بارہ کہو، اسلام آباد: دو پولیس افسروں نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنائے گئے کمسن بچوں کو کیسے بازیاب کروایا؟
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں ایک شخص نے بندوق کی نوک پر دو کمسن بچوں کو یرغمال بنا لیا۔ واقعے کا علم ہوتے ہی اسلام آباد پولیس کے ایس پی کیپٹن (ریٹائرڈ) حمزہ ہمایوں اور ایس ایس پی سید مصطفی ٰ تنویر نے آپریشن کا آغاز کیا اور چار گھنٹوں سے یرغمال بچوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا۔
تھانہ بارہ کہو کی حدود میں دو کمسن بچوں کواغوا کار سے چھڑانے والے پولیس اہلکار کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ ہمایوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے میران شاہ سمیت دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیے ہیں لیکن جتنا مشکل آپریشن یرغمال بچوں کو اغوا کار سے چھڑانا تھا ایسی مشکل صورتحال سے ان کا پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد کے صدر سرکل کے ایس پی حمزہ ہمایوں نے اس واقعہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کو جب پولیس کو علم ہوا کہ ملزم قمر نے دو افراد کو زخمی کرکے محمد ظہیر نامی شخص کے گھر میں زبردستی گھس کر ان کے دو کمسن بچوں کو یرغمال بنا لیا ہے تو پولیس فوراً جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔
پیر کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے پہلے اسلحہ کے زور پر ان کے دونوں کمسن بچوں کو پکڑا اور انھیں زبردستی باورچی خانے میں لے گیا تاہم کچھ دیر وہاں گزارنے کے بعد وہ انھیں باورچی خانے سے ملحقہ کمرے میں لے گیا اور کمرے کو تالہ لگا کر لائٹ بند کردی۔
ایس پی صدر کے مطابق ان دو کمسن بچوں میں ایک دو ماہ کا بچہ اور ایک دو سال کی بچی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سہائی تالپور کے لیے قائدِ اعظم پولیس میڈل کی سفارش
چوہدری اسلم: ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کہلائے جانے والے پولیس افسر ہیرو تھے یا ولن؟
کرنل کی اہلیہ کی وائرل ویڈیو: اہلکار سے بدتمیزی کا مقدمہ نامعلوم عورت کے خلاف درج
انھوں نے بتایا کہ چونکہ ملزم نے کمرے کو اندر سے تالا لگایا ہوا تھا اس لیے اس سے بات چیت کرنے کا واحد راستہ کمرے کا روشن دان ہی تھا جسے توڑ کر اندھیرے میں ملزم قمر کے ساتھ چار گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔
بچوں کی والدہ کے بارے میں حمزہ ہمایوں کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران جب بچوں کے رونے کی آوازیں آتیں تو وہ اس کمرے کی طرف بھاگ کر جاتی تھیں جہاں پر ان کے بچوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا اور وہ رو رو کر صرف یہی کہتی تھی کہ ’میرے بچے بھوکے ہیں ان کو دودھ پلا لینے دو پھر بیشک اپنے پاس رکھ لینا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ملزم نے دورازہ نہیں کھولا اور روشن دان سے ہی اس کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گئے۔
ایس پی صدر کے مطابق اس عرصے کے دوران جب ملزم کو کہا گیا کہ وہ بچوں کی ماں کو دودھ پلانے دے تو اس نے دھمکی دی کہ اگر دوبارہ ایسا کہا تو وہ ان بچوں کو گولی مار دے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ایسا محسوس ہوا کہ جیسے دو ماہ کا نومولود بچہ بھوک کی وجہ سے بےہوش ہو رہا ہو۔
حمزہ ہمایوں کے مطابق انھوں نے اپنے زیر استعمال پانی کی بوتل اندر پھینکی اور ملزم سے کہا کہ کم از کم بچوں کو پانی ہی پلا دو لیکن ملزم نے یہ کہہ کر ایسا کرنے سے انکار کردیا کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں کوئی نشہ آور چیز ملائی ہو۔ اس لیے نہ وہ خود پانی پیے گا اور نہ ہی بچوں کو پلائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم نے مذاکرات اسی شرط پر شروع کیے تھے کہ ایس پی اپنی بلٹ پروف جیکٹ اتارےاور اسلحہ نیچے رکھے جس پر عمل درآمد کیا گیا۔
ایس پی صدر کے مطابق چار گھٹنے مذاکرات کے دوران انھیں محسوس ہوا کہ جیسے ملزم قمر کا نشہ اتر رہا ہے اور وہ اپنے ہوش وحواس میں واپس آرہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انھوں نے روشن دان سے کمرے میں چھلانگ لگا دی جس کے بعد ملزم نے ان کی کنپٹی پر اسلحہ تان کر انھیں بھی یرغمال بنا لیا۔
چالیس منٹ تک ملزم کے ساتھ اندھیرے میں ہی اسلحہ کی نوک پرمذاکرات ہوتے رہے۔
ایس پی حمزہ ہمایوں کے مطابق ان چالیس منٹوں میں پانچ چھ سکینڈ ایسے بھی آئے تھے جیسے ان کی اور بچوں کی زندگی ختم ہوگئی ہے جب کمرے سے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو ملزم نے پستول ان بچوں کی طرف کردی۔
ایس پی صدر کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ملزم سے کہا گیا کہ اگر اس نے انھیں یا بچوں کو مارا تو وہ خود بھی مارا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ڈر گیا اور مذاکرات کے بعد سب سے پہلے بچوں کو ان کے چنگل سے آزاد کروایا۔
بچوں کے والد کا موقف: ’ایسا محسوس ہوا جیسے دوبارہ زندگی ملی ہے‘
ان دو کمسن بچوں کے والد محد ظہیر کا کہنا ہے کہ بچوں کی بازیابی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کو دوبارہ زندگی ملی ہے۔
محمد ظہیر نے جو کہ روزانہ کی اجرت پر کام کرتے ہیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اس غرض سے شہر لیکر آئے تھے کہ یہاں پر انھیں پڑھائیں گے لیکن پڑھائی زندگی سے زیادہ عزیز نہیں ہے۔
ان بچوں کے والدین پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہیں۔ محمد ظہیر کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے بچوں کو اپنے آبائی علاقے میں بھیج دیں گے تاکہ وہ وہاں پر محفوظ رہ سکیں۔
https://twitter.com/dcislamabad/status/1376242647745069066
ہوا کیا تھا ؟
اس وقوعہ کے بارے میں تھانہ بارہ کہو پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم قمر جرائم پیشہ ریکارڈ رکھتا ہے اور وہ اس سے پہلے بھی آٹھ سال تک مختلف مقدمات میں جیل کاٹ چکا ہے۔
تھانہ بارہ کہو کے ایس ایچ او حبیب الرحمن کا کہنا ہےکہ ملزم نشے کا عادی ہے جس کی وجہ سے اس کے بہن بھائیوں نے بھی اسے چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وقوعہ کے روز ملزم نے ایک دوکاندار سے پیسے مانگے اور انکار پر فائرنگ کردی جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سن کر اہل محلہ ملزم کو مارنے کے لیے دوڑے تو ملزم قمر محمد ظہیر کے گھر میں داخل ہو گیا اور اس کے دو بچوں کو اسلحہ کی نوک پر یرغمال بنا لیا۔
ایس ایچ او کے مطابق بظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ملزم نے اہل محلہ سے اپنی جان بچانے کے لیے ان دو کمسن بچوں کو یرغمال بنایا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔


