بھٹو صاحب، نواز شریف اور گورباچوف کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پاکستان بنا تو بھٹو صاحب کی عمر انیس برس تھی۔ اس کے دس برس بعد یعنی 1957 میں بھٹو صاحب کا نام سیاست میں سامنے آنا شروع ہوا۔ جب تک 1958 میں بھٹو صاحب کو پہلی وزارت کی آفر ہوئی تو پاکستان کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کے سات وزرائے اعظم اپنی مدت پوری کیے بغیر نوکری سے نکالے جا چکے تھے اور آٹھویں کو بھی آئین سمیت نکالنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔

پاک فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ جنرل ایوب خان اپنے عہدے کی تیسری ایکسٹینشن پر تھے اور اس دوران وہ فوج کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ کوئی دس مہینے وزیر دفاع بھی رہ چکے تھے۔ پہلے گیارہ برسوں کے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نوزائیدہ ملک میں سیاست کے مستقبل اور طاقت کے عدم توازن کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی سیاسی نابغہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ سب کچھ سامنے دیوار پر لکھا تھا۔

تو بھٹو صاحب کی سیاست کا آغاز ویسا ہی تھا جیسا سیاسی ماحول میسر تھا۔ یا تو وہ سیاست کا آغاز نہ کرتے یا پھر طاقت کے ساتھ مل کر کرتے جیسا کہ انہوں نے کیا۔ بھٹو صاحب نے اگلے دس سال سیاست سیکھی اور پھر بغاوت کی۔ عوامی سیاست کا آغاز کیا۔ عوام کے دلوں میں رسائی حاصل کی اور ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کو ہلا کر رکھ دیا۔

بھٹو صاحب پھر عوام کی مدد سے طاقت میں آئے۔ غلطیاں کون نہیں کرتا ، انہوں نے بھی کیں۔ لیکن بین الاقوامی اور قومی لیول پر ایسے کام کیے کہ دونوں ہی لیول پر سامراجی طاقتوں کو چبھنے لگے۔ وہ مقام حاصل کیا کہ جس کا انجام شہادت ہی بنتا تھا سو قبول کیا۔

جنرل ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف بغاوت، عوام کو سیاسی شعور کی دولت سے مالامال کرنے کی مخلصانہ اور کامیاب کوشش اور پھر ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں پھانسی، وہ شاندار کارنامے ہیں جو ایوب خان کا ساتھ دینے کے جرم کو بخوبی دھو دیتے ہیں۔ اس لیے آج کا سوشل میڈیا ذوالفقار علی بھٹو کو ”سلیکٹڈ“ کہہ کر ان کے سیاسی مقام کو کم نہیں کر سکتا۔ ہمیں ان کی سیاست کے آغاز کو نہیں بلکہ ان کے سیاسی کریئر کے عروج کو دیکھنا ہے۔

نوازشریف کی سیاست کا آغاز کافی شیکی تھا۔ لیکن یہ بھی وہ دور تھا جب ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ایک نئی شکل میں آئے دس سال ہی ہوئے تھے اور طالع آزما جنرل اس دفعہ بھی پاکستان کی سیاست پر نہ صرف قابض تھے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے طاقت ور عوامی لیڈر کو قتل کر کے عوام کو یہ یقین دلانے میں مصروف تھے کہ اس ملک کی قسمت انہی کے سازشی ہاتھوں میں رہے گی۔ نواز شریف نے بھی اپنے وقت کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔

جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دینے کے داغ تو گہرے تھے لیکن نواز شریف نے سیاست سے سیکھا۔ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی اور اور ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا۔ نتیجہ یہ نکلا انہوں نے تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کی قربانی دی۔ بار بار جیل اور جلاوطنی کاٹی۔ اس مرتبہ تو اپنا موقف اتنے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ غیر سیاسی طاقتوں کے ساتھ کسی سمجھوتے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔

یہ قربانی کافی ہے۔ اس سے وہ داغ بخوبی دھل گئے ہیں جو جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دینے کے حوالے سے ان کی سیاست پر لگے تھے۔ اب نواز شریف کو ”سلیکٹڈ“ کہنا نواز شریف کے سیاسی قد کاٹھ کو کم نہیں کرتا۔ ہمیں نواز شریف کے سیاست کے آغاز کی بجائے اس کے سیاسی عروج کو دیکھنا ہے۔

پاکستان میں سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے لیے یہ حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے کاٹھ کے الو بھٹو صاحب اور نواز شریف کو سلیکٹڈ کہتے ہیں تاکہ سیاست میں ایک بھی اچھے سیاسی لیڈر کی مثال نہ مل سکے۔ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے باقی دنیا میں تو جمہوریت اچھی ہے لیکن پاکستان میں نہیں کیونکہ یہاں کے سیاست دان اچھے نہیں ہیں۔

گورباچوف نے اپنی سیاست کا آغاز کیسے کیا ہو گا؟ ظاہر ہے اس نے بھی اپنے دور کی واحد طاقت کمیونسٹ پارٹی ہی کی ممبرشپ سے آغاز کیا تھا۔ لیکن جب وہ دینا کی سپر پاور سوویت یونین کا سربراہ بنا تو وہ ایک عام سوویت کمیونسٹ لیڈر نہیں تھا۔ بلکہ وہ مختلف سوچتا تھا اور اپنی مختلف سوچ ہی کی مدد سے کروڑوں انسانوں کو ڈکٹیٹرشپ اور کے جی بی کے عذاب سے نکالنے کی عملی کوشش کی۔

وہ اپنی سیاست کے آغاز میں گلاسنوسٹ اور پریسٹرئیکا جیسی کتابیں لکھ کر سوویت یونین کا سیکرٹری جنرل نہیں بن سکتا تھا۔ اس لیے دنیا گورباچوف کی سیاست میں انٹری کو نہیں دیکھتی بلکہ اس کے کیریئر کے عروج اور دنیا پر اس کے اثرات کو دیکھتی ہے۔ ہمیں بھی ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی سیاست کے آغاز نہیں بلکہ ان کے کیریئر کے عروج اور پاکستانی سیاست پر ان کے اثرات کو دیکھنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 261 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply