ڈاکٹر طارق بنوری کی جبری رخصتی
جن کا شعور تنقیدی، ذہن تخلیقی اور کام کا انداز غیر روایتی ہے ایسے لوگوں کے لیے وطن عزیز میں سرکاری نوکری کرنا کسی عذاب مسلسل سے کم نہیں۔ ہایئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے جبری طور پر ہٹائے جانے والے چیئرپرسن ڈاکٹر طارق بنوری کو اس عذاب مسلسل کا مزا چکھتے رہنے کا شوق ابھی باقی ہے، انہوں نے اپنی بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے دیکھیں کورٹ کیا کہتی ہے۔ تبدیلی کے نام پر آئی حقیقی تبدیلی مخالف سرکار نے بہرحال بنوری صاحب کو ایک آرڈیننس سے طاقت کی ادھار لے کر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
ڈاکٹر طارق بنوری، ان کے ہم خیال، چاہنے والے اور ہمدرد چاہے اب کتنا بھی قانون کے غلط استعمال کا رونا رو لیں، شور کرتے رہیں اور نا انصافی کے خلاف احتجاج کرتے رہیں۔ وہ بھلے کہتے رہیں کے ایک شخص ( بنوری صاحب) کو ہٹانے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی ہے، آرڈیننس کا سہارا لیا گیا ہے ایسا کرنے سے قانون کو ایک شخص کے خلاف استعمال کرنے کا مثال قائم ہوتا ہے جو مستقبل کے لیے بھی اچھا نہیں۔ احتجاج کرنے والے جو بھی کہیں قابلیت اور اعلیٰ تعلیم سے لڑنے والوں نے بنوری صاحب کو تقریباً پھر سے اقوامہ متحدہ یا یوٹا یونیورسٹی جا کر نوکری کرنے کا راستہ دکھائی دیا ہے۔
ڈاکٹر طارق بنوری اپنی قابلیت، علمی صلاحیت، تخلیقی خیالات اور قیادت کا ہنر جا کر اقوامہ متحدہ اور یوٹا یونیورسٹی امریکا میں آزمائیں۔ یہاں معیار اور پائیدار ترقی کے راستے پر چلنے والی قیادت کی نہیں ڈاکٹر عطاءالرحمان جیسے تعداد اور نمبروں سے اعلیٰ تعلیمی میدان میں قوم و ملک کا شان بڑھانے والے سائنسداں وں کی قدر ہے۔ بنوری صاحب نے پاکستان میں مقابلے کا اعلیٰ امتحان (سی ایس ایس) پاس کر کے تقریباً چار سال خود کو سول سروس میں آزمایا مگر وہ نوکری ان کا دل بہلا نہ سکی اور بنوری ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات میں ڈاکٹریٹ کرنے چلے گئے۔
انہوں نے پاکستان میں پائیدار ترقی پر کام کرنے کے لیے Sustainable Development Policy Institute نام سے ایک شاندار ادارہ بنایا وہاں اپنے قلم، خیالات اور تخلیقی قیادت کی قابلیت کو آزمایا۔ اس بے چین روح کو وہاں بھی چین نہیں آیا اور جاکر اقوامہ متحدہ میں کام کیا۔ تقریباً 30 کتابوں اور 50 سے زیادہ تحقیقی مقالات و رپورٹس کے مصنف ڈاکٹر طارق بنوری کو ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے ایک ایسے پینل کا شریک لکھاری ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے جس کو نوبل انعام کا اعزاز ملا۔ وہ عالمی ادروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربے رکھتے ہیں مگر ڈاکٹر عارف علوی، عمران خان اور شفقت محمود جیسے بلا کے ذہیں لوگوں سے کام کرنے کا تجربہ کہاں سے لاتے؟ یہ پہلا تجربا تھا جو بہت ہی برا ثابت ہوا۔
اعلیٰ تعلیم کو منافعہ بخش صنعت بنانے والوں کو جھوٹے اعلیٰ تعلیمی ادارے بنانے ہیں، جھوٹی سندیں بنانی اور بیچنی ہیں۔ ان کو تعلیمی معیار، وقار اور ذہانت نہیں بڑھانی صرف تعداد بڑھانا ہے۔ جعلی تحقیقی جرنل چھاپنے ہیں، تعلیمی میدان میں جعلسازی کو فروغ دینا ہے۔ ایسی تحقیق کو تعلیمی اداروں میں بڑھانا ہے جو لوگوں اور معاشرے کے کسی کام کی نہ ہو، وہ صرف تحقیق برائے تحقیق ہو۔ جامعات کے اساتذہ کو بھی ایسی ہے تحقیق سے پیار ہے جو معاشرے اورلوگوں کے لیے نہیں صرف ان کی فردی ترقی کے لیے ہو۔
ڈاکٹر پرویز ہودبھائی جیسے نقاد ایسی غیر معیاری تحقیق پر اپنے بال نوچتے رہتے ہیں مگر مافیائیں تو ایک دوسرے کے مفاد کا تحفظ کرتی ہیں، کون سنتا ہے ڈاکٹر ہودبھائی جیسے دیوانوں کو۔ یہاں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کا کامیاب چیئرپرسن وہ ہو سکتا ہے جس کے اپنے خانگی اعلیٰ تعلیمی ادارے ہوں، جس کی خانگی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حصیداری ہو، جو چیئرپرسن بن کر پورے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو انٹر نیٹ سروس مہیا کرنے کا کام اپنی ہی کمپنی کو دے۔
طارق بنوری نے تو جمود توڑنا تھا، اعلیٰ تعلیمی نظام میں اصطلاحات لانے تھے، ڈگری کی اہمیت اور وقار بڑھانا تھا تو وہ یہاں کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسے باغی اور روایت شکن ذہین لوگوں کے لیے اس ملک میں اب جگہ رہی کہاں ہے۔ خوابوں کو تعبیر دینے والے ایسے دیوانے لوگ اب اس ملک میں صرف اس سکون کی بات کریں جو بقول کپتان بابا کے قبر میں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بنوری نے ابھی ہایئر ایجوکیشن کمیشن پاکستان میں اپنے عالمی تجربے پر عمل کرنا شروع ہی کیا تھا تو آرڈیننس سرکار نے اپنی جیب سے آرڈیننس نکال کر ان کو ملکی جامعات کی ڈگری کا مقام اور معیار بڑھانے والے اپنے کام سے روک دیا۔ بنی گالا سرکار کے ایک اور متاثر ڈاکٹر عمر سیف کی طرح ڈاکٹر بنوری ذہنی طور پر اس دیار غیر سے یہ گاتے جائیں : بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے۔


