دو قدآور فلمی شخصیات جنہیں قومی ایوارڈ نہ مل سکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال 14 اگست کو مملکت خداداد پاکستان کے صدر پاکستانی شہریوں اور غیر ملکی افراد کو پاکستان میں فن، کھیل، ادب، سائنس اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر ان کی خدمات کے اعتراف میں سول ایوارڈ کے لئے نامزد کیا جاتا ہے۔ اگلے سال یوم پاکستان کے موقع پر 23 مارچ کو ایوان صدر میں ایک پروقار تقریب میں ایوارڈز کے لئے نامزد افراد کو یہ ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔

ان ایوارڈز میں تمغہ حسن کارکردگی ، نشان امتیاز، تمغہ امتیاز،  ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور ستارہ شجاعت شامل ہیں۔ یقیناً ان ایوارڈز کی نامزدگی لئے باقاعدہ کوئی طریقہ کار بنا ہوا ہو گا جس پر عمل کر کے پوری تحقیقات کے بعد یہ ایوارڈز مستحق افراد کو دیے جاتے ہوں گے۔ 14 اگست 2020 کو ایوارڈز کے لئے نامزد کیے گئے افراد میں چند روز قبل یوم پاکستان کے موقع پر یہ ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

پاکستان کی فلمی صنعت میں بہت سے ایسی نابغہ روزگار شخصیات ہو گزری ہیں جنہوں نے فلمی صنعت کی آبیاری کر کے اسے ایک تناور درخت بنایا۔ گو کہ انہوں نے یہ کام کسی انعام یا ایوارڈ کے لالچ میں نہیں کیا بلکہ یہ ان کے اندر کی لگن تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ کارہائے نمایاں انجام دیا۔ ان شخصیات میں بہت سے ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنے فن کی بلندیوں پر پہنچے، ان ایوارڈز کے مستحق تھے لیکن وہ اپنی زندگی میں ان سے محروم رہے۔

میں ایسے ہی دو فلمی شعراء کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے لگ بھگ چالیس سال تک فلمی صنعت کی خدمت کی۔ ان گنت فلموں کی کہانیاں اور منظرنامے لکھے۔ ایسے ایسے شاہکار نغمے تخلیق کیے۔ جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ یہ دو شخصیات ہیں جناب حزیں قادری اور خواجہ پرویز کی۔

حزیں قادری 1950 سے لے کر 1980 تک پاکستانی فلمی صنعت کے ایک مصروف ترین نغمہ نکار، منظرنگار، مکالمہ نویس اور مصنف تھے۔ ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ تیس سالوں میں آپ نے ایک سے بڑھ کر ایک بہترین نغمہ لکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں فلموں کی سبق آموز کہانیاں لکھیں، جنہوں نے باکس آفس پر کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کے بہترین نغموں میں ’سانوں سجناں دے ملنے دی تاہنگ اے ‘۔ ’ٹانگے والا خیر منگدا‘، ’ٹانگہ لاہور دا ہووے پویں جھنگ دا۔‘اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے۔ سیؤ نی میرے دل دا جانی۔ او چن میرے مکھناں۔ دلدار صدقے، لکھ وار صدقے۔ سیؤ نی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آ گیا۔ دنیا مطلب دی اور یار۔ وے سونے دیا کنگناں سودا اکو جہیا‘ کے علاوہ ان نغموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان کی لکھی ہوئی زیادہ تر فلموں نے بہت اچھا بزنس کیا، یوں انہوں نے اس وقت فلمی صنعت کو مالی سہارا دینے میں مددگار رہے۔

حزیں قادری

ان کی لکھی ہوئی کامیاب فلموں میں پاٹے خاں، نوراں، سجن پیارا، ڈاچی، چن مکھناں، جندجان،  سجناں دور دیا،  مستانہ ماہی، ضدی، خان چاچا، سلطان اور جیرا بلیڈ کے علاوہ ایک لمبی لسٹ ہے۔ انھوں نے اپنے فلمی سفر میں 265 فلموں کے لئے نغمات لکھے، جن میں 243 پنجابی او 22 اردو فلمیں شامل ہیں۔ آپ نے فلموں کے لئے ایک ہزار سے زیادہ نغمات لکھے جن میں بڑی تعداد پنجابی کے اپنے وقت کے سپرہٹ گیت تھے، جنہیں اب بھی سن کر لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ پاکستان فلم میگزین کے مطابق انہوں نے پانچ اردو اور 151 پنجابی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے۔ چالیس سال فلمی صنعت کی خدمت کرنے کے بعد 1991 میں انہوں نے وفات پائی۔ ان کا کیا ہوا کام اتنا زیادہ ہے کہ انھیں بہت عرصہ قبل تمغہ حسن کارکردگی مل جانا چاہیے تھا۔

خواجہ پرویز اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ان کا فلمی صنعت میں نغمہ نگاری کا کیرئیر چالیس سال پر محیط ہے۔ و ہ تقسیم سے قبل امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد ہجرت کر کے لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ زندگی میں متعدد دفعہ ہندوستان کی طرف سے وہاں دوبارہ بسنے کی پیشکش کو ٹھکرا کر یہاں رہنا پسند کیا۔ انہوں نے 1965 میں فلمی صنعت میں قدم رکھا۔ ابتدا میں ہی ان کے لکھے ہوئے فلم آئینہ کے گانے  ’’تم ہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں‘‘ نے میں دھوم مچا دی تھی۔

خواجہ پرویز

ان کے تخلیق کردہ نغموں میں ’سن وے بلوری اکھ والیا، جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو اک شخص یاد آئے گا، ماہی آوے گا میں پھلاں نال دھرتی سجاواں گی، میری چیچی دا چھلا ماہی لا لیا، دو دل اک دوجے کولوں دور ہو گئے، تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں، دل ویراں ہے، تیری یاد ہے، تنہائی ہے اور ایسے سینکڑوں گیت شامل ہیں۔

انہوں نے 175 سے زیادہ فلموں کے لئے ایک ہزار سے زیادہ گیت لکھے۔ اس کے علاوہ نصرت فتح علی خان کے لئے بہت سے گیت آپ نے لکھے جنہوں نے بہت شہرت پائی۔ انہوں نے 2011 میں وفات پائی۔ فلمی صنعت میں ان دونوں حضرات کی خدمات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں متعلقہ محکمہ کو مکمل تحقیق کر کے ان شخصیات کو ایوارڈز کے لئے منتخب کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *