کوڑے دان میں سوٹ کیس
کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ پر ایک 900 میٹر لمبا بیراج ہے جسے غلام محمد بیراج کہا جاتا ہے عام لوگ اس جگہ کو کوٹری کا پل کے نام سے پہچانتے ہیں جو دریا کے ایک کنارے کو دوسرے کنارے سے متصل کرتا ہے۔ دریا کنارے لوگوں کے کچے پکے گھر ہیں جب دریا چڑھتا ہے تو پانی گھروں میں در آتا ہے لوگوں کی مال متاع برباد ہو جاتی ہے مگر جب پانی اترتا ہے تو پھر یہیں آ بستے ہیں۔ مارچ کا ایک سہانا دن تھا۔ میں دریا کنارے انہی گھروں کے نیچے چہل قدمی کر رہی تھی۔ کچھ گھروں کے چوبارے اور دالان بہتے پانی کے اوپر تک آئے ہوئے تھے ایسے ہی کسی چوبارے سے شازیہ خشک کے سریلے نغمے کی آواز آ رہی تھی جو دریا کی شور مچاتی لہروں اور کوٹری کی تیز ہوا میں کبھی سماعت سے گریزاں ہو جاتی، کبھی بالکل صاف سنائی دیتی۔
”آپ کو کس سے ملنا ہے“ کسی نے آواز دی
”کسی سے نہیں۔ بس یونہی دیکھنا چاہتی تھی یہاں لوگ کیسے رہتے ہیں“
اچھا! وہ ہنسی ”تو پھر اوپر اجائیں۔“
میں چھوٹی سی سیڑھی چڑھ کر دریا پہ جھکے دالان میں پڑی بید کی کرسی پر بیٹھ گئی۔
”فیروزہ دو کپ چائے لے آ ؤ۔“ اس نے کسی فیروزہ کو آواز لگائی۔
دالان کے پیچھے بڑا سا کچا صحن تھا جس میں فالسے، امرود اور جامن کے درخت لگے تھے۔ صحن کے ایک جانب دو تین کمرے دکھائی دے رہے تھے اور ایک جانب باورچی خانہ تھا۔ غسلخانہ دریا کے اوپر بنایا گیا تھا۔ صحن کے پرلی طرف بڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ یہ گلی سڑک سے ملتی تھی جہاں حیدرآباد جانے والی فور سیٹر کھڑی ہوتی ہیں۔ رکشہ کے انجن کے پیچھے دو عمودی نشستیں ہوتی ہیں۔ لوگ اسے ”کوا“ کہتے ہیں۔ وجہ تسمیہ اس کی کوے سے مشابہ شکل، سیاہ رنگ اور چلتے ہوئے پھٹ پھٹی کی سمع خراش آواز ہو سکتی ہے۔ اس میں چار لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن مزید دو ایک افراد پیڈل پر پاؤں جما کے اور ڈنڈے سے لٹک کر حیدرآباد تک کا سفر کرتے ہیں۔ یہ سواری میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔
فیروزہ بھاپ اڑاتی چائے اور سوپر بسکٹ لے آئی تھی چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے میں نے پوچھا ”استعمال کے لیے پانی کہاں سے آتا ہے؟“
فیروزہ کی ماں نے بتایا ”کمیٹی کا نلکا ذرا دور ہے کبھی کبھی وہاں سے پانی لے آتے ہیں ورنہ دریا کا پانی ہی استعمال کرتے ہیں۔ کھلے منہ کے برتن میں پانی بھر کر پھٹکری لگا دیتے ہیں صاف پانی اوپر جاتا ہے اور تلچھٹ نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ صاف پانی نتھار کر مٹکے اور صراحی بھر لیتے ہیں۔ اس نے کپاسی رنگ کی صراحی کی طرف اشارہ کیا جس کے پیندے پر ہری کاہی لگی ہوئی تھی (۔ کپاسی رنگ کی صراحی بس ہہیں تک ملتی ہے اس کے آگے کراچی میں مٹکے کے رنگ کی صراحی نظر آئے گی)
آج صبح فیروزہ کی ماں نے تین چار ناند پانی بھر کے پھٹکری لگائی تھی لیکن فیروزہ کو جانے کیا سوجھی تھی بار بار لکڑی سے ہلا دیتی، نیچے بیٹھی تلجھٹ پانی میں حل ہو کر اسے گدلا کردیتی۔ فیروزہ کی ماں بھڑک اٹھی
”اے فیروزہ یہ تو بار بار پانی کیوں گدلا کر ے ہے“
نویں جماعت میں پڑھنے والی فیروزہ کہتی ہے ”اماں میں کہاں کرتی ہوں پانی تو خود ہی گدلا ہے“
”اری بے وقوف، دریا کا پانی بھانت بھانت کے گھاٹوں سے گزر کر آتا ہے اسمیں کر کر ( kir kir ریت اور مٹی) تو ہوگی۔ پر وہ نیچے بیٹھ جاتی ہے تلچھٹ کونہ چھیڑو تو پانی صاف ہی رہتا ہے۔ اسے چھیڑو گی تو سارا پانی گدلا دکھائی دے گا۔“
فیروزہ کی ماں سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس بڑے سے کچے پکے گھر میں رہتی تھی۔ اس کے بھائی پرچون کی دکان کرتے تھے مگر حلئے سے مولوی دکھائی دیتے تھے۔ گھر کا سارا کام وہ اور اس کی بیٹی کرتی تھیں۔ دونوں بھاوجیں جامن کے درخت کے نیچے پلنگ ڈالے کروشیہ سے دوپٹے کی کناری، میزپوش اور چادریں بنتی رہتیں۔ دستکاری کے یہ نمونے ریشم گلی حیدرآباد کی ہینڈی کرافٹ کی بڑی دکان والے بنواتے تھے۔ انہیں تو بہت معمولی محنتانہ دیا جاتا مگر دکان پر یہ مہنگے داموں بکتے۔
فیروزہ اور اس کی ماں عذرا سے میری ملاقاتیں جاری رہیں۔ فیروزہ کو پڑھنے کا شوق تھا۔ میں اکثر پڑھائی میں اس کی مدد کردیتی۔ ایک دن مجھے عذرا نے بتایا کراچی کے علاقے بفرزون سے اس کے لئے رشتہ آیا ہے۔ تین بچوں کا باپ ہے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ بیٹی فیروزہ کی عمر کی ہے۔ بیٹے اس سے بڑے ہیں۔ بیوی کا انتقال ہو گیا ہے صابر صاحب بیٹی کی وجہ سے دوبارہ عقد کے خواہش مند ہیں۔ عذرا میں انہیں ایک سلجھی ہوئی شفیق اور مونس ماں دکھائی دی ہے۔ عذرا کا دلکش چہرہ اور متناسب جسم صابر صاحب کے مردانہ ذوق کی تسکین کے لئے بونس تھا۔ عزرا نے تصویر دکھائی۔ وہ بھی خاصے ہینڈسم تھے۔ گھر اپنا تھا گاڑی بھی تھی۔
میں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”پھر کب ہو رہی ہے شادی“
عذرا جامن کے درخت کی طرف دیکھتے ہوئے حتی المقدور نیچی آواز میں بولی ”میرے بھائی اور بھابھی راضی نہیں“
”کیوں“
”کہتے ہیں جوان ہوتی بیٹی کی ماں کو دوسری شادی کرنا جچتا نہیں“
میرے تن بدن میں چنگاریاں سلگ اٹھیں ”شہنشاہ اکبر نے بیوہ کے لئے ستی ہونے کی رسم ختم تو کردی مگر صرف لکڑیوں کی آگ پر بھسم ہونے سے مکتی مل پائی یہ جو لوگوں کے آتشی رویئے جلا کے راکھ کرتے ہیں اس سے کب نجات ملے گی۔“
میں نے اس سے پوچھا ”تم شادی کرنا چاہتی ہو“
”اپنا گھر بار کون نہیں چاہتا“ اس نے کہا
”تب تمہیں کوئی اس سے نہیں روک سکتا۔ دیکھو عزرا سب سے پہلے تو اپنے اندر یقین پیدا کرو کہ شادی کر کے تم کوئی نازیبا کام نہیں کروگی۔ یہ تمہارا شرعی، قانونی اور سماجی حق ہے۔ تم اعتماد کے ساتھ اپنے بھائیوں سے اپنے حق کے لئے بات کرو۔ یاد رکھو بات کرتے ہوئے تمہارا لہجہ معذرت خواہانہ نہیں ں لکہ خود مختارانہ ہونا چاہیے۔ انہیں یاد دلاؤ کہ اسلام صرف داڑھی رکھنے اور پائنچے ٹخنوں تک چڑھانے کا نام نہیں۔ بندوں کے حقوق کی پاسداری زیادہ ضروری ہے۔ اسلام نے بیوہ کے عقد ثانی کو جائز ہی نہیں مستحب قرار دیا ہے۔ تمہاری بیٹی بڑی ہو رہی ہے مگر تم ابھی جوان ہو اور تمہیں ازدواجی زندگی کا تحفظ اور مسرتوں سے محروم رکھنا کسی طور جائز نہیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کسی عمر میں بھی شادی کرنا غلط نہیں۔
پھر میں نے اس کو سمجھایا بھائیوں سے کہو اگر تم اپنے گھر بار کی ہو گئیں تو تمہارے خرچے کا بوجھ ان پر سے کم ہو جائے گا۔ عذرا نے وعدہ کیا وہ بات کرے گی۔
اگلی بار میں اس کے گھر گئی تو لکڑی کا بڑا دروازہ عزرا کی بھابی نے کھولا۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر نفرین کے تاثرات ابھرے اور وہ دروازہ ادھ کھلا چھوڑ کر کوئی سلام دعا کیے بنا اندر چلی گئی۔ میں اس کے منافرانہ رویئے کو خاطر میں لائے بغیر عذرا کی طرف بڑھی۔ وہ حسب معمول مجھے دریا والے دالان میں لے ائی۔ بھابی کے رویے سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ عذرا نے بات کرلی ہے اور اس کی جرات رندانہ کا تانا بانا مجھ سے جوڑا گیا ہے لیکن ماحصل کیا ہوا یہ جاننیے کے لئے بے تاب تھی۔
عذرا نے مجھے بتایا کہ پائیاں (وہ بھائی میاں کو ہمیشہ پائیاں کہتی تھی) شادی کے لئے راضی ہیں مگر ان کی ایک شرط ہے۔ وہ کہتے ہیں فیروزہ ساتھ نہیں جائے گی۔ اجکل سگے باپ بھائی کی بدنیتی کے قصے سننے اور پڑھنے میں آرہے ہیں تو سوتیلے رشتے پر کیونکر بھروسا کیا جاسکتا ہے۔
میں نے ایک گہری سانس لے کر کہا ”معاشرہ اس دریا کے پانی کے مانند ہے جو تمہاری ناند میں بھرا ہے۔ کر کر ہونا لازمی ہے مگر وہ تہہ میں ہے۔ چند قلم کار اور صحافی اپنے قلم سے تلچھٹ کو ہلا ہلا کر پانی کو گدلا کرتے ہیں اور تاثردیتے ہیں کہ جو ہے وہی دکھا رہے ہیں مگر درحقیقت پانی صاف ہے صرف تلچھٹ میں غلاظت ہے اور اسے بار بار سطح پر لانے سے عوام میں بے چینی، خوف اور مایوسی پھیلتی ہے۔
عذرا کو منہ کھولے تکتا پاکر میں ہنس پڑی
”چلو اچھی بات ہے تمہارے بھائی راضی ہیں“
”لیکن میں فیروزہ کے بغیر کیسے راضی ہو سکتی ہوں“
”صابر صاحب کیا کہتے ہیں فیروزہ کے معاملے میں“
”وہ ہر دو صورت میں راضی ہیں“
تو پھر شادی کرلو۔ ان کے ساتھ رہ کر انہیں پرکھو جب مناسب سمجھو تو فیروزہ کو لے جاؤ۔ اسے خوفزدہ کیے بنا سمجھا دینا کہ کسی بھی نامناسب رویے کی بابت تمہیں آگاہ کرے۔ اسے یہ اعتماد دینا کہ اس کی بات پر یقین کیا جائے گا اور اسے مطعون نہیں کیا جائے گا
پانچ سال تک عذرا سے میرا رابطہ منقطع رہا کیونکہ۔ یں جرمنی چلی گئی تھی۔ اس کا پوسٹل ایڈریس بھی نہیں تھا۔ واپس آنے کے بعد پہلی فرصت میں کوٹری کے اس گھر پہنچی۔ حسن اتفاق سے عذرا میکے آئی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ فیروزہ کی عمر کی اس کی سوتیلی بیٹی روزینہ بھی تھی۔ اس کے اور عذرا کے درمیان ماں اور بیٹی کا اٹوٹ ربط محسوس کیا جا سکتا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ صابر صاحب شادی کے ڈیڑھ سال بعد دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔
عزرا اپنا سامان سمیٹ کر بھائی کے گھر لوٹنے کو تیار ہوئی تو تینوں بچے اس کے گرد آ کر بیٹھ گئے۔ بڑے بیٹے انعام نے کہا ”آپ ہماری ماں ہیں۔ باپ کے بعد ماں بھی نہ رہے تو بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ اپ کے ہوتے ہوئے ہم یتیم نہیں ہوسکتے۔“ انعام نے سوٹ کیس روزینہ کو دے کر کہا ”اسے خالی کر کے کوڑے دان میں پھینک دو تاکہ پھر کبھی استعمال نہ ہو سکے۔“
عذرا نے بتایا کہ فیروزہ کو پائیاں نے اپنے پاس ہی رکھا لیکن وہ آتی جاتی رہی۔ انعام، شارق اور روزینہ اسے سگی بہن کی طرح چاہتے ہیں۔ فیروزہ کی شادی طے ہوگی ہے۔ انعام کو پائیاں کی بیٹی ثمرہ پسند ہے۔ انعام ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرلے تو پائیاں سے اپنی بہو کے لئے بات کرے گی۔ عذرا نے مجھے شادی کی دعوت دی جو میں۔ نے بصد خوشی قبول کرلی۔
شادی کراچی کے فلورنس گارڈن میں تھی۔ دلہن بن کر فیروزہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ تقریب شاندار رہی۔ رخصتی کے وقت ایک جانب روزینہ دلہن کا شرارہ سنبھا لے ہوئے تھی دوسری جانب انعام، بھائی کی طرح اس کے سر پر قرآن کا سایہ کیے اسے گاڑی تک لے کر آیا۔ اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی شارق مستعدی سے دولھا کے آگے آ گیا۔ اسے بھائی کا نیگ چاہیے تھا۔ کچھ تکرار کے بعد دولھا نے جیب ڈھیلی کی اور اپنی دلہن کے پہلو میں براجمان ہونے کی اذن پائی۔ گاڑی ڈرائیو وے سے نکلی تو عذرا اپنے تینوں بچوں کو بانہوں میں سمیٹ کر رو دی۔ شاید خوشی سے۔





