بھارتی مسلمانوں کی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بننے کے بعد بہت سے مسلمان اپنی جائیدادیں اور اپنا کاروبار سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ گئے۔ بہت سے مسلمان گھرانے ایسے بھی تھے جنہوں نے بیشتر وجوہات کے باعث بھارت نہ چھوڑا بلاشبہ انہیں بھارت جیسے ملک میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے بھارت کو ہی اپنا ملک سمجھا اور وہی بس گئے۔ بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اس بات سے بالکل انجان تھے کہ آنے والا وقت ان کے لئے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لئے کس حد تک مشکل اور دشوار گزار ہو سکتا ہے۔

کیونکہ اس وقت جن مسلمانوں نے الگ مملکت کے وجود میں آنے کے بعد بھارت کو خیر باد کہہ دیا تھا ان کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ہندووں کا ان پر مسلط رہنا تھا عبادات رسم ورواج اور معاملات زندگی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے مسلمان ہندووں کے ساتھ کسی صورت اپنے مذہب اور عقائد پر قائم نہیں رہ سکتے تھے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی سوچ میں بھی کافی حد تک تبدیلی رونما ہوئی۔ یہاں میں جس تبدیلی کا ذکر کرنے جا رہی ہوں وہ مذہبی اور رہین سہن کے ساتھ ساتھ طرز زندگی میں بھی تبدیلی آئی۔

بھارت میں ہندووں نے جب اپنا تسلط قائم کرتے ہی وہاں رہینے والے مسلمانوں کی سوچ کو بھی اپنا غلام بنا لیا مسلمان یہ سمجھنے لگے اب وہ اپنے آقاؤں ہندووں کے سامنے سر اٹھا کر کچھ بول نہیں سکتے وہ جیسے کہیں گے ویسا کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ کروڑوں کی تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود بھی جب شیوسینا نے بابری مسجد کو شہید کروایا اور وہاں مندر بننے کی منظوری دے دی گئی اس وقت بھی مسلمان آواز بلند نہیں کر سکے اس کی بنیادی وجہ ہندووں کے بنائے اصولوں کو مکمل اپنا لینا اور ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی گزارنا۔

مسلمانوں میں اسلام سے دوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب انہوں نے اپنی اولاد کی شادیاں بھی ہندووں کے ساتھ کرنی شروع کر دی جس سے ان کی نسلوں میں جو تھوڑا بہت اسلام سے محبت کا جذبہ موجود تھا وہ بھی ماند پڑگیا۔ ایک عورت جو خاندان کو بناتی ہے اور کفالت کرتی ہے جب ہندوو عورتوں کی اولادیں مسلم گھرانے میں پیدا ہونے لگیں تو ان کی پرورش اسلام کے عقائد سے ہٹ کر بالکل مختلف انداز میں کی گئی اس طرح ہندوستان میں رہینے والے مسلمان بس نام کے مسلم بن کررہ گئے جہاں اب صرف بچوں کو اسلامک نام دینے کا رواج عام تھا ورنہ اسلامک طرز عمل سے یہ نئی نسلیں بالکل نا آشنا تھیں۔

اب یہ نئی نسلیں جو بظاہر تو ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں والدہ کے ہندوو ہونے کی وجہ سے ہولی دیوالی اور باقی ہندوانہ تہوار بالکل انہیں کے انداز میں مناتی تھی اور خود کو اس رسم رواج کا حصہ سمجھتی تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں نے ایک وقت ایسا بھی دیکھا کہ نئی آنے والی ان کی نسلوں میں اب صرف اسلام نام تک محدود ہے کسی بچے کو نام علی دے دیا مگر اسے اس بات تک کا اندازہ نہیں کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا وہ یہ تک جاننے سے عاری ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے یا ہندو کیونکہ ان کو نہ تو ان کے مذہب سے متعلق کچھ بتایا گیا نہ انہیں بیشتر مصروفیات میں اتنا وقت ملا کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں معلومات اکٹھی کر سکیں۔ یعنی اگر یہ بات کہیں جائے کے بھارت میں رہ جانے والے کہیں مسلمان آج بھی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں تو غلط نہیں ہوگا وہ پہلے بھی ہندووں کے ماتحت تھے اور آج بھی ان کے ماتحت ہیں ان کی نسلیں اب اتنی بے بس اور لاچار ہیں کہ وہ اپنے مذہب سے بالکل آشنا نہیں وہ آج بھی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں ناکام ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply