قبل از مرگ واویلا اور عجلت پسند دانش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوموں کا زوال قومی اسمبلی کے حلقہ 75 کی دھند نہیں کہ چنیدہ پولنگ اسٹیشنز پر اترے اور باقی منطقوں میں نگہ رسا متاثر نہ ہو۔ عزیز حامد مدنی نے زوال کی حرکیات کو کس بلاغت سے سمیٹ لیا، یورش باد واپسیں مجھ پہ چہار سو سے ہے…. زوال کے یہ زاویے جہالت، حماقت، جرم اور سازش کی چار جہتوں سے تشکیل پاتے ہیں اور قوم کا کوئی فرد، کوئی شعبہ اور کوئی ادارہ اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ امریکی ڈرامہ نگار آرتھر ملر کا ایک نوجوان کردار کہتا ہے، ’میرے اردگرد ہر چیز اس قدر گلی سڑی ہے کہ میں اپنے آدرشوں کو مسلسل گراتا رہتا ہوں‘۔ مشکل یہ ہے کہ توقعات کو مختصر کرنے سے بحران کی شدت میں کمی نہیں آیا کرتی۔ ایک صاحب دانش نے 2018ء میں اس ملک کے صحافیوں کو چھ ماہ کے لئے مثبت رپورٹنگ کی تلقین کی تھی۔ ہمارے ملک میں دانش کا معیار صاحب تکلم کے منصب کی بلند پروازی سے قرار پاتا ہے ورنہ اختر حسین جعفری کا مصرع تب بھی گوش گزار کیا جا سکتا تھا، ’تکلم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتا ‘۔

ٹھیک جس طرح زوال کا عمل ہمہ جہتی ہوتا ہے اور کسی ایک فرد، طبقے یا گروہ کو اس سے استثنیٰ نہیں ہوتا، اسی طرح ترقی کا سفر بھی کسی فرد واحد کا منتظر نہیں ہوتا کہ ایک اشارے پر پیادہ سپاہیوں کا دستہ مشرق سے مغرب کی طرف منزلیں مارنا شروع کر دے۔ ترقی کا سفر علم، معیشت، سیاست اور سماجی اقدار کے باہم گتھے ہوئے سیال دھاروں پر گہرے غور و فکر سے متعین کیا جاتا ہے۔ اس جادہ پیمائی کی کامیابی کے دو راز ہیں، عمرانی معاہدے کا تسلسل اور شہریوں کا اعتماد۔ عمرانی معاہدہ ریاستی خد و خال کا مستقل بندوبست ہے جب کہ حکومت کی قوت نافذہ ایک میعادی امانت ہے جسے طے شدہ مدت کے بعد عوام سے تجدید کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہم نے وطن عزیز میں عمرانی معاہدے کو ہمیشہ کانچ کا کھلونا گردانا اور حکومت کو نعمت خداوندی سمجھتے ہوئے عوام کو اس کاروبار سے بارہ پتھر باہر رکھا۔ ن م راشد نے کیا اچھا کہا۔ مجھے گرد و خاک سنا رہے ہیں وہ داستاں / جو زوال جاں کا فسانہ ہے۔

آج زوال جان کے فسانے میں دو حکایات ہیں۔ بدھ (31 مارچ) کو اکنامک کوارڈینیشن کمیٹی (ECC) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محترم حماد اظہر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد وزیر خزانہ نے نئی ذمہ داریوں سے کشید کردہ اعتماد کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ای سی سی نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حماد صاحب کو استحضار نہیں ہوا کہ ای سی سی کی حیثیت مشاورتی ہے اور اس کی تجاویز حتمی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ بطور وزیر خزانہ حماد اظہر کی پہلی ہی پریس کانفرنس سے قرائن کے مطابق نجوم و سیارگان کی گردش میں تزلزل آ گیا۔ اگلے روز کابینہ کا اجلاس شروع ہوا تو خبروں کے مطابق شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، شیریں مزاری اور فواد چوہدری نے ڈٹ کر اعلان کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں 5 اگست 2019ء کے بھارتی فیصلے کی واپسی تک باہم تجارت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وفاقی کابینہ کے ان چار نگینوں میں نقطہ اشتراک کیا ہے، یہ قیاس پڑھنے والوں کی ذہانت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

وزیر اعظم نے حماد اظہر سے دریافت کیا کہ انہوں نے ای سی سی کے اجلاس میں ایسی تجویز کیوں منظور کی؟ دروغ بر گردن راوی، حماد اظہر نے جواب دیا کہ حضور آپ ہی کے حکم کی تعمیل کی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ای سی سی کے سربراہ وزیر اعظم خود ہیں۔ وہ اپنی صوابدید پر کسی رکن کابینہ کو اجلاس کی صدارت سونپ سکتے ہیں تاہم ای سی سی براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ متعلقہ وزارت کی منظوری کے بغیر کوئی تجویز ای سی سی کے اجلاس میں پیش نہیں ہو سکتی۔ بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تجویز دینے والی وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کے نگران وزیر بھی وزیر اعظم خود ہیں۔ بدھ کی شام ایک سیاسی نشست میں درویش بے نشاں نے عرض کی تھی کہ بھارت سے تجارت سمیت معمول کے تعلقات کی بحالی وہ منجدھار ہے جس میں سہروردی (1957)، ذوالفقار بھٹو (1976)، بے نظیر (1989)، نواز شریف (1999)، پرویز مشرف (2007)، آصف زرداری (2008) اور نواز شریف (2015) میں غرق ہوئے تھے۔ پاک بھارت تعلقات اور پاکستان کی داخلی سیاست میں ایسی پیچیدہ گرہ ہے کہ اسے خوشگوار بیانات سے کھولنا ممکن نہیں۔ یہ صحافتی پیش بینی کا معاملہ نہیں، تزویراتی فیصلوں کا کوہ گراں ہے۔ 24 گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ کابینہ کے اجلاس نے معاملہ کھول دیا۔

اس قصے کو یہیں چھوڑ کر ایک نہایت قابل احترام صحافی کے کالم کا ذکر کرتے ہیں۔ درجہ استاد پر فائز اس بزرگ نے بدھ کے اجلاس سے تحریک پا کر ایک موقر معاصر میں دو اپریل کو کالم لکھتے ہوئے بھارت سے چینی اور کپاس کی تجارت کی پرزور وکالت تو کی، سو کی، ایک ماہر تجزیہ کار کی طرح کڑی سے کڑی بھی خوب ملائی لیکن تعجب وہاں ہوا جہاں انہوں نے 1999 ءکے اعلان لاہور کے بارے میں ایسے ایسے دقیقے بیان کیے کہ ناطقہ سر بگریباں ہے۔ کیا استاد محترم نے محترمہ نسیم زہرہ، بھارتی جنرل وی پی ملک اور امریکی جنرل ٹونی فرینک کی تصانیف سے بھی استفادہ نہیں کر رکھا۔ سچ پوچھیے تو بے داغ شہرت کے حامل استاد صحافی کے بارے میں ایسا گمان بھی سوئے ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک ہی توجیہ باور ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اجتماعی زوال کا سیل بے اماں اپنی طغیانی میں سیاست، صحافت اور عدالت کے میدانوں میں امتیاز نہیں کرتا۔ وہی راشد کا لکھا نوحہ ہے اور بے بال و پری کا ماتم۔

کہیں گونج کوئی سنائی دے

کوئی بھولی بھٹکی فغاں ملے،

میں پہنچ گیا ہوں تمہارے بستر خواب تک

کہ یہیں سے گم شدہ راستوں کا نشاں ملے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply