سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گولڈن گرل رابعہ الربا نے اپنے کالم ’اچھا اور گندا لمس‘ میں ایک جملہ لکھ کرمنافقت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔

”جو مجھے دنیا کے سامنے پا نہیں سکتا، میں اس کو چھپ چھپا کے چاہ نہیں سکتی۔“
اس جملہ کی داد نہ دینا منافقت میں حصہ داری کے مترادف ہے۔ ایک افسانہ حاضر خدمت ہے۔

وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز پانی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب سے وہ پول کی حدود میں داخل ہوئی تھی ہر ایک کنکھیوں سے اسی ساحرہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شاور لے کر باہر آئی تو کشادہ اور فراخ سوئمنگ پول کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے قدم آہستہ آہستہ فرش پر یوں پڑ رہے تھے کہ جیسے بلی اپنے شکار پر جھپٹنے سے پہلے چلتی ہے۔ مرمریں فرش پر اس کے بھیگے پاؤں کے نشانات چمک رہے تھے۔ پول کے کنارے پرآ کر کچھ لمحے باہیں آسمان کی طرف اٹھا کر کھڑی رہی پھر سب کو ساتھ ہی لے کر پانی میں چھلانگ لگا دی۔

سطح آب پرچھپ کی آواز کے ساتھ ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا اور سکوت دوبارہ مسلط ہو گیا۔ نیلگوں پانی کے اندر اس کی کمر کی بے داغ جلد چمک رہی تھی۔ جڑے ہوئے پاؤں ہلکے ہلکے حرکت کر رہے تھے اور ٹانگوں کے لمبے لمبے دل آویز خطوط پانی کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔ سانس لینے کے لئے اس نے منہ باہر نکالا تو دیکھنے والوں کے سینے کو بھی معطر ہوا کا جھونکا نصیب ہوا۔ پھر گھوم کر دوبارہ جل ناگن کی طرح پانی میں غوطہ زن ہو گئی۔

اس کے دونوں بازو پہلو کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں پانی کو ہچکولے دے رہی تھیں۔ پانی کی ہلکی ہلکی لہریں اس کے جسم کے ہر دلفریب حصے کا بوسہ لینے کی سعی کر رہی تھیں اور وہ سب سے بے نیاز اپنے ہی عشق میں مبتلا نشاط آفریں لمحات سے محظوظ ہو رہی تھی۔ اوپر کی طرف منہ کر کے فلوٹنگ شروع کی تو ابھرے ہوئے پستانوں اور تھوڑی کے درمیان پانی ساحلی جھیل کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔

شام ڈھلنا شروع ہوئی تو پول سے باہر نکل کر بھیگے ہوئے نیم برہنہ بدن کو تولیہ میں لپیٹ کر ادھر ادھر دیکھا اور ادھیڑ عمرجہاں داد خاں کے قریب ٹیسلن فیبرک کی بنی ایک لاؤنجر پر لیٹ گئی۔ بال کھول دیے اور ٹاول سے ان کو سکھانا شروع کر دیا۔ کچھ خشک ہوئے تو انہیں چھٹ کر لاؤنجر کی پشت پر پھیلا دیا۔ گول ٹانگوں کی روئیدگی کو خشک کیا تو نرم و نازک سپید جلد پر تولیہ کی رگڑ سے ہلکی ہلکی سرخی دوڑنے لگی۔ جہاں داد نے بیئر کا گلاس پکڑنے کے لئے ہاتھ ٹیبل کی طرف بڑھایا تو اس کی نظر پھسل کر نیلم پر پڑ گئی۔

نوخیز بدن کی ہوس ران رعنائیوں کا جلوہ برداشت نہ کر سکا اور منہ واپس موڑ لیا۔ کچھ دیر بعد جام واپس رکھنے کے لئے ادھر دیکھا تو وہ تجاہل عارفانہ سے آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی۔ پیچھے لٹکے ہوئے نم آلودہ بوجھل بال شام کی ڈھلتی ہوئی روشنی کی افقی شعاؤں میں ریشم کے ڈوروں کی طرح چمک رہے تھے۔ شعلہ افشاں شام گیسوؤں کی کالی چادر میں منہ چھپا کر ڈوب گئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک نگاہ غلط انداز جہاں داد پر ڈالتے ہوئے واپس چل پڑی۔

وہ عمرکی پچاس بہاریں دیکھ چکا تھا۔ چمن چمن گھومنے اور کلی کلی سونگھنے والا جہاں داد ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا مالک تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس کا دل نیلم کے نرم پاؤں کی دلپذیر تال سے تال ملا کر دھڑک رہا تھا۔ اثمار شباب اور گل ہائے ناز سے سجی ڈالی بمشکل اٹھارہ بیس سال کی ہوگی۔

دوبئی کے ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس کو اس کی کمپنی سپانسر کر رہی تھی۔ اسے پکا یقین تھا کہ وہ بھی کسی کمپنی کی مہمان ہوگی۔ ڈنر پر وہ ادھر ادھر جھانکتا رہا لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔ صبح ناشتہ پر بھی وہ مین دروازے کے عین سامنے ایک کارنر میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس کی نظریں دروازے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ اندر داخل ہوئی اور خالی چیئر ڈھونڈنے لگی۔ پھر کچھ سوچ کر کھانے کے کاؤنٹر کی طرف چل پڑی۔ پلیٹ ہاتھ میں پکڑی اور دو چار خشک میوہ جات اور ایک گلاس جوس کا لے کر جہاں داد کی طرف ہی آ گئی۔

”Can I share table with you?“
”Sure.“
اس نے کرسی کو بہت ہی آرام سے پیچھے کھینچا اور تھینکس کہہ کر بیٹھ گئی۔

آج بھی اس کے بال نم دار تھے اور کھلے بھی۔ سنجاب و سمور کی طرح نرم وگداز گیسو نصف پشت کو ڈھکے ہوئے تھے۔ کچھ لٹیں گول گول گچھوں کی صورت سامنے سینے سے الجھ رہی تھیں۔ رعنائی جمال آنکھوں کوخیرہ کر رہی تھی۔ جہاں داد نظر اٹھا کر اس کو دیکھتا تو وہ بے باکی سے اس کی آنکھوں میں جھانکنا شروع کر دیتی اور وہ خجالت سے پھر اخبار پڑھنا شروع کردیتا۔

”تم کس کمپنی کے ساتھ ہو؟“ بالآخر اس نے پوچھ ہی لیا۔
”کون سی کمپنی؟ میں تو ویسے ہی ادھر آئی ہوں۔“
”کہاں کی رہنے والی ہو؟“
”میں ادھر ہی رہتی ہوں۔ میری ماں پاکستان جا رہی تھی میں نے کہا میں کچھ دن ہوٹل میں رہ آتی ہوں۔“
”کیا کام کرتی ہو؟“
”ابھی تو سوچ ہی رہی ہوں کہ کچھ کرنا شروع کر دوں؟“

اس دن کے بعد وہ اسے بار بار ملتی رہی۔ کبھی ڈنر پر، کبھی سوئمنگ پول پر اور کبھی لابی میں۔ جہاں داد پوری طرح اس کے حسن کا اسیر ہو چکا تھا۔

کانفرنس ختم ہو چکی تھی۔ آج رات اس کی واپسی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اسے اپنی ایجنسی میں کام پر رکھ لے۔ اس کی آفر نیلم نے ہتک آمیز لہجے میں مسترد کر دی۔

”میں اپنی ماں والا غیر معمولی کام کرنا چاہتی ہوں۔“
”وہ کیا؟“
”جذباتی آشنائیوں والا، ہنگامہ حسن و عشق۔“
وہ ناقابل فہم تحیر کا شکار ہو گیا۔ بولی

”میں نے اپنی ماں کو یہی کام کرتے دیکھا۔ اس نے مجھے روایت سے ہٹ کر پڑھایا لکھایا ہے۔ اچھے کالج میں تعلیم دلوائی ہے۔ وہ خود بھی لاہور کے ایک اعلیٰ کالج کی گریجویٹ ہے۔“

”اتنی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود وہ کیسا کام کرتی رہی ہے!“

”اس کا کہنا ہے انسان یا تو غیر معمولی کام کرتا ہے یا کچھ بھی نہیں۔ زندگی تو ہر کسی کی گزر جاتی ہے۔ وقت نے مجھے اس کام کے لئے چن لیا تو میں نے اس کو غیر معمولی طریقے سے کیا۔ وہ تو مجھے بھی یہی کہتی ہے کہ تم اگر میرے نقش قدم پر چلی تو پھر ترقی تو نہ ہوئی۔ تم کوئی اور غیر معمولی کام کرو۔ میرا اور اس کا بس معمولی سا اختلاف ہے۔“

وہ مضطرب، آشفتہ و حیران اس کی طرف دیکھتا جا رہا تھا۔
”وہ کیا کہتی ہے، کچھ بتاؤ گی؟“

”شاید، پھر کبھی۔ ابھی تو ماں سے کچھ دن کی مہلت لی ہے۔ میں تو غیر معمولی مہمات سر کرنے کو بے تاب ہو رہی ہوں۔“

”اب تو تمہاری ماں سے ملنا پڑے گا۔ وہ تم سے بھی زیادہ۔“ جہاں داد خاموش ہو گیا۔ کئی آرزؤے شیریں اس کے ہونٹوں پر مچل رہی تھیں لیکن اس کو اپنی بات کہنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔

”اب وہ کسی سے نہیں ملتی۔ باب خلوت سب کے لئے بند کر دیا ہے۔ اب میں کام کروں گی اور اپنی ماں کو آرام کرنے دوں گی۔“

یہ کہہ کر وہ جانے لگی تو جہاں داد نے اسے روک لیا۔ شاذ ہی ایسا ہوا ہے کہ یہ سب سن کر اس جیسا مرد بھٹک نہ گیا ہو، سو اس نے بھی سپر ڈال دی۔

”پھر کہاں ملا قات ہوگی؟“

”کچھ دنوں بعد میری ماں پاکستان سے واپس آ جائے گی۔ اتنی دیر میں میں بھی کسی نتیجے پر پہنچ جاؤں گی۔ تم رابطہ کر لینا۔“

یہ کہہ کر اس نے اپنا فون نمبر لکھ کر اس کے حوالے کیا اور اٹھلاتی ہوئی چل پڑی۔

اب جہاں داد اسے روزانہ فون کرتا تھا۔ ایک دن اس نے بتایا کہ معاملات ابھی طے نہیں ہوئے لیکن وہ ملنے آ سکتا ہے۔ جہاں داد فوراً دوبئی پہنچ گیا۔ اس نے اپنے گھر ہی بلایا تھا۔

وہ ڈرائنگ روم میں نیلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ماں اندر داخل ہوئی۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں ہی چونک گئے۔

بیس سال پہلے کی اس رات نے نایاب کی زندگی کا دھارا بدرو کی طرف موڑ دیا تھا۔ جہاں داد کا ہی آئیڈیا تھا کہ سوات جایا جائے۔ وہ خوفزدہ تھی۔ اس دن ٹرانسپورٹ کی ہڑتال تھی۔ وقت سے پہلے ہاسٹل سے چل پڑی۔ بادامی باغ جاتے ہوئے کچھ وقت گزارنے اور سلام کرنے داتا صاحب پہنچ گئی۔ ہاتھ میں اٹیچی کیس دیکھ غنڈے اس کے پیچھے پڑ گئے۔ جان چھڑا کر بادامی باغ اڈے پر پہنچی تو مسجد کے سامنے والی متعلقہ جگہ پر جہاں داد موجود نہیں تھا۔ خوفزدہ وہ پہلے ہی تھی۔ ادھر ادھر گھوم کر اسے ڈھونڈھ رہی تھی کہ انہیں غنڈوں نے اسے اٹھا کر ایک گاڑی میں پٹخ دیا۔ وہ چلاتی رہ گئی۔ لوگوں نے دیکھا بھی اور کوئی مدد کو نہ آیا۔

جہاں داد کو اپنے سامنے پا کر وہ بہت غصے میں تھی۔ چلاتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ ”تم! بے شرم انسان، اب آئے ہو۔ اس رات کہاں تھے؟“

”میں وہیں تھا۔ دوسری طرف چھپ کر انتظار کر رہا تھا کہ مبادا کوئی مجھے پہچان نہ لے۔ تمہیں اس وقت دیکھا جب وہ گاڑی میں ڈال چکے تھے۔“

”جانتے ہو جس لڑکی کے پیچھے یہاں آئے ہو، وہ تمہاری بیٹی ہے؟“
”یہ کیا کہہ رہی ہو؟“
اس نے زوردار قہقہہ لگایا اور پھر رونے لگی ”ہاں! یہ سچ ہے۔“

جہاں داد خاں سر پکڑ کر وہیں ڈھیر ہو گیا۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد اٹھا اور ایک مختصر و مضطرب سایہ اپنے پیچھے لرزاں چھوڑ کر باہر چلا گیا۔

دو دن کے بعد وہ پھر وہیں بیٹھا تھا۔

نایاب اس کے سامنے تھی۔ کہنے لگی ”طوائف کا کوٹھا وہ سنگین آماج گاہ ہے جہاں سے کسی کی واپسی نہیں ہوتی سب کا رخ منزل ممات کی طرف ہوتا ہے۔ یہاں بسنے والی طوائفیں حنوط شدہ لاشیں ہیں۔“

”میں تم سے اب بھی بہت محبت کرتا ہوں۔ میں تمہیں سب کچھ دوں گا۔ گھر، ماہانہ اخراجات، سب کچھ۔ تم اس بچی کو اس جگہ سے نکال لاؤ۔“

”یہ سب تو میرے پاس بھی ہے اور شاید تم سے زیادہ۔ اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اسے اپنا نام دو۔ اسے بیٹی بنا کر اپنے گھر لے جاؤ۔“

”یہ میں نہیں کر سکتا۔ میں دنیا کو کیا بتاؤں گا؟“
تو پھر سن لو
”میں ایک بار غلطی کر چکی ہوں، اب نہیں۔ جو ہمیں دنیا کے سامنے اپنا نہیں سکتا، وہ ہمارا نہیں۔“

وہ خجل و منفعل ہو کر عجیب و غریب توجیہات پیش کرنے لگا۔ اس کی جبیں عرق آلود ہو چکی تھی۔ بار بار پسینہ پونچھ رہا تھا۔

نیلم دونوں کی باتیں خاموشی سے سن رہی تھی۔ یکم دم بولی

”ماں، ہمیں اس شخص کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں! اس بزدل، خان بہادر جہاں داد کے آنے سے ہمیں فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔ ہوٹل کے مالک شیخ کو فون کر دیں کہ میں سٹرپ ٹیز کرنے کو تیار ہوں۔ اسے یہ ضرور کہنا کہ مجمع بہت بڑا ہونا چاہیے۔ وہ سچ کہہ رہا تھا کہ ہمارے ہاں آنے والے، تسکین نفس کے مریض مرد بزدل ہوتے ہیں، مجھے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ویسے بھی بے نقص و بے عیب، دلفریب جسم رکھنے والی بہادر لڑکی ہی سرعام برہنہ ڈانس کر سکتی ہے۔ مسٹر! آپ کے آنے کا شکریہ۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply