پورے سماج کو علاج کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیمیکلز ہماری زندگی میں شامل ہیں‘ کیمیکل چیزیں بناتے ہیں‘ رنگ بناتے ہیں‘ ذائقے اور خوشبو کو محفوظ کرتے ہیں‘ کچھ کیمیکلز ہمارا موڈ بدلتے ہیں‘ ہماری کڑوی زبان پر میٹھے لفظوں کا جھرنا جاری کرتے ہیں۔ ہماری اداسی کو خوشی میں بدل دیتے ہیں اور ہم دنیا سے بیزار رہنا چھوڑ دیتے ہیں‘ یہ کیمیکل اس قدر آسانی سے مل سکتے ہیں مجھے اندازہ نہیں تھا‘ پہلے ان کیمیائی مادوں کو جان لیتے ہیں پھر ان کی کمی کے شکار اہم لوگوں کی بات کرلیں گے۔

انسان کو خوش و خرم رہنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا ،پارٹی کرتا ہے،روحانی محفلوں میں شریک ہوتا ہے، پیسہ خرچ کر کے خوشیاں خریدتا ہے۔لیکن کیمیکلز کوئی خاص کام‘ عمل یا دماغی سرگرمی کے دوران مفت مل جاتے ہیں۔ مثلاً انسان کو آگے بڑھنے اور ترغیب کے لیے ڈوپا مائن کام دکھاتا ہے۔ مایوس‘ دل سے ہارے ہوئے اور ڈپریشن زدہ افراد کو یہ مصنوعی طور پر دیا جاتا ہے لیکن یہ کیمیکل ہم بنا پیسہ خرچ کئے اپنے جسم میں پیدا کرسکتے ہیں۔ جب ہم کوئی ہدف حاصل کرتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو عزت دیتے ہیں‘ اپنا خیال رکھنے والے کام کرتے ہیں‘ ورزش کرتے ہیں‘ موسیقی سنتے ہیں اور اپنے ساتھ بھلائی کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں تو ڈوپا مائن پیدا ہوتا۔ آپ فریج یا ٹی وی کے ساتھ سٹیبلائزر لگاتے ہیں تاکہ بجلی کی یک دم کمی بیشی سے برقی آلات جل نہ جائیں‘ انسان کو اپنا موڈ متوازن رکھنے کے لیے جس کیمیائی سٹیبلائزر کی ضرورت پڑتی ہے اسے SEROTONIN سیروٹونن کہتے ہیں۔ آپ یوگا یا ارتکاز کی مشق کریں‘ گہری گہری سانس بھریں‘ دوڑ لگائیں‘ سورج کی دھوپ سینکیں یا کیلے کھائیں تو سیرو ٹونن کی مقدار اس سطح پر آ جاتی ہے کہ آپ کسی جذباتی دھچکے سے بچ سکتے ہیں۔

کوئی آرزومند ہے کہ وہ چاہا جائے یا کسی سے اس کی محبت مضبوط ہو تو اسے اوکسی ٹوسن کی ضرورت پڑے گی۔ یہ کیمیائی عنصر تعلق خوشگوار ہونے‘ گھر کے افراد کو گلے ملنے‘ پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلنے‘ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے اور دوسروں کی مدد کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ تکلیف سے کسے سامنا نہیںہوتا۔ اینڈور فنز کو درد کش کیمیکل کہا جاتا ہے۔ اپنے جسم میں اس کی مقدار تسلی بخش رکھنے کے لیے آپ کو قہقہے لگانا ہوں گے‘ رقص کرنا ہوگا‘ ڈارک چاکلیٹ کھانا ہوگی‘ گیان دھیان کرنا ہوگا‘ ونیلا یا مشک وحید کی خوشبو لینا ہوگی یا پھر ان کا عطر استعمال کرنا ہوگا۔

ایک نفسیاتی مرض اپوزیشنل ڈیفی اینٹ ڈس آرڈر (ODD) کہلاتا ہے۔ عموماً جن بچوں میں یہ ڈس آرڈر موجود ہوتا ہے ان کا رویہ عدم تعاون پر مبنی اور روزمرہ تعلقات خراب ہونے لگتے ہیں۔ نیورو بیالوجی کی نئی تحقیق جارحانہ اور پرتشدد رویے کی اصلاح پر روشنی ڈال رہی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ نفرت اور تشدد پسندی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے دماغ کا ڈھانچہ بعض کیمیائی عناصر کی کمی بیشی کا شکار ہوتا ہے۔ پاکستانی سماج میں سب سے زیادہ زیر بحث سیاست رہتی ہے۔

پچھلے چند برسوں میں سیاست نے جن رجحانات کو تقویت دی ہے ان میں مخالفین کی کردار کشی اور ان کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال ہے جو لفظی تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں‘ اس رویے نے سماج کے اس حصے کی اخلاقیات کو تباہ کردیا ہے جو سیاست کو روزمرہ گفتگو میں روا رکھتا ہے ۔

جو لوگ سیاسی مباحث کے نام پر لفظی اشتعال انگیزی سے لاتعلق رہتے ہیں وہ اپنی ذہنی صحت کو بڑی حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو زبانی تشدد اور جارحانہ رویے پوری قوم کو ایک نفسیاتی مریض بنا کر پیش کر رہے ہیں‘ گلی محلوں کے تھڑے‘ حجام کی دکان‘ چائے خانے‘ دفاتر‘ ٹاک شوز اور کالم کا متن نفرت کا پرچار کر رہا ہے جو زیادہ نفرت‘ تعصب اور جارحانہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے وہ اتنا بڑا مبصر اور دانشور ہے۔ سائنسدانوں کے پیش نظر شاید پاکستانی سماج ہی ہو گا جب انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ دماغ کا ایک مخصوص حصہ متاثر ہو جائے تو رویہ جارحانہ ہو جاتا ہے۔

ایسے نیورل سرکلز بھی ہیں جو صحت مند افراد کی قوت فیصلہ کو مضبوط کرتے ہیں۔ دماغ کا ایک ایسا حصہ بھی ہے جو امیکڈالا کہلاتا ہے‘ یہ حصہ دھمکیوں اور خطرات سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لیتا ہے۔ جارحانہ رویے کا اظہار دو درجوں میں ہوتا ہے۔ پرو ایکٹو جارحیت میں دیکھا جاتا ہے کہ کسی کو کس طرح مشتعل کیا جائے یا آرزردہ دل بنایا جائے۔ ری ایکٹو درجے میں جارحیت خود بخود نمودار نہیں ہوتی بلکہ بیرونی ماحول کے ردعمل میں ظاہر ہوتی ہے۔

دل دکھانے والے‘ کریلے جیسے کڑوے لوگ کہیں نہ کہیں ہماری سماجی زندگی میں گھس گئے ہیں۔ ماں باپ‘ بہن بھائی کڑوا بولتے ہوں تو مجبوری ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے ترجمان اگر اپنی زبانوں سے زہر ٹپکائیں تو ہماری کیا مجبوری ہے کہ ان کی باتیں سنیں‘ ریموٹ کا یہی فائدہ ہے کہ مریضانہ گفتگو سننے کی بجائے چینل تبدیل کردیں۔ برسر عام کسی کو نانی کہنا‘ سلیکٹڈ کہنا‘ بلورانی کہنا‘ نااہل کہنا‘ نالائق کہنا‘ ڈڈوچارجر کہنا‘ فاسق کہنا‘ بے غیرت کہنا کیا ہے؟ لفظ کی اگر کوئی بو ہوتی تو یہ الفاظ بدبودار کہلاتے۔

ہم ایک دوسرے کو وہ کچھ بھی کہہ جاتے ہیں جو لکھا نہیں جا سکتا۔ ہم نے لفظوں کی حرمت کا خیال نہ رکھا‘ ہم نے سماجی اقدار کو مسخ کیا اور ہم نے نفرت‘ تعصب اور رذیل مفادات کے ہاتھ خود کو فروخت کردیا۔ شائستگی‘ خوش اخلاقی اور اطمینان کیمیکل کی شکل میں دستیاب ہے ‘جو لوگ غیر متوازن رویوں کا شکار ہو جاتے ہیں ماہرین نفسیات انہیں ان کیمیکلز والی ادویات دیتے ہیں۔ بد زبان سیاسی رہنمائوں‘ چڑچڑے انتظامی افسران‘انسان بیزار سماجی شخصیات کو دیکھتا ہوں تو نفسیاتی عوارض کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہماری نفسیات بگڑ چکی ہیں‘ ہمیں علاج کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *