے دن ہنگاموں میں شرکت کی توقع رکھتا ہے۔ آپ کا اولین فرض علم کا حصول ہے ، جو آپ کی ذات، والدین اور پوری قوم کی جانب سے آپ پر عائد ہوتا ہے۔ آپ جب تک طالب علم رہیں اپنی توجہ صرف تعلیم کی طرف مرکوز رکھیں۔ اگر آپ نے اپنا طالب علمی کا قیمتی وقت غیر تعلیمی سرگرمیوں میں ضائع کر دیا تو یہ کھویا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا“

ایک اور موقعے پر قائداعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔ میرے دل میں نوجوانوں خصوصاً طالب علموں کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ آپ پر قوم اور والدین کی طرف سے بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ متحد ہو کر ملکی تعمیر و ترقی میں مصروف ہو جائیں“ ۔

”میرے نوجوان دوستو! میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار بنیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔ اب ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ یہ ہماری اپنی حکومت ہے، ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے مالک ہیں۔ ہمیں آزاد اقوام کے افراد کی طرح اپنے معاملات کا انتظام کرنا چاہیے۔ اب ہم کسی بیرونی طاقت کے غلام نہیں ہیں ، ہم نے غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالی ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ، میرے نوجوان دوستو! اب میں آپ ہی کو پاکستان کا حقیقی معمار سمجھتا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی باری آنے پر کیا کچھ کر کے دکھاتے ہیں۔ آپ اس طرح رہیں کہ کوئی آپ کو گمراہ نہ کر سکے۔ اپنی صفوں میں مکمل اتحاد اور استحکام پیدا کریں اور ایک مثال قائم کریں کہ نوجوان کیا کچھ کر سکتے ہیں۔“

نوجوانوں کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص اگر اپنے آپ کی اصلاح کر لے تو یہ بھی ملک کی خدمت میں شمار ہو گا۔ آج کے دور میں بھی اگر نوجوانوں کے شب و روز کے معمولات کا مشاہدہ کیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ ان کی زندگی کے زیادہ تر معمولات طبعی اور فطری اصولوں کے خلاف ہیں۔ فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا نوجوانوں کا بہترین مشغلہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ان کا شیوہ بن چکا ہے۔

ان کی زندگی میں دیانت داری اور امانت داری کا تصور ہیچ ہے۔ ان کے اندر اجتماعیت کا فقدان ہے۔ دور حاضر کے چیلنجز اس کے متقاضی ہیں کہ نوجوانوں میں اتحاد و یگانگت ہو۔ ان کی زندگی کا کوئی لمحہ بے مقصد نہ گزرے۔ ان کے شب و روز کے معمولات تضیع اوقات کا سبب نہ بنیں۔ وہ بہترین تعلیم یافتہ ہوں۔ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ قائداعظم کو نوجوانوں سے یہی توقع تھی۔ ہماری اپنی تہذیب ہے ، مغربی یلغار سے متاثر نہ ہوں بلکہ اپنی تہذیب میں انہیں ڈھال لیں۔

مارچ 1948ء میں ڈھاکہ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”میرے نوجوانو! میں تمہاری طرف توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم پاکستان کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔ دوسروں کے آلہ کار مت بنو ، ان کے بہکاوے میں مت آؤ۔ اپنے اندر مکمل اتحاد اور جمعیت پیدا کرو اور اس کی مثال پیش کر دو کہ جوان کیا کر سکتے ہیں۔“

یعنی نوجوان دوسری اقوام سے مرعوب نہ ہوں، بالخصوص دنیا کی ظالم اور استعماری طاقتوں کے نظریات سے متاثر نہ ہوں، ذہنی طور پر ان کے غلام نہ بنیں۔

ان کی اپنی ایک شناخت ہو، نہ یہ کہ وہ دوسروں کی تقلید میں اپنی شناخت کھو بیٹھیں۔ ان کی اپنی زندگی ایسی ہو جو دوسروں کے لیے قابل تقلید بن سکے۔ دوسروں کے راستے پر چلنے کے بجائے دوسروں کو اپنے راستے پر چلانے کی مثال قائم کریں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ خود اپنی اصلاح کریں۔ جب ہر شخص اپنی اصلاح کرے گا تو معاشرہ امن کا گہوارہ بنے گا۔ ہر شخص کے دل میں دوسرے کا احترام ہو گا تو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھے گا۔

آئیں ہم بھی دوسروں کی امید بن کر زندہ رہیں ، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور امر ہو جائیں، تعلیم پر توجہ دیں اور مستقبل روشن کریں۔ نوجوان قائداعظم کے فرمودات کو مشعل راہ بنا کر ملکی سلامتی و بقاء اور نظریاتی و سیاسی استحکام کے لیے بہت بڑا اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری اقوام سے مرعوب ہو کر اپنی تہذیب بھول جانا ہی ملک و قوم کی تباہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *