کیا یہ جمہوریت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بد ترین نظام حکومت ہے۔ لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں۔ یہ الفاظ سر ونسٹن چرچل کے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیراعظم رہے۔ پاکستان میں موجود جمہوریت کی علمبردار بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے گن گاتی نظر آتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ان سیاسی جماعتوں کے اندر اور ان کے حکومتی ادوار میں جمہوریت کوسوں دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک پندرہ سیاسی حکومتوں میں سے صرف سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی حکومتوں کے سوا کوئی بھی جمہوری حکمران اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ جس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ کہ پاکستان میں جمہوریت کس قدر مضبوط ہے۔ اقوام متحدہ جمہوریت کی تعریف کچھ یوں بیان کرتی ہے۔ جمہوریت خود میں ایک منزل نہیں بلکہ مسلسل سفر کا نام ہے۔ جو افراد اور اقوام کو ترقی کی راہ پر لیجاتا ہے۔

اور معاشرہ میں بسنے والے افراد کو بنیادی حقوق سے آراستہ کر کے انہیں آزادیوں کا احترام سکھاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کے بر عکس صرف انتخابات کے انعقاد کو ہی جمہوریت سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں جو ممالک جمہوری نظام سے منسلک ہیں۔ وہاں گو اقتدار کی منتقلی کا طریقہ انتخابی عمل ہے۔ لیکن صرف اس عمل کو مکمل جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ انتخابات کو جمہوریت کی چھلنی سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں حکمرانوں کے نزدیک صرف انتخابات میں ہی عوام کو شریک کرنا جمہوریت ہے۔ موجودہ حالات میں ملک کا سیاسی نظام پچیدگیوں اور الجھنوں کا شکار ہے۔ اس ملک میں جس تواتر کے ساتھ سویلین حکومتوں نے عوام کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا ہے۔ اس سے ملک میں غیر جمہوری ہی نہیں بلکہ آمرانہ اقدار کو بھی فروغ ملا ہے۔ پبلک پالیسی پر تحقیق کے ادارے پلڈیٹ نے اپنی تحقیق میں پانچ عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ جو پاکستان میں جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں۔

جن میں حکومت چلانے کے شفاف نظام اور قانون کی حکمرانی نہ ہونا ’سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان‘ سیاست میں بڑھتا ہوا پیسے کا عمل دخل ’غیر فعال یا کمزور پارلیمان‘ اور جمہوری تسلسل کی اہمیت سے انکارشامل ہیں۔ کسی بھی جمہوری حکومت کی بقاء کی مضبوط ضمانت اس کی گڈ گورننس میں ہوتی ہے۔ ملک کے مجموعی موجودہ حالات حکومتی گڈ گورننس کی قلعی سر بازار کھولتے نظر آ رہے ہیں۔ کرپشن ’مہنگائی‘ غربت و بیروزگاری ’اقرباء پروری‘ لوڈشیڈنگ ’غیر مستحکم ریاستی ادارے‘ زبوں حال معیشت ’انصاف کی عدم دستیابی جیسے مسائل جمہوریت کے علمبردار حکمرانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس اپاہج جمہوریت کو اپنی گرہ سے باندھے ملک کی تین سو باون رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہر پانچ سال بعد ملکی وسائل اور خزانے پر نقب زنی کرنے کے لئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کے فقدان کے باعث عوام کو حکمرانوں کے آمرانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بد قسمتی سے ملک میں موجود حق حکمرانی کی دعویدار بڑی سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ اور ان شخصیات کی قیادت کو پارٹی کے اندر کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

سیاسی جماعتوں میں جبر اور آمریت کی فضا ان پارٹیوں کو جمہوریت کا وہ مضبوط ستون نہیں بننے دیتں جو ان کا اصل مقام ہے۔ اور سیاسی جماعتوں میں موجود یہ رویہ نوجوان نسل کو بھی سیاست سے دور رکھنے کا باعث ہے۔ ان تمام حالات میں افسوسناک منظر یہ ابھرتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں ووٹ کے لئے تو عوام کے دروازے پر دستک دیتی ہیں لیکن اقتدار کے حصول کے لئے سرحد پار قوتوں کے دروں پر در بدر نظر آتی ہیں۔ آج بھی عوام کو فیصلے سازی کے عمل سے باہر رکھنے کی وجہ سے ملکی تاریخ کے اہم فیصلے عوام سے مخفی ہیں۔

کبھی یہ فیصلے سعودی عرب کبھی برطانیہ اور کبھی واشنگٹن میں طے پائے جاتے ہیں۔ جس کے باعث سیاسی عمل پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا چلا جا رہا ہے۔ مجھے حیرت ہے ایسے جمہوری نظام پر جس نظام میں ووٹ کے تقدس اور عوامی مینیڈیٹ کی حفاظت نہیں‘ انتخابی عمل کو آزادی اور شفافیت حاصل نہیں ’ہر طبقہ کو برابر نمائندگی کا حق حاصل نہیں‘ ادارے غیر مستحکم اور ان میں گڈ گورننس قائم نہیں ’کرپشن و بد عنوانی کے تدارک کے لئے سیاسی‘ انتظامی اور قانونی اقدامات نہیں ’اور معاشرہ میں بسنے والے افراد کے لئے روٹی‘ کپڑا ’مکان‘ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات نہیں۔

ایسے نظام کو میں جمہوریت تو نہیں آمریت کہہ سکتا ہوں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے محقق اینڈریس شیڈلر کے مطابق انتخابی آمریت ایک فوگی زون ہے۔ جہاں جمہوریت کا سورج نہیں نکلتا۔ پاکستان جیسے ملک میں انتخابی عمل کو ہی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا اسے جھوٹ اور فراڈ کہتی ہے۔ محض الیکٹورل پراسیس یعنی چار پانچ سال بعد الیکشن میں چلے جانا جمہوریت نہیں ہے۔ سٹینفورڈیونیورسٹی امریکہ کے پروفیسرلیری ڈائمنڈ جو پولیٹیکل سائنس پر ایک اتھارٹی ہیں۔

اپنے آرٹیکلElection Without Democracy:Thinking About Hybrid Regimesمیں لکھتے ہیں۔ کہ دنیا میں ایسے ممالک ہیں۔ جہاں الیکشن ہوتے ہیں مگر عوام کو جمہوریت نہیں ملتی۔ اکا دکا جمہوری چیزیں دینے سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جمہوریت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جمہوریت سے عوام کو کیا ملا۔ ان کو بنیادی حقوق ملے ’جانی تحفظ فراہم کیا گیا‘ نوجوان نسل کو روزگار دے کر قومی دھارے میں شامل کیا گیا ’ریاستی اداروں میں عوام کا عمل دخل کس حد تک ہے‘ اورکیا عوام کو سوشل سیکورٹی دی گئی اگر یہ چیزیں جمہوری نظام میں نہیں پائی جاتیں تو ایسے نظام کو قطعاً ہم جمہوری نہیں کہہ سکتے۔

ملک میں قیادت کے فقدان کے باعث ستر سال گزرنے کے باوجود اس ملک کے ستر خاندان اس دھرتی پر آباد کروڑوں عوام کی قسمت کی فال نکالنے کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ آخر یہ فرسودہ اور خود ساختہ نظام کو کون بدلے گا کیا یہی خاندان سیاسی گدھ عوام کی شہ رگ سے یوں ہی لہو نچوڑتے رہیں گے اور یہ عوام ہاتھوں پر ہاتھ دھرے اس نظام کی اصلاح اور اپنے مسائل کے حل کے لئے کسی آسمانی معجزے کی منتظر رہے گی تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھ لیں اگر ان حالات میں تاریخ کے اوراق معجزوں سے مزین ملیں تو پھر انتظار میں قباحت نہیں اگر نہیں تو پھر اپنی سمت درست کرنے کی اشد ضرورت ہے قوموں کے عروج و زوال ان کے کردار و عمل سے جڑے ہوئے ہیں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھ لیں کہ کردار و عمل میں ہم کہاں کھڑے ہیں موجودہ حالات کی پرتوں کو کھول کر اس کا عمیق نظر سے مطالعہ کر کے دیکھیں کہ بحیثیت عوام ہم اس نظام کی تبدیلی کے لئے کس حد تک مخلص ہیں۔

حکمرانوں کا طرز عمل اپنی جگہ لیکن اپنے آپ کو بھی ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ جمہوریت اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تو یاد رکھیں صرف انتخابی عمل آپ کی گرہ سے مکمل جمہوریت نہیں باندھ سکتا اس کے لئے جارج برناڈ شاہ کے اس قول کو عمل کی سیڑھی دینا ہوگی جس میں اس نے کہا تھا کہ جمہوریت ایک ایسا عمل ہے۔ جس کے تحت ہمیں ایسے ہی حکمران ملتے ہیں جس کے ہم لائق ہوتے ہیں۔ لہذا اگر تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کا آغاز عوام سے ہی ہو سکتا ہے۔ جب لوگ اپنی انفرادی اور خاندانی زندگیوں میں جمہوریت کو مستقل جگہ دیں گے تو ان کے حکمرانوں کو بھی جمہوریت کا پاس کرنا پڑے گا!

(برادرم راؤ غلام مصطفیٰ بہت پڑھے لکھے اور فاضل سیاسی تبصرہ نگار ہیں۔ سیاسی قوتوں کا تجزیہ کرنے میں ان کا ثانی ملنا مشکل ہے۔ ایک برادرانہ گلہ ہے کہ ان کے قلم سے کبھی ان پیشہ ورانہ نااہل، ذہنی مجہول اور مالی بددیانت نوکری پیشہ مجرموں کا ذکر پڑھنے میں نہیں آتا جو جمہوریت کی خامیوں کی آڑ میں اپنے دندان آز تیز کئے رکھتے ہیں۔ خدا کرے کہ میرا یہ سوئے ظن غلط ہو کہ راؤ غلام مصطفیٰ خطہ پنجاب کی دیرینیہ روایت کے اتباع میں ان طالع آزماؤں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ و – مسعود)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *