ناروے میں اپنا مقام بنانے والے پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناروے میں پاکستانی سیاست بھی کر رہے ہیں اور بہت سے دیگر شعبوں میںبھی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان سے ناروے آنے والی پہلی نسل کے لوگ کام کرنے آئے تھے، بہت محنت سے کام کیا اور آجروں کے دل جیت لیے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں پاکستانی نہ ہوں۔

پاکستانی سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں۔ پاکستان میں بھی سیاست ان کا مرغوب ترین موضوع ہے اور یہاں ناروے میں بھی وہ صرف پاکستانی سیاست سے ہی نہیں بلکہ ناروے کی سیاست میں بھی نہ صرف دلچسپی رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس میں عملی طور پر حصہ بھی لے رہے ہیں۔

افشاں رفیق کا تعلق دائیں بازو کی جماعت سے ہیں۔ یہ طالب علمی کی زمانے ہی سے سیاست میں حصہ لینے لگیں۔ پہلے سٹی کونسل کی رکن بنیں 2001 میں پارلیمنٹ کی ممبر منتخب ہوئیں۔ یہ پہلی پاکستانی تھیں جو اس مقام تک پہنچیں۔

اختر چوہدری سوشلسٹ لیفٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے۔ الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچے۔ اور اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے۔

ہدیہ تاجک لیبر پارٹی کی نمایاں کارکن ہیں۔ 2012 میں لیبر پارٹی کی حکومت میں ثقافتی وزیر بنیں۔ ان کی عمر اس وقت صرف 29 سال تھی۔ انہیں سب سے کم عمر وزیر بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان دنوں اپوزیشن میں ہیں۔ اپنی پارٹی کی نائب صدر ہیں۔ اور ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔

عابد راجا کا تعلق بھی ایک سیاسی پارٹی سے ہے۔ یہ وکیل ہیں اور بہت سے ہائی پروفائل کیس لڑ چکے ہیں۔ ان کی پارٹی موجودہ مخلوط حکومت کا حصہ ہے اور عابد راجا اب کلچرل منسٹر ہیں۔

Abid Q. Raja

محمد شعیب سلطان ناروے کی گرین پارٹی کے ممبر ہیں۔ یہ پارٹی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ شعیب اسلامی ایڈوائزری کونسل کے سکریٹری ہیں اور سماجی کاموں میں بھی فعال ہیں۔

شوبز کی دنیا میں بھی پاکستانی نژاد لوگ کامیاب ہوئے۔ سب سے بڑا نام دیا خان کا ہے۔ انہوں نے موسیقی کی دنیا میں بڑا نام پیدا کیا اور اب انٹرنیشنل طور پر بھی اپنی پہچان بنا لی ہے۔ دو بار ایمی ایوارڈ جیتیں اور دو بار بیفٹا ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں۔ انہوں نے کامیاب ڈاکومنٹری فلمیں بھی بنائی ہیں۔

عادل خان دیا خان کے بھائی ہیں۔ انہیں بھی موسیقی اور رقص سے لگاو ہے۔ ٹیلنٹ شوز کے جج بھی رہے ہیں۔ ہیں۔ عادل خان نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بہت کام کیا اور انہیں آرٹ کی طرف لائے۔ آج کئی ڈانس گروپس عادل ہی کی تربیت سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

Deeyah-Khan-and-Adil-Khan

عمر بھٹی کم عمری سے ہی مائیکل جیکسن کے فین رہے اور اسی کی طرح ڈانس بھی کرتے تھے۔ ایک اتفاقیہ ملاقات میں دونوں ملے۔ مائیکل جیکسن کو بھی عمر بھٹی میں صلاحیتیں نظر آئیں اور دونوں کی دوستی ہو گئی۔ عمر بھٹی کئی سال مائیکل جیکسن کے ساتھ اس کے رینچ نیور لینڈ میں مقیم رہے۔ وہ مائیکل کے جنازے میں بھی شریک تھے۔ عمر بھٹی بھی موسیقی اور ڈانس سے وابستہ ہیں۔ ٹیلنٹ شو کے جج بھی رہ چکے ہیں۔

Omar bhatti & michael-jackson

ارم حق ڈگری یافتہ اسکرین رائٹر ڈائریکٹر ہیں۔ کئی مختصر فلمیں بنا چکی ہیں۔ ان کی ایک فیچر فلم ”لوگ کیا کہیں گے“ بہت پسند کی گئی۔

اولریک امتیاز کے والد پاکستانی اور والدہ نارویجین ہیں۔ یہ ایک مشہور فلم ڈائریکٹر ہیں۔ مشہور ڈرامہ سیریز ٹیکسی کی ہدایات بھی انہوں نے ہی دیں۔ ان کی ایک فلم ”عزت“ کو کئی ایوارڈ بھی ملے۔ اس کے علاوہ بھی کئی فلمیں ان کے کریڈیٹ پر ہیں۔ انہوں نے پاکستانی بچوں کے لیے بھی بہت کام کیا ہے۔

Izzat_(2005_movie_poster)

صحافت میں بھی بہت سے پاکستانیوں نے اپنا نام بہت روشن کیا ہے۔ ایک بڑے نام سید مجاہد علی سے تو ”ہم سب“ کے قارئین واقف ہی ہیں۔ گزشتہ چالیس برس سے ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے روح رواں ہیں۔ گزشتہ چھ برس سے ہر روز پابندی سے اپنا اداریہ لکھتے ہیں جو موجودہ اردو صحافت میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی صورت حال پر گہری نظر ہے۔ ان کا کارواں کے نام سے اپنا ایک ویب میگزین بھی ہے جس میں پاکستان، ناروے اور عالمی حالات پر خبریں اور مضامین ہوتے ہیں۔ کارواں کا آغاز 1981ء میں اوسلو سے ایک ماہنامہ پرچے کی صورت میں ہوا تھا۔ اب کاروان آن لائن پورٹل دنیا بھر میں آباد پاکستانی تارکین وطن کے اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

syed mujahid ali

عادل خان فاروق نوجوان ابھرتے ہوئے صحافی اور مصنف ہیں۔ اس کے علاوہ فلمیں بھی بناتے ہیں۔

ایک اور بڑا نام قذافی زمان کا ہے جو ایک بڑے چینل کے رپورٹر ہیں۔ بہت قابل اور باہمت صحافی ہیں۔ خطرناک مقامات پر جا کر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک بار جب وہ پاکستان میں ایک جلوس کی رپورٹنگ کر رہے تھے ان پر حملہ ہوا اور تشدد بھی کیا گیا۔ کچھ دن پاکستان کی جیل میں بھی کاٹے۔

gaddafi zaman

ماہ رخ علی طالب علمی ہی کے زمانے سے فعال رہی ہیں۔ چودہ سال کی عمر میں ایک کتاب بھی لکھی۔ جرنلزم میں آئیں اور پھر ٹی وی پر خبریں پڑھنے لگیں۔ یہ پہلی پاکستانی نیوز کاسٹر بنیں۔ اور سب سے کم عمر بھی۔ ماہ رخ علی نامور صحافی مجاہد علی کی صاحب زادی ہیں لیکن اپنی شہرت انہوں نے خود بنائی ہے۔

mahrukh ali

تعلیم کے شعبہ میں پاکستانیوں کی بہت خدمات ہیں۔ ان میں ایک بہت معتبر نام غلام شبیر مغل کا ہے۔ اسکول میں پڑھاتے رہے ہیں اور کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی بچوں میں اردو کا شوق پیدا کرنا ور انہیں اردو سکھانے کا کام اب بھی کر رہے ہیں۔ اہل زبان ہیں اور بچوں کا شین قاف درست کرنے میں ان کا بہت ہاتھ ہے۔ انہی کے ساتھ خادم حسین ملک کا نام بھی ہے۔ یہ بھی استاد رہے ہیں۔ اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بچوں کو اردو سکھا رہے ہیں۔ یہ دونوں حضرات بلا معاوضہ یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کی بدولت پاکستانی بچے ناروے میں رہنے کے باوجود اردو پڑھنا لکھنا سیکھ رہے ہیں۔ ناروے کے پاکستانی طالب علموں کے لیے ان کی خدمات عظیم ہیں۔ بچوں کے لیے اردو کی کئی کتابیں دھنک سیریز اور لغت بھی ترتیب دے چکے ہیں۔ حال ہی میں ملک خادم حسین کی ایک اور کتاب ”گلستان اردو“ شائع ہوئی ہے جو اردو سیکھنے والوں اور سکھانے والوں کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔

شمیم اختر ستار 22 سال کی عمر میں بیاہ کر ناروے آئیں اور کئی سال تنہائی اور اداسی میں گزارے۔ پھر ہمت کر کے باہر نکلیں۔ کام کیا اور پاکستانی خواتین کے لیے ایک فورم بنایا۔ جہاں عورتیں اپنی تنہائی دور کر سکتی ہیں۔ اپنی زبان میں دوسروں سے بات کر سکتی ہیں۔ زبان سیکھنے سے لے کر کام ملنے تک کی دشواریوں اور نئے ماحول میں بچوں کی پرورش کے مسائل پر مل کر گفتگو کرتی ہیں۔

ٹینا شگفتہ منیر کورنمو کئی شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ پاکستانی ہیں، ڈاکٹر ہیں بلکہ سرجن ہیں۔ صنفی مساوات پر بہت سرگرمی سے کام کیا۔ کتاب بھی لکھی۔ وہ مذہبیت کے دکھاوے کو ناپسند کرتی ہیں جو دوسروں پر ایک خاص دباؤ ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر اسکولوں میں نماز کے لیے ایک کمرا مخصوص کرنا۔ جو مسلم طالب علم نماز نہیں پڑھیں گے انہیں امتیازی سلوک اور جبر کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اپنی کتاب میں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ حکومت کو مسجدوں کے اماموں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ انتہا پسندی کو کم کرنے کے لیے لبرل لوگوں کو سامنے لایا جائے۔

سماجی کاموں میں پاکستانی خواتین بہت آگے بڑھ کر کام کر رہی ہیں۔ فاخرہ سلیمی ”میرا“ سینٹر کی بانی ہیں۔ یہ سینٹر عورتوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا رہا جہاں وہ رہنمائی اور اپنے حقوق کی آگاہی حاصل کرتی ہیں۔ فاخرہ سلیمی تیس سال سے کام کر رہی ہیں اور اب بھی جاری ہے۔

Queen Sonja – fakhra salimi

ایک اور متاثر کن شخصیت رضیہ بی بی کی ہے۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد ہے۔ ایک انجانے ملک میں چار بچوں کا ساتھ، زبان سے ناواقفیت، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں اور اس پر طلاق۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج بجا طور پر خود کو فاتح سمجھتی ہیں۔ کئی ٹی وی سیریز میں کام کر چکی ہیں۔ عورتوں کے ہنگامی سینٹر میں کام بھی کیا اور اپنے جیسی دوسری خواتین کی مدد کی اور ان کی ہمت بندھائی۔

ناروے میں پاکستانی لکھاری بہت ہی عمدہ کام کر رہے ہیں۔ مسعود منور جو مسعود کتاب دار کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں پاکستانی حلقے کی ایک جانی پہچانی اور مقبول شخصیت ہیں۔ اردو زبان کے ماہر ہیں اور کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ نثر اور شاعری دونوں کمال کی لکھتے ہیں اور غضب کی حس مزاح رکھتے ہیں۔ ”بطیحا“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔ ضیا آمریت کے دوران مجبوراً جلاوطن ہونے سے قبل پاکستان ریڈیو سے وابستہ تھے اور شعر و ادب نیز موسیقی میں اپنا ایک مقام بنا چکے تھے۔

masood munawer

شگفتہ شاہ ادبی شخصیت ہیں اور بہت خوب لکھتی ہیں۔ نارویجین ادب کا اردو میں کمال کا ترجمہ کرتی ہیں۔ استاد بھی رہیں اس کے علاوہ اوسلو کے ایک پروجیکٹ کی انچارج بھی رہیں۔ میمونہ خان کا نام اب پاکستانی کمیونٹی کے لیے نا آشنا نہیں۔ یہ صحافی بھی ہیں، مصنفہ بھی اور فعال سماجی کارکن بھی۔

نسیم کریم نے ”عزت“ نامی کتاب لکھی۔ اس کا موضوع جبری شادی تھا۔ کتاب کو بہت پذیرائی ملی۔ اس کتاب پر فلم بھی بنی جسے یکساں پذیرائی ملی۔

nasim karim

طارق محمد کی حال ہی میں ایک کتاب ”جمہوریت اور جمہور کا کردار“ آئی ہے۔ جس کی رونمائی کورونا کی وجہ سے ملتوی ہو گئی ہے۔

شیراز اختر پیشے کے لحاظ سے انجنیئر ہیں اور اپنے شعبے میں اعلی عہدے پر ہیں۔ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں ان کا علم اور قابلیت قابل رشک ہے۔ وہ ابھی جوان ہیں اور اس کم عمری میں ہی اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ ترجمے کرتے ہیں۔ کتابیں چھپ چکی ہیں جو افراد کچھ جاننے اور سمجھنے کا شوق رکھتے ہیں ان پر اپنے قیمتی وقت کو بے دام خرچ کرتے ہیں۔ پاکستانی حلقے میں ان کی بہت قدر و منزلت ہے۔

انیس احمد براڈکاسٹر اور صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ اب زیادہ وقت تخلیق ادب کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ ”جنگل میں منگل“ کے عنوان سے ایک ناول لکھا، حال ہی میں ان کا ناول ”نکا“ شائع ہوا ہے ۔ انہیں ایک تخلیقی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

اب ایک تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ نسل بیدار ہے۔ سیاسی اور سماجی مسائل پر ان کی نظر ہے اور وہ آواز بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان ہی میں ایک پاکستانی بیک گراؤنڈ رکھنے والی ایک بہت ہی کم سن لڑکی اپنا نام بنا رہی ہے۔ وہ ہے عائشہ اکرم۔ میڈیسن کی طالبہ ہے اور باقاعدگی سے مقامی اخباروں میں سوشل ایشوز کے بارے میں لکھ رہی۔

ان سب کے علاوہ پاکستانی ڈاکٹرز بھی ہیں، نرسز بھی ہیں وکیل بھی، کاروباری اداروں کے سی ای او بھی اور سرکاری افسر بھی۔ سب اپنے اپنے شعبے میں محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔ بہت سے نام ہیں لیکن یہاں سب کا ذکر ممکن نہیں۔ ناروے میں پاکستانیوں کی نئی نسل پوری طرح بیدار ہے اور اپنے سیاسی اور سماجی ذمہ داریوں سے واقف بھی ہے اور انہیں معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

***        ***

(ناروے میں نصف صدی سے مقیم صحافی اور ہم سب کے رفیق مکرم سید مجاہد علی نے اس تحریر پر ذیل کے مفید نوٹ کا اضافہ کیا ہے۔ جس پر محترمہ نادرہ مہرنواز اور ادارہ ہم سب ان کے شکر گزار ہیں۔)

ناروے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کی فہرست سیاست میں مدثر کپور، خالد محمود اور اطہر علی کا ذکر کئے بغیر نامکمل رہے گی۔  شاعروں میں جمشید مسرور، خالد تھتھال ، فیصل ہاشمی اور حیدر حسین بھی ناروے ہی میں بستے ہیں۔ خالد حسین کا ناول ’پاکس‘ 1986 میں شائع اور مقبول ہؤا تھا۔ وہ ناروے میں پیدا ہونے والے پاکستانیوں میں پہلے ناول نگار تھے۔ نوجوان پاکستانی ادیبوں میں ذیشان شاکر شامل ہیں جن کے دو ناول یکے بعد دیگرے شائع ہوئے اور تنقید نگاروں کی تحسین حاصل کی۔ عطا انصاری اور نعمان مبشر قومی ٹیلی ویژن ادارے سے وابستہ صحافی اور پروڈیوسر ہیں۔ صحافیوں میں پاکستانی نژاد وسیم ریاض، شازیہ منظور اور فواد اشرف شامل ہیں۔ نصراللہ قریشی کئی برس سے فلمی میلہ منعقد کرکے ثقافت کی ترویج میں کردار ادا کررہے ہیں۔ ٹونی عثمان اداکار اور ڈائیریکٹر ہیں اور متعدد ڈرامے اسٹیج کرچکے ہیں جن میں سعادت حسن منٹو کی کہانیوں سے ماخوز ڈرامے بھی شامل ہیں۔ خالد سلیمی کا ذکر کئے بغیر بھی ناروے کے نمایاں پاکستانیوں کی فہرست مکمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں نسل پرستی کے خلاف اور تارکین وطن کے حقوق کے لئے کام کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے اینٹی ریسسٹ سنٹر کا قیام انہی کی محنت کا نتیجہ ہے۔ سن 2000 سے انہوں نے ہرسال اوسلو میں میلہ کے نام سے ثقافتی و ادبی تقریبات کے ایک جامع سلسلہ کا آغاز کیا ہے جو بلاشبہ ناروے میں تارکین وطن کے فن و ثقافت کو پیش کرنے میں اہم ترین موقع ہوتا ہے۔ خالد سلیمی نے چند برس قبل اوسلو میں ’میلہ ہاؤس‘ کے نام سے ایک مرکز بھی قائم کیا ہے۔ یہاں متنوع بین الثقافتی تقاریب برپا ہوتی رہتی ہیں۔ اس فہرست میں ادیب، فلم ساز اور استاد سعید انجم اور سیاست دان، مصنف اور استاد نوشاد قریشی کا نام شامل کئے بغیر ناروے میں پاکستانیوں کی شاندار کامیابیوں اور اپنی شناخت بنانے کے لئے جد و جہد کی کہانی مکمل نہیں ہوسکتی۔ بدقسمتی سے یہ دونوں کم عمری میں ہی ہم سے جدا ہوگئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply