ماؤزے تنگ کیپ پہنے سوشلسٹ بھٹو اور امریکی سازش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 4 اپریل 2021 ہے یعنی شہید جمہوریت اور قائد عوام، ذوالفقار علی بھٹو کو ہم سے بچھڑے ٹھیک 42 سال بیت گئے ہیں۔ 4 اپریل 1979 کو فجر کی اذان سے بھی کئی گھنٹے پہلے، یعنی صبح 2 بجے ایک ایسے شخص کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جو تیسری دنیا میں غریب عوام کا زبردست حامی اور مقبول ترین لیڈر تھا۔

یہ امر بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں کہ اندرونی سازش کو امریکی سامراجیوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب دنیا کے نقشے پر کئی ممالک وجود میں آئے اور مغرب بالخصوص برطانیہ کا نو آبادیاتی نظام اپنے آخری سانس لے رہا تھا، ایسے میں امریکہ اور برطانیہ نے نیا جدید نوآبادیاتی نظام متعارف کروایا۔ ایک طرف جہاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے تیسری دنیا کے ممالک کی معیشت کو کنٹرول کیا گیا وہیں دوسری جانب ان ممالک میں اپنے پسند کے حکمرانوں سے حکومت بھی کروائی گئی تاکہ امریکی امداد دے کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جائیں اور سرد جنگ کے زمانے میں کمیونسٹ سوویت روس کے خلاف محاذ گرم کیا جا سکے۔ ایسے میں اگر کوئی سیاستدان تیسری دنیا میں سوشلزم کا نعرہ بلند کرتا تو اس کو عبرت کا نشان بنا دیا جاتا، کچھ ایسی ہی مثالیں ہمارے خطے میں ڈاکٹر علی شریعتی اور ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ملتی ہیں۔

قائد عوام بھٹو صاحب اپنی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ میں انہی مخفی ہاتھوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ”مخفی ہاتھوں کی بابت مجھے جنوری 1977 میں رپورٹیں ملنی شروع ہو گئیں۔ اسی مہینے رفیع رضا (جو کہ بھٹو صاحب کے قریبی رفقا تھے ) کی مجھ سے ساڑھے 4 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس کے دوران انہوں نے بتایا کہ قومی اتحاد وجود میں آ رہا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ قومی اتحاد کا صدر کون ہوگا، اس اتحاد کے اسباب، طریق کار اور عزائم پر بھی روشنی ڈالی گی۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے میرے سامنے 3 متبادل رکھے : ایٹمی پروگرام بھول جاؤں، انتخابات ملتوی کردوں یا انتہائی سنگین نتائج کا مقابلہ کروں۔ رات کے کھانے پر ہماری بحث جاری رہی۔ آخر میں نے ان کے قیمتی مشوروں اور معلومات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔“

بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ رخصت ہونے سے پہلے رفیع رضا نے مجھ سے سوال کیا کہ: آپ اپنی ذات اور خاندان کے لئے اتنے بھیانک خطرات کیوں پیدا کر رہے ہیں؟ جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ: میں یہ سب مساوی بنیادوں پر معاشرہ تعمیر کرنے، اپنے ملک کو مضبوط اور جدید تر بنانے اور لوگوں کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے کر رہا ہوں۔

رفیع رضا کی بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یوں 5 جنوری 1977 کی شام کو 9 جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد وجود میں آیا، جس نے ملک میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی۔ قومی اتحاد کو مارچ 1977 میں ہونے والے انتخابات کے لئے اس وقت باہر سے اتنی زیادہ فنڈنگ ہوئی کہ ملک میں امریکی ڈالر کی قیمت میں حیران کن کمی دیکھنے میں آئی۔ بھٹو صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”اگر قومی اتحاد کو قوم کے مفادات اور لوگوں کی فلاح کا زیادہ ہی احساس ہوتا تو وہ انتخابی مہم کے دوران 25 کروڑ ڈالر اور انتخابات کے بعد 5 کروڑ ڈالر وصول نہ کرتا تاکہ میری حکومت ختم کی جائے۔“

بھٹو صاحب کے خلاف ہونے والی امریکی سازش کا ذکر بے نظیر بھٹو اپنی کتاب دختر مشرق میں بھی کرتی ہیں، وہ لکھتی ہیں کہ: جب میرے والد ملک کے وزیراعظم تھے تب انہیں خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ یہ اسلام آباد میں 2 امریکی سفارت کاروں کی ٹیپ شدہ گفتگو تھی۔ ان میں سے ایک نے میرے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پارٹی ختم ہو چکی ہے وہ اب جا چکا ہے۔ میرے والد نے قومی اسمبلی میں اس گفتگو کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ: حضرات، پارٹی ابھی ختم نہیں ہوئی اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک میں اس عظیم قوم کے لئے متعینہ مقاصد کی تکمیل نہیں کر لیتا۔

افسوس! امریکی سامراجیوں نے ایک ایسا لیڈر ہم سے چھین لیا جس نے چند جاگیرداروں کی نسلوں سے قبضہ کی ہوئی زمین کی غریب مزارعوں میں تقسیم کی، لاکھوں افراد کو جہالت سے نکال کر تعلیم سے آراستہ کرنے کا انتطام کیا، ملک کی بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر سرمایہ داروں کی اجارہ داری توڑی اور سوشلزم کی راہ ہموار کی، مزدوروں کے لئے کم از کم مزدوری کا تعین کیا، ملازمتوں کا تحفظ کیا، خواتین اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا اور ایک روشن خیال معاشرے کی تشکیل رکھی، آرٹ کو پروموٹ کیا، بھارت سے قبضہ کروائی ہوئی زمین واپس لینے کے ساتھ ساتھ 93 ہزار پاکستانی فوجی قیدیوں کی ملک واپسی بھی یقینی بنائی۔

یہاں اس واقعے کا ذکر کرنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ جب 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے استعفیٰ دیا اور اعلان کیا کہ وہ البانیہ جا رہے ہیں۔ انہی دنوں حبیب جالب نے بھٹو کے لیے نظم لکھی جس کو ”نوائے وقت“ اخبار کے عقبی صفحے پر حمید نظامی صاحب نے شائع کیا۔ اس روز یہ اخبار ”بلیک“ میں فروخت ہوا۔ نظم کے اشعار ملاحظہ کریں۔

دست خزاں میں اپنا چمن چھوڑ کے نہ جا
آواز دے رہا ہے وطن چھوڑ کے نہ جا

دل تنگ کیوں ہے رات کی تاریکیوں سے تو
پھوٹے گی صبح نو کی کرن چھوڑ کے نہ جا

تیرے شریک حال ہیں منصور اور بھی
سونی فضائے دار و رسن چھوڑ کے نہ جا

البانیہ کے پھول بھی گو دل فریب ہیں
اپنے وطن کے سرو سمن چھوڑ کے نہ جا

اے ذوالفقار تجھ کو قسم ہے حسینؓ کی
کر احترام رسم کہن چھوڑ کے نہ جا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد طارق محمود کی دیگر تحریریں

Leave a Reply