کیا قدیم مقدس ویدیں پنجاب اور ہریانہ میں لکھی گئیں تھی؟

رگ وید میں صرف گنگا سے مغربی سمت بہنے والے شمال مغربی دریاؤں کا ذکر ہے۔ گنگا جمنا کا سرسری سا ذکر ملتاہے۔ ویدوں کے مصنف رشیوں کے لیے تب گنگا شاید اتنا اہم نہیں تھا۔ زیادہ تعریفیں سندھو اور سرسوتی (ہاکڑا) کی ملتی ہیں۔ ویدوں کے مطابق یہی دو سب سے مقدس دریا ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب ویدیں لکھی گئیں، چلیں تحریری صورت لکھی نہ بھی گئیں ہوں مگر صدیوں تک نسل در نسل زبانی منتقل ہوتی رہیں ہیں۔
ویدی زمانے کے وقت تک معاشی اور سماجی لحاظ سے اور اس کے نتیجے میں مذہبی لحاظ سے سندھو اور ہاکڑا دریا زیادہ اہم تھے کیونکہ وہ ان کے علاقے کے مرکز میں بہتے تھے ان کی زمینوں، کھیتیوں، بستیوں کو سیراب کرتے اور پانی مہیا کرتے تھے۔ ہڑپائی تہذیب میں بھی یہی دریا مرکزی حیثیت رکھتے تھے ہڑپا کی طرح ویدی تہذیب بھی سندھو سرسوتی بیسن میں پروان چڑھی۔ اگرچہ ویدی تہذیب کسی بھی طرح اپنی سابقہ عظیم ہڑپائی تہذیب کے شایان شان تہذیب نہیں تھی۔
تاہم پھر بھی وہ ہڑپہ کی مانند ایک زرعی تہذیب تھی انھوں نے ہڑپائی لوگوں کی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر دریائی پانی کو نہروں، بندوں پشتوں کی مدد سے کاشتکاری کے لیے استعمال کیا۔ رگ وید کی زبان او جغرافیائی و آرکیالوجیکل خصوصیات ہمیں بتاتی ہیں کہ رگ وید لگ بھگ پینتیس سو سال پہلے یعنی 1500 BC میں لکھی گئی ہوگی۔ ہم جانتے ہیں کہ سندھو اور ہاکڑا سرسوتی ندیوں کا علاقہ پنجاب اور ہریانہ ہی ہے۔
جبکہ بعد کے ہندو اور بدھ لٹریچر میں گنگا کی اہمیت بڑھ جاتی ہے سرسوتی کا ذکر غائب ہوجاتا ہے (کیونکہ اب ہم جانتے ہیں کہ سرسوتی۔ ہاکڑا دریا آج سے تین ہزار سال پہلے خشک ہو گیا تھا۔ ویدیں اس سے پہلے کی ہیں۔ جبکہ دیگر ہندو لٹریچر جیسے براہمنا، رامائن، گیتا، مہا بھارت وغیرہ سب ویدوں کے بہت بعد لکھے گئے کیونکہ تب تک آتے آتے ویدوں کی زبان خاصی تبدیل ہو کر کلاسیکل سنسکرت بن چکی تھی۔ تب تک ویدی لوگ بھی مسلسل پھیلتے ہوئے مشرق میں بنگال، آسام اور برہم پترا تک اور جنوب میں دراوڑی خطے تک پہنچ گئے تھے۔
ماہرین کا مانناہے کہ ہندو دھرم میں یہ نیا اضافہ غالباً گوتم بدھ کی برہمن مت کے خلاف اٹھنے والی تحریک کے بعد ہوا۔ جب برہمن مت میں اصلاحات کی گئیں۔ ان کتب کے کچھ حصے تو ممکن ہے چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی تک گپتا سلطنت کے وقت لکھے گئے ہوں گے ۔ سنسکرت زبان تب تک اشرافیہ، دربار اور برہمن طبقے کی زبان بن کر رہ گئی تھی۔ مقدس زبان ہونے کے کارن عام (کم تر) لوگوں کو سنسکرت بولنے کی اجازت نہیں تھی۔
عام لوگ پراکرتیں بولتے تھے جو کہ سنسکرت کی طرح اگرچہ نکلی یا تو ویدک بھاشا سے تھیں یا اس کے ہم عصر دیگر عوامی بھاشاؤں اور ان کے لہجوں سے، لیکن عوامی بولیاں ہونے کے سبب وہ خوب پھلی پھولی۔ اس کے مختلف لہجے بنے۔ ایک دوسرے سے دوری کے سبب وہ لہجے الگ زبانوں میں ڈھل گئے۔ پراکرتیں لسانی ارتقائی مراحل طے کرتی اور تغیر پذیر ہو کر زندہ بولیاں بنیں وہیں سنسکرت عوامی عام بول چال کی زبان نہ ہونے کے باعث مزید ترقی نہیں کر سکی اور رفتہ رفتہ ناپید ہو گئی۔ جسے انگریز دور میں دوبارا زندہ کیا گیا۔ اسی نو پیدا کردہ قدیم ناپید زبان کے ذخیرہ الفاظ ہندوی/ ہندوستانی میں داخل کر کے اک نئی مصنوعی ہندو زبان ہندی تیار کی گئی۔
اسی طرح ہندوی/ہندوستانی میں سرکاری زبان فارسی کے الفاظ دخیل کر ایک دوسرا رجسٹر اردو کے نام سے تیار کیا گیا۔ عوامی زبان ہندوی یا ہندوستانی کی شکلیں بگاڑ کر پیدا ہوئیں دونوں نئی شکلوں کو سیاسی اشرافیہ نے اپنے مفاد کے لیے لیے استعمال کیا۔ مقامی لوگوں کو غلام بنائے رکھنے کی غرض سے ان کی مقامی مادری زبانوں کو دبایا گیا اور ادھر اردو اور بھارت میں ہندی نافذ کی گئیں۔
پاکستان (خصوصاً مشرقی پاکستان) اور بھارت میں آزادی کے فوراً بعد ہی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا تھا تاہم دونوں طرف ردعمل مختلف اور متضاد تھا جس کا نتیجہ بھی سامنے ہے۔ نہرو نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں علاقائی زبانوں کو ریاستی سرپرستی دینے اور پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا بھارت کی 22 قومی زبانیں ڈکلیئر کی گئیں۔
سکولوں میں تعلیم مادری زبانوں میں دی جانے لگی۔ دفتروں عدالتوں اور میڈیا کے لیے ہر ریاست کو ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں کو ریاستی زبان کا درجہ دینے کا اختیار دیا۔ اور نتیجتاً علیحدگی اور قوم پرست تحریکیں خود ہی دم توڑ گئیں۔ بھارت کا وفاق مضبوط ہوا۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں جو مقامی زبانوں اور کلچر کی طرف رویہ اختیار کیا گیا اور اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب کو معلوم ہی ہے!

