عالمی موسمی تبدیلی پر امریکی اجلاس
ماحولیات اور عالمی موسمیاتی تبدیلی سے دل چسپی رکھنے والوں کو علم ہوگا کہ ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ کا کردار موسمیاتی تبدیلیوں کا راستہ روکنے کے حوالے سے نیم دلانہ سا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں تو یہ رویہ نیم دلانہ سے گر کر کھلم کھلا جارحانہ ہو گیا تھا اور صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر آلودگی کم کرنے کے ”معاہدہ پیرس“ سے باقاعدہ علاحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مجموعی سیاسی لائحہ عمل کچھ ”سب سے پہلے امریکہ“ طرز کا تھا اور اس ضمن میں انہیں عالمی سطح پر کوئی قائدانہ کردار ادا کرنے میں دل چسپی نہیں تھی۔ اس کا تازہ ترین مظہر، عین کورونا کی وبا کے بیچ امریکہ کے عالمی ادارہ صحت کی رکنیت سے خود کو الگ کرنے کے اعلان کی شکل میں سامنے آیا تھا۔
ایسے میں امریکی عوام کی معتدبہ تعداد اور دنیا کے دیگر ممالک کے شہری گروہوں کو توقع تھی کہ صدر ٹرمپ کے حریف اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن اس حوالے سے زیادہ مثبت طرز عمل کو فروغ دیں گے۔ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ماحولیاتی معاہدوں کا سوال بالخصوص اور بین الاقوامی منظمات میں امریکی عمل دخل کا سوال بھی زیر بحث آتا رہا اور جو بائیڈن صاحب نے اس بارے میں کچھ یقین دہانیاں بھی کروائیں۔ جو بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد اولین اقدامات میں امریکہ کی عالمی ادارہ صحت اور معاہدہ پیرس میں دوبارہ شمولیت کو ایک خوش آئند اقدام کے طور پر دیکھا اور سراہا گیا۔ صدر بائیڈن نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو واضح الفاظ میں پوری انسانیت کی بقا کے لیے بدترین خطرہ قرار دیا اور اس باب میں عالمی سطح پر امریکہ کے قائدانہ کردار ادا کرنے کا عزم دہرایا۔
گزشتہ ہفتے لیکن جو بائیڈن نے اپریل کے تیسرے ہفتے میں منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کی دعوت صرف چند چنیدہ ممالک کو دینے کا اعلان کر کے ماحولیات سے متعلق حلقوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اجلاس کے اعلان کردہ مقاصد بظاہر خوش آئند ہیں۔ ان میں عالمی درجہ حرارت میں دو ہزار تیس تک کے اضافے کو ڈیڑھ درجے سنٹی گریڈ تک محدود کرنا، ماحول کی حفاظت اور روزگار کے مواقع کی فراہمی میں توازن پیدا کرنا، اور خطر پذیر ممالک کی ان تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کرنا اہم ہیں۔
اس پس منظر میں یہ بات حیرت ناک ہے کہ مدعو ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں، حسب معمول اس عدم دعوت کو سیاسی جگت بازی اور طعنہ زنی کے لیے استعمال کیے جانے کا آغاز کر دیا گیا۔ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم بار بار خود کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے ماحول دوست حکم ران قرار دیتے آئے ہیں اور اپنے ”بلین ٹری سونامی“ نامی شجر کاری کے منصوبے کو اس کی شہادت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے مخالفین نے مذکورہ بین الاقوامی اجلاس میں پاکستان کو مدعو نہ کیے جانے کو وزیر اعظم کے ماحولیاتی دعووں کے کھوکھلے پن کی نشانی قرار دیا۔ اس خادم کی نظر سے حکومتی ترجمانوں یا وزیر اعظم کے حامیوں کا کوئی ایسا بیان نہیں گزرا جس میں اس حیرت ناک اور مایوس کن صورت حال کا کوئی ٹھوس جائزہ یا جواز پیش کیا گیا ہو۔
اجلاس کے مدعوئین کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو عجیب صورت حال سامنے آتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ مدعوئین کی فہرست اس بنیاد پر مرتب کی گئی ہے کہ کون سے ممالک عالمی سطح پر آلودگی پھیلانے کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں اور ان تبدیلیوں سے کن ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ مذکورہ فہرست اس کسوٹی پر پورا اترتی دکھائی نہیں دیتی۔ کم از کم دو مسلمہ امریکی اتحادی ممالک، پاکستان اور فلپائن عالمی سطح پر ماحولیاتی بحران سے خطر پذیر ترین دس ممالک میں آتے ہیں مگر اجلاس میں نہیں بلوائے گئے۔
دوسری جانب پولینڈ اور گیبون مدعو ہیں حالانکہ آلودگی پھیلانے اور خطر پذیری، دونوں اعتبار سے ان کا شمار اہم ممالک میں نہیں ہوتا۔ اس فہرست کے ترتیب دینے میں روایتی سیاسی صف بندی کی منطق بھی لاگو ہوتی نظر نہیں آتی چوں کہ امریکہ کے جانے پہچانے عالمی سیاسی حریف روس اور چین بھی مدعوئین میں شامل ہیں اور تعلقات میں حالیہ کھنچاؤ کے باوجود سعودی عرب بھی۔
عالمی ماحولیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا عفریت سیاسی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔ اس کے منفی اثرات جیسے قدرتی آفات، فصلات کی ناکامی، وباؤں، اور ان سب کے ناگزیر نتائج مثلاً خوراک کا بحران، آبادیوں کی جبری ہجرت، بد امنی اور تشدد وغیرہ کا دنیا کے ہر خطے کے ہر متنفس کو سامنا ہے۔ ایسے میں چند کسی نامعلوم اور من مانے طریقے سے منتخب کیے ہوئے سربراہان مملکت کا اجلاس منعقد کر کے کسی مربوط اور دیرپا حکمت عملی کو ترتیب دینا اور اس پر عمل درآمد کرنا ممکن نہ ہوگا۔
اس کے علاوہ اس اجلاس سے متعلق ابتدائی بحثوں میں بین الاقوامی نجی شعبے کا خاطر خواہ ذکر نہ ہونا، جو دنیا کی بہت سے حکومتوں سے زیادہ طاقت ور اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اہم ترین عامل سمجھا جاتا ہے، بھی چہ مگوئیوں کو جنم دے رہا ہے۔ خود امریکہ میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں شروع کیے گئے زمین سے تیل نکالنے کے متنازعہ، اور مزعومہ ماحول دشمن طریقے ”فریکنگ“ کو کم کرنے پر بھی کما حقہ بات چیت نہیں ہو رہی۔
ہمارے لیے اس میں پتے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ اجلاس کی افادیت یا عدم افادیت سے قطع نظر، ہمیں کم از کم دو سطح پر خود کو ماحولیاتی خطرات کے لیے تیار کرنے کی جانب فوری توجہ دینا ہوگی۔ اول یہ کہ، ملکی اور مقامی سطح پر، سیاسی اختلافات کو ایک جانب رکھ کر ماحول دوست پالیسیز، قوانین اور اقدامات پر تمام فریقین کے مابین اتفاق رائے پیدا کر کے عمل کو مہمیز کرنا ہوگا تاکہ تبدیلیوں سے نمٹنے کی استعداد بہ تر ہو سکے۔
دوسرے، پہلے سے مسلمہ بین الاقوامی فورمز مثلاً اقوام متحدہ، ڈبلیو ٹی او، اسلامی کانفرنس کی تنظیم، سارک، ایس سی او وغیرہ پر، دیگر سیاسی و تزویراتی مفادات سے اوپر اٹھ کر اس واضح اور فوری خدشے کا سامنا کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنے کے لیے روایتی اور غیر روایتی سفارتی وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا۔


