اچھا اور گندا لمس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیوٹ تحریم جیتی رہو

تمہارا پریم پتر پڑھ کر مجھے نجانے کتنی سہیلیوں کے ساتھ رونما ہونے والے کتنے ہی واقعات یاد آ گئے۔ تم نے ایک ہی تحریر میں کئی مسائل کی طرف بہت نرمی سے اشارہ کر دیا ہے۔ اچھا ہے، میں اس اشارے پہ مسکرا دوں تاکہ تم کو یقین ہو جائے کہ میں تمہاری بات سے متفق ہوں۔

میری پیاری سی دوست!

سب سے پہلے تو یہ کہ دو خواتین کو، اف اور ہنستی ہوئی خواتین کو اکٹھے لکھتا دیکھ کر بہت سے سینوں میں دوزخ کے انگارے، یا کوئی آتش فشانی ہو رہی ہے کیونکہ ان بے چارے منافق مردوں نے سب سے پہلے عورت کو ہی عورت کے مخالف کیا اور اس کی بنیاد پہ اپنے حاکمانہ معاشرے کی بنیاد رکھی تاکہ یہ مکھن سے بال کی طرح یہ کہہ کر باہر نکل جائیں گے کہ عورت عورت کی دشمن ہے۔ اور ذمہ داریوں سے بھی ماحول کا بہانہ کر کے فرار ہو جائیں، سوم کسی گرل فرینڈ نامی مخلوق سے بے چارگی کا گلہ کر کے سکون کی بھیک مانگتے ہوئے اپنی ہوس کی آگ کا دریا رواں رکھ سکیں۔

لیکن اس گنگا میں سب نہائے ہوئے نہیں ہیں۔ پچاس فی صد کی وجہ سے باقی پچاس فی صد بلاوجہ بدنام ہیں۔ بہت سے ڈرتے ہیں کہ بدنامی نہ ہو جائے۔ بہت سوں کو ہمت ہی نہیں ہوتی، بہت سوں کا دل تو بہت کرتا ہے پر حالات نہیں بنتے۔ بہت سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں، بہت سے اچھے دوست نما مرد بھی ہوتے ہیں، جو اپنی بیگمات سے بھی دوستی کروا دیتے ہیں۔ باقی یہ سب، ہر قسم کے مرد اپنے گھر والوں سے بہت مخلص ہوتے ہیں۔ اس لئے بے وفا اور ہوس پرست ہوتے ہیں۔

بھئی عورت، عورت کی مخالف ہے۔ میری جان! ان کو ان کی زبان میں سمجھاؤں تو کچھ یوں ہو گا کہ ”جب تم دوسری شادی کر لیتے ہو تو عورت سوتن کو برداشت کر لیتی ہے۔ ہم دوسری شادی کا مذاق بھی کر دیں تو ہم بد کردار ہو جاتے ہیں، حالانکہ میری وہ سہیلیاں جو ملک سے باہر سیٹل ہیں۔ میرے ملک کی تہذیب کا مذاق اڑاتی ہیں کہ یار تمہارے ملک میں تو شادی پہ شادی کا رواج ہے۔ اور سرکار نے اس کو خود پریکٹس کر کے اور آسان بنا دیا ہے۔ تم لوگ اس کے باوجود ایک شادی کو عذاب بنا لیتے ہو۔ جب کہ تم نے کون سے طلاق کے ساتھ اثاثے آدھے آدھے کرنے ہیں۔ یہ تو ہماری مجبوری ہے۔

تم نے بات کی وی پی این کی تو بھئی وہ رال والا لال تم سے یہی تو سننا چاہتا تھا کہ ”آپ وہی دیکھتی ہیں ناں جو میں دیکھتا ہو؟ اور اگلا جواب ہوتا“ اب سے مل کر دیکھا کریں گے اور تم شرم سے سر جھکا دیتی تو وہ سارے زمانے میں نعرے لگاتا کہ تم بے حیاء ہو۔ اور جو بھی باقی کے لاحقے، سابقے عورت کے ساتھ لگائے جاتے ہیں، لگا کر دل کو قرار دیتا ہے کہ وہ عورت کو جیت کر ہرا چکا ہے کیونکہ وہ مرد ہے۔ ارے میرے منحوس ابن آ دم! یہ جو کورونا کی ویکسین بنی ہے۔ اس میں ایوارڈ حاصل کرنے والی ایک لڑکی بھی ہے۔ وہ بھی آپ کے ساتھ وی پی این پہ معلومات کا تبادلہ کرتی ہو گی۔ ہے ناں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

تو بات چل رہی تھی عورت سے عورت کی دوری کی۔ ایک تو یہ صدیوں پرانا کھیل ہے۔ دوسرے اس میں مرد کا مفاد ہے۔ تیسرے معاشیات و اقتصادیات کی کارفرمائی ہے۔ بھائی اور باپ جو وراثتی حق جہیز دے کر مار لیتے ہیں۔ وہی وراثت بیوی اور بیٹی کے حصے میں آتی ہے۔ جب بیج ہی بھنگ کا بویا ہو تو گلاب تو نہیں مہک سکتے۔

بہن کو پسند کی شادی، جاب، پڑھائی اور آ زادی نہیں ملتی مگر بیٹی پیدا ہوتے ہی مرد کی نفسیاتی دنیا بدل جاتی ہے۔ اسے یہ سب بھول جاتا ہے کہ وہ بھی کبھی اپنے باپ کے سامنے، کھڑا ہوا تھا کہ اس کی بہن یہ سب کرے گی تو ناک کٹ جائے گی۔ بیٹی کی دفعہ وہ ناک کی سرجری کروا لیتا ہے تاکہ وہ پہلے ہی کٹ جائے۔

منافق مرد نے ہی رشتوں کو اپنے حساب کتاب سے الگ ڈبوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ بس مرد اتنا سوچ لے کہ ”جیسے میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ویسے ہی میرا باپ، یا میرا سسر اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا۔

رشتوں سے نکلیں تو ایک نئی اجنبی مردانہ دنیا کا سامنا ہوتا ہے۔ جس کے لئے بس اب غالب انکل ہی کی یاد باقی رہ گئی ہے ”ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے“ ، تو یہ مداری ہمارے شب و روز تو خراب کرتے ہی ہیں۔ نہ گھر کے رہتے ہیں، نہ گھاٹ کے، دھوبی کے کتے بن جاتے ہیں۔ (یا ان باکس کے ) یہ جو انہیں اپنی بیویوں کی بد سلوکی کا گلہ ہوتا ہے۔ یہ شاید ان کے شادی سے پہلے کے اعمال کی سزا ہوتی ہے۔ ورنہ یہ وہی معصوم لڑکیاں ہوتی ہیں جو اپنے باپ کے گھر سے ہنستی کھیلتی آتی ہیں۔ اور جن کی رخصتی کے وقت باپ کا گھر بے رونق و خالی سا ہو جاتا ہے۔ وہاں تو اس کی زبان خراب نہیں ہوتی تھی۔ پھول جھڑتے تھے۔

وقت اور ان کے سرتاج کا رویہ مل کر ان کی لسانیات، جغرافیہ اور تاریخ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اور جب یہ سب بدل جاتا ہے تو وہ اس ”پھنے خاں کی تاریخ بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ مگر یہ پھنے خاں ماننے تو تیار ہی نہیں ہوتا کہ اس کی بھی کوئی غلطی ہو سکتی ہے۔ یا تو اسے وہ محبوبہ یاد آتی رہتی ہے جس کو وہ کہیں ماضی میں کسی اور کی بیوی بننے کے لئے چھوڑ آیا تھا۔ یا کسی نئی لڑکی کو لائن مارنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ لہٰذا ریل پٹری سے اتر جاتی ہے۔

بھلا اتنی محبت، وقت اور پیسہ یہ اپنی بیوی پہ خرچ کر دے تو اس کو سکون کی موت آ جائے۔ یہ جو حوروں کے تعداد کا لالچ ہے، اس نے اسے سب سے زیادہ خوار کیا ہوا ہے۔ اس کی اسے خود بھی خبر نہیں ہے۔ وہ سمجھ ہی نہیں رہا کہ اسے جنت سے اس کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ اب دنیا میں جب تک رہنا ہے۔ اس کے مطابق رہنا ہے۔ جیسا دیس ویسا بھیس کو مانتے ہوئے۔

مگر تحریم! سنجیدہ بات کروں تو یار مردوں کی بڑی تعداد بوڑھے ہونے سے پہلے تک اپنی بیوی کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے۔ لاکھ بہانے ہوتے ہیں۔ بس ہفتے دو ہفتے بعد بچہ پیدا کرنے جاتے ہیں۔ اور واپس آ کر وہی گند گھولنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے ہم سب تنگ ہیں۔ ساتھ رہتے ہیں تو ایسے رہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ کمروں میں جوانی گزار دیتے ہیں۔ مجھے آج تک اس مردانہ نفسیات کی سمجھ نہیں آئی۔

دوست! تم کہتی تو سچ ہی ہو کہ ان کو پتا ہے یہ چسکے لے رہے ہیں۔ ویسے میں تمہیں مزے کی بات بتاؤں، ان میں سے کچھ کو سچی نہیں پتا کہ جسم وسم کیا ہوتا ہے، نعرہ کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔ کچھ کو یہ بھی نہیں پتا کہ ان کا اپنا جسم بھی ہوتا ہے۔ بس یہ مرد کہلانے کے لئے جذباتی باتیں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ہماری بہت پیاری دوست کبھی کبھی تو ایسی باتیں کہہ جاتی ہے جن کا درجہ اقوال زریں سے کم نہیں ہوتا۔ ایسی ہی ایک بات انہوں نے ایک بار کہی ”رابعہ یہ جو، ان مردوں کی مائیں صبح دیسی گھی والے پراٹھے بنا بنا کر اپنے بیٹوں کو کھلاتی ہیں۔ ان پراٹھوں کا گھی ان کے دماغ پہ جم جاتا ہے۔“

تحریم میں نے ایسے بہت سے لکیر کے فقیر دیکھے ہیں۔ میری ایک بہت ہی پیاری سی دوست فاطمہ بتول نے آج اپنے سٹیٹس پہ لکھا ہے ”عمران خان کے ناقدین کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جس شخص پہ کورونا ویکسین اثر نہیں کرتی۔ اس پر آپ کی تنقید خاک اثر کرے گی۔

تو دوستم تحریم عظیم! یہ ایسے ہی عظیم لوگ ہیں۔ جن کے دماغوں پہ گھی جما ہوا ہے، اور جن پہ کوئی منفی و مثبت تنقید اثر نہیں کرتی نہ ہی ویکسین اثر کرتی ہے، اور ان کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی۔ انہیں بس سماجی مرد کہلانا ہوتا ہے۔

تم نے گندے لمس کی بات کی تو یہ بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔

ہماری ایک دوست یورپ میں مقیم ہیں۔ ان سے اس حوالے سے کچھ دن قبل بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی بچی سات سال کی ہے اور انہوں نے اسے یہ اعتماد دینا شروع کر دیا ہے کہ بیٹا اگر آپ کو کوئی اس طرح چھوئے کہ آپ کو گندا لگے تو آپ نے مما پاپا کو بتانا ہے۔ ہم اللہ مالک کہہ کر بات کیا، ذمہ داری بھی ٹال دیتے ہیں۔

تم نے میری بات کی تو دوست محبت کے معمے میں میرے سگنل ذرا سلو کام کرتے ہیں۔ بچپن کا حصار حویلی کی ان اونچی دیواروں جیسا تھا جہاں ٹوٹے ہوئے شیشے لگے ہوتے ہیں، یا وائر کے ساتھ کرنٹ ہوتا ہے۔ مگر جب پہلی بار اکیلی گھر سے کالج کا سفر شروع ہوا تھا تو ابا نے ایک ہی بات کہی تھی ”میرے پاس کبھی شکایت لے کے مت آنا کہ مجھے کسی نے تنگ کیا ہے۔ بندہ مار کے آنا اور کہنا، میں نے مار دیا۔ باقی میں خود سنبھال لوں گا۔

اب یار ایسی لڑکی کی نفسیات عجیب و غریب ہوتی ہے۔ کچھ بھائیوں اور کزنز میں رہنے سے، کسی مرد کی ایک نگاہ سے عموماً خبر ہو جاتی تھی کہ اس کے ارادے کیا ہیں۔ اور میں اپنا رستہ بدل لیتی تھی۔ یوں بھی میری گلالی طبعیت کے نیچے چھپا جلال ایسا تھا کہ مرد مجھ سے سنبھل کے رہے۔ جو نہیں سنبھلے۔ ان کی پھر کلاس لینا ہمارا پورا حق ہے۔ سو ہم نے اپنی طبعیت کے عین مطابق لی۔ مگر پھر بھی معاشرہ تو وہی میلی سوچ والا تھا۔ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ سامنے آ جاتا ہے۔ اور ہم اس سے الجھ بھی جاتے ہیں اور سلجھانا بھی سیکھ لیتے ہیں۔

تم الجھنے کی عمر میں ہو۔ میں سلجھانے کے دور کی کہانی ہوں۔ یوں ہم مکمل ہوتے ہیں۔

جہاں تک بات ہے محبت کی، جب یوسف زلیخا پڑھی تو اسی عمر میں محبت کا راز پا لیا تھا۔ رکھنے والے نے بھی مجھے ثابت قدم رکھا۔ میرے ذہن میں بالکل واضح تھا کہ اگر کسی مرد کو مجھ سے محبت ہے تو یہ ایک طاقت ہے، یہ ایک خوشبو ہے۔ (یونہی اگر مجھے بھی کسی سے محبت ہے تو طاقت ہے، خوشبو ہے ) جس نے خود ہی ظاہر ہو جانا ہے۔ مجھے اس کے لئے نہ تو کسی سے ملنا ہے، نہ کسی کے ساتھ کوئی وقت ضائع کرنا ہے اور جو مجھے دنیا کے سامنے پا نہیں سکتا، میں اس کو چھپ چھپا کے چاہ نہیں سکتی تھی۔ بعد کے پچھتانے سے بہتر ہے پہلے پچھتا لو۔ یہی میں اپنی سب سہیلیوں کو کہتی ہوں۔

اس لئے اس لمس منحوس سے بچت ہو گئی مگر چونکہ ہوں تو ایک مکمل انسان، محبت سے انکار کسی صورت نہیں ہے۔ میں اپنے من میں بت بنا کر بھی اسے چاہ سکنے کی قوت رکھتی ہوں کہ میرا تخیل شاید حقیقت سے حسین و قوی ہے۔ میں نے اپنے من مندر میں پوجا کی ہے اور وہ خوشبو بن کر مجھ میں اتر بھی چکی ہے۔

مجھے بہادر عورتیں اور مرد پسند رہے ہیں۔ سو یہ بزدلی میرے بس کی بات ہی نہیں تھی کہ چھپن چھپائی کھیلتی۔

اور شاید خلیل جبران کی چاہت میں اسی کی طرح بن ملے، بنا دیکھے والا رومان تھا۔ جو کافی بونگا ہو سکتا ہے۔ مگر مزے کا ہے۔

یا کوئی امیر خسرو کے سوال کا سایہ تھا کہ انہوں نے خواجہ نظام الدین اولیاء سے پوچھا کہ ”محبت میں مصیبت کیوں آتی ہے؟ فرمایا تاکہ کم ظرف محبت کا دعویٰ نہ کریں۔

یہ جو تم کہتی ہو ”رال والے لال، تو دوست! یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب سلام دعا سے بھی بات اتنی آگے نکل چکی ہے کہ رال والے لال، اپنی برہنہ تصاویر بھیج کر سمجھتے ہیں کہ کوئی حسن کے عجائب گھر کا منتر پھونک دیا ہے۔ اب لڑکی قدموں میں ہو گی۔ سو ہم فرینڈرز نے ایک گروپ بنا کر اس میں ایسے نمونوں کی تصاویر اور آئی ڈیز شیئر کرنے شروع دیے، یوں ہم مل کر ایسے لالوں کو بلاک کرتے تھے۔

اس میں کسی شعبے کی کوئی تخصیص نہیں۔ ہر جگہ یہ نمونے پائے جاتے ہیں۔ جن کو نیشنل جیوگرافک دیکھ کر جانوروں سے اپنی مادہ کے ساتھ رہنا سیکھنا چاہیے۔ وہ پورن دیکھ کر اس کو حقیقت بنانے کے چکر میں سماج خراب کر رہے ہیں۔

اگر ہم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں یعنی اگر کوئی رات کو تنگ کرے تو فوری ویڈیو کال کر دیں۔ ساتھ سوئی بیوی فوراً اٹھ جاتی ہے کیونکہ بیوی کے سگنل فور جی سے بھی زیادہ تیز ہوتے ہیں۔ باقی وہ خود ہی سیدھا کر لیتی ہے۔ کیونکہ اس کی لسانیات و جغرافیہ یہ خود خراب کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کی سنہری تاریخ وہ خود لکھ دیتی ہے۔ وہ آئی جی اور جنرل سے اوپر کی کرسی کی مالک ہوتی ہے۔

ابھی بلوچستان کی اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین کے ساتھ ہراسمنٹ کا واقعہ دیکھ لو۔ کوئی ہے بولنے والا؟ کیونکہ سب کی گندی تمنائیں ایک سی ہیں۔

ہمیں خود بھی شادی شدہ مردوں سے دوستی کی شرط رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے سامنے ہم سے بات کر سکتے ہیں۔ اور ایسے مرد ہیں۔ اس ملک میں بھی ہیں۔ مگر گندے مندے میلے مردوں کی بو میں چھپ جاتے ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں۔ مگر شہرزاد کی سی راتیں ہوں تو اچھا ہے۔ بہت رات ہو چلی ہے۔ اس پہ پھر بات کریں گے۔ تم نے تو میرے من کے تار چھیڑ دیے اور میں گنگنا اٹھی۔

ان کیفیات سے صاف ظاہر ہے مجھے مرد سے نفرت نہیں۔ مجھے موسیقی اچھی لگتی ہے۔ موسیقی شور بن جائے تو سماعت پہ بوجھ بن جاتی ہے۔ بس ایسا ہی ہم سب کے ساتھ ہوا ہے۔

جگ جگ جیو

مجھے رات کے حسن کو انجوائے کرنا ہے۔ میں نے شہد والی چائے بنائی ہے۔ آج بہت پرسکون رات ہے۔ بادلوں اور تاروں کے سے معصوم بچوں کی طرح کلکاریاں کرتی رات۔ سلیم رضا ریوا کے حسب حال اشعار یاد آ گئے ہیں

کہیں پہ چیخ ہو گی کہیں کلکاریاں ہوں گی
اگر حاکم کے آگے بھوک اور لاچاریاں ہوں گی

اگر ہر دل میں چاہت ہو شرافت ہو صداقت ہو
محبت کا چمن ہو گا خوشی کی کیاریاں ہوں گی

مقابل میں آیا ہے جگنو آج سورج کے
یقیناً پاس اس کے بھی تیاریاں ہو گی

اس سیریز کے دیگر حصےمنافق مردگولڈن گرلز- ایک بے گھر آدمی اور ہمدرد عورت
Latest posts by گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم کی دیگر تحریریں

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 4 posts and counting.See all posts by golden-girls

Leave a Reply