امر جلیل اور ممتاز مفتی کا خدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے پہاڑوں میں ایک کہاوت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک گڈریا نظر آیا جو ریوڑ کو چرنے کے لیے چھوڑ کر خود ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام قریب گئے اور ان کی باتیں سننے لگے۔ گڈریا کہہ رہا تھا کہ اے خدا تو میرے پاس ہوتا تو میں تیرے بالوں پر تیل لگاتا، کنگھی کرتا، تیرے آنکھوں میں سرما ڈالتا، تم کو ایسے سجاتا کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے۔ موسیٰ علیہ السلام کو گڈریے کی بات پر سخت غصہ آیا اور اس کو ایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو، خدا کو تمھارے تیل، سرمہ اور کنگھی کی کیا ضرورت ہے؟ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو فوراً خدا کی طرف سے پیغام آیا کہ آپ نے میرے دوست کو ناراض کیا ہے فوراً معافی مانگو، اور موسی علیہ السلام نے گڈریے سے معافی مانگ کر اپنی راہ لی۔

اس کہاوت کو یہاں چھوڑ کر ممتاز مفتی کے ادب کی جانب بڑھتے ہیں۔ ممتاز مفتی خود کو ایک دنیا دار اور دین سے عاری انسان سمجھتے تھے تا وقتیکہ انہیں سفر حج درپیش نہ ہوا۔ یہ حج کیسے ہوا اور حج کے دوران ان پر کیا بیتی یہ جاننا ہے تو ان کا سفرنامہ ”لبیک“ پڑھیے لیکن یہاں میرا مقصد ممتاز مفتی کے سفر حج کی روداد بیان کرنا نہیں بلکہ خدا سے ان کی بے تکلفی کا جائزہ لینا ہے۔

ممتاز مفتی کی گاڑی مکہ کے قریب پہنچتی ہے تو قدر اللہ شہاب کہتے ہیں کہ ہم ایک گھنٹے بعد مکہ مکرمہ میں ہوں گے ۔ ممتاف مفتی کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے ”کہاں میں کہاں اللہ میاں، میں انہیں نہیں جانتا، مجھے تو مدینہ منورہ سے دلچسپی ہے“ ۔ حرم شریف پر نظر پڑتی ہے تو کہتے ہیں ”کالے پتھروں سے بنا ہوا ایک بھدا بے ڈھب کوٹھا جس پر سیاہ غلاف چڑھا تھا“ ۔ آگے چل کر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”میرے قلب میں ایک دھماکہ ہوا۔ میرے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں اور سارے حرم شریف میں بکھر گئیں۔ وہ عظیم الشان مسجد معدوم ہو گئی، زائرین کا وہ بے پناہ ہجوم چیونٹیوں میں بدل گیا۔ صرف کوٹھا رہ گیا، پھر وہ کوٹھا ابھرا، ابھرتا گیا، ابھرتا گیا، حتیٰ کہ ساری کائنات اس کوٹھے کی اوٹ میں آ گئی“ ۔ طواف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ممتاز مفتی لکھتے ہیں کہ ”میرے اللہ میرے روبرو تھے اور میں ان کے گرد والہانہ گھوم رہا تھا۔ اس وقت میرے اللہ بت تھے اور میں بت پرست تھا۔ اس وقت اللہ کی طواف سے بڑھ کر کوئی عیاشی نہیں تھی، کوئی لذت نہ تھی، دل چاہتا تھا طواف جاری رہے“ ۔

ممتاز مفتی کے سفرنامے سے جو اقتباسات یہاں نقل کیے ان میں مصنف اور خدا کے درمیان ایسی بے تکلفی نظر آتی ہے جس کا عام مسلمان نہ تصور کر سکتا ہے اور نہ ہی ہر کوئی اس تصور خدا کو قبول کر سکتا ہے لیکن جب ممتاز مفتی اللہ کو پہچاننے سے انکاری ہونے کے باوجود حرم شریف پر نظر پڑتے ہی انہیں ہر طرف خدا نظر آتا ہے تو ان کی بے تکلفی سمجھ آجاتی ہے۔ کعبے کو کالا کوٹھا کہنے کے بعد جب دیوانہ وار اس کے گرد طواف کرتا ہے تو لگتا ہے کہ دل کی سچائی زبان کی تلخی پر غالب آ گئی ہے اور پڑھنے والا سمجھ جاتا ہے کہ مصنف خدا کی تضحیک نہیں کر رہا بلکہ ان کے ذہن میں خدا کا جو تصور ہے اس خدا سے والہانہ محبت کا اظہار کرتا ہے، جیسے شروع میں بیان کی گئی کہاوت میں وہ گڈریا اپنے خدا کو سجانے کی بات کرتا ہے۔

مجھے سندھی نہیں آتی لیکن متعدد ذرائع سے امر جلیل کے افسانے کا ترجمہ پڑھنے کی کوشش کی تو جو کچھ مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ امر جلیل بھی خدا سے بے تکلف ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ بے تکلفی بڑھتے بڑھتے تضحیک کی حدوں کو چھوتی ہے لیکن افسانہ اتنا مختصر ہے کہ امر جلیل کو اپنی اس بے تکلفی کی وضاحت کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ امر جلیل کا افسانہ بھی ممتاز مفتی کے سفرنامے جتنا طویل ہوتا تو شاید قاری کو اس بے تکلفی کی سمجھ آجاتی۔

دوسرا مسئلہ تحریر کے قاری اور تقریر کے سامع میں فرق کا ہے۔ ممتاز مفتی کو صرف قارئیں ملے ہیں جو پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کی باریکیوں کو بھی تھوڑا بہت سمجھ جاتے ہیں۔ ممتاز مفتی کو بھی سامعین سے واسطہ پڑھتا تو شاید ایسا ہی شور اٹھتا جو امر جلیل کے خلاف اٹھا ہے۔ امر جلیل کے خلاف رد عمل قارئین کی جانب سے نہیں بلکہ سامعین کی جانب سے آ رہا ہے اور سامعین میں زیادہ تعداد عوام کی ہوتی ہے جو ادب کی باریکیوں سے یکسر نا اشنا ہوتے ہیں۔

امر جلیل کے حق میں بولنے والے شکوہ کرتے ہیں کہ مغرب میں ادیب آزاد ہے اور وہاں ادیبوں پر فتویٰ نہیں لگتا لیکن ہمارے معاشرے میں ہر چیز کو مذہب کی عینک لگا کر دیکھا جاتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ جس معاشرے میں مذہب برائے نام رہ گیا ہو وہاں مذہب کے لیے آواز بلند کون کرے گا؟ جہاں خدا چرچ کی دیواروں، چند مجسموں اور صرف حلف لینے کے لیے محفوظ صحیفوں تک محدود ہو وہاں خدا کی تضحیک نعوز باللہ کوئی کر بھی لے تو کسی کو کیا فرق پڑھتا ہے۔

اس کے برعکس جس معاشرے کی بنیاد مذہب پر استوار ہو اور عوام کی اکثریت مذہب کو ہی اپنا سب کچھ مانتی ہو وہاں آپ ان کے تصور خدا کو رد کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا رد عمل بھی آئے گا اور کسی کا تصور خدا تبدیل کرنے کے خواہشمند کو اس رد عمل کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ اسپینوزا نے جب ایک ایسے خدا کا تصور پیش کیا جو دنیا کے معاملات سے لا تعلق ہے تو سترہویں صدی کے یورپ میں ان کے خلاف رد عمل آیا تھا، یہاں تک کہ ان کے اپنوں نے بھی انہیں چھوڑ دیا تھا اور وہ معاشرے میں تنہا ہو کر رہ گئے تھے۔ اگر آپ کا ارادہ کسی کے تصور خدا پر وار کرنے کاہے تو معاشرے میں آنے والے رد عمل کے لیے بھی تیار رہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں جس خدا کے سامنے نظر اٹھا کر دیکھنے کو بھی بے ادبی سمجھتا ہوں، آپ میری نظروں کے سامنے اس خدا سے بے تکلف ہوجائیں اور میں یہ بے تکلفی خاموشی سے دیکھتا رہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply