رؤیت ہلال کا قضیہ
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ان رسول اللہ ﷺ ذکر رمضان فقال:لاتصوموا حتى تروا الھلال ولاتفطروا حتى تروہ فان غم علیکم فاقدروا لہ (رواہ البخاری ومسلم )
”چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو (یعنی عید مناؤ) اگر کسی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکو تو روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے لیے (شعبان ورمضان کے ایام کا) حساب لگاؤ۔ یعنی تیس دن پورے کرو“
رؤیت ہلال کے مسئلے میں اس حدیث کو کثرت کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے اور اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ شرعی رؤیت اسی وقت معتبر ہو گی جب ہلال کو اس کے اپنے اپنے مطالع میں ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے۔
زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ چاند کے مشاہدے کے لیے جدید دور کے آلات جیسے دور بین وغیرہ کی مدد لی جا سکتی ہے۔ اسی حدیث شریف سے استدلال کرتے ہوئے علم فلکیات سے استفادے کو غیرمعتبر قرار دیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ علم فلکیات کی جدید تحقیقات اور ماہرین فلکیات کی وضاحتوں سے ’شرعی رؤیت‘ ثابت نہیں ہوتی۔
”اسلام سوال و جواب“ ویب سائٹ پر جس کے نگران اعلیٰ شیخ محمد صالح المنجد ہیں اس سلسلے میں ایک سوال کا جواب اس طرح دیا گیا ہے :
”اس مسئلہ میں صحیح قول جس پر عمل کرنا واجب ہے وہی قول ہے جس پر نبی ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ“ روزے چاند دیکھ کر رکھو اور ان کا اختتام بھی چاند دیکھ کر کرو اور اگر موسم ابر آلود ہو تو پھر دنوں کی تعداد مکمل کرو ”
لہٰذا معتبر اور صحیح قول یہی ہے کہ رمضان کے مہینہ کی ابتداء اور انتہاء چاند کو دیکھ کر ہی ہو گی کیونکہ وہ شریعت اسلامیہ جس کے لیے اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو مبعوث کیا ہے وہ سب کے لیے عام ومستقل اور ہمیشہ و قیامت تک کے لیے ہے۔ شریعت اسلامیہ ہر زمانے اور وقت و جگہ کے لیے پر صلاحیت ہے ، چاہے دنیاوی علوم ترقی یافتہ ہوں یا کہ ترقی پذیر ہوں اور آلات پائے جائیں یا نہ پائے جائیں اور یا پھر کسی ملک کے لوگ علم فلکیات میں ماہر ہوں یا ماہر نہ ہوں ، یہ سب برابر ہیں۔ رؤیت ہلال پر عمل کرنا ہر زمانے اور وقت اور شہر و ملک میں ہر شخص کی طاقت و بس میں ہے بخلاف فلکی حسابات کے کہ اس کے جاننے والے کبھی موجود ہوں گے اور کبھی نہیں اور اسی طرح آلات بھی کبھی پائے جائیں اور کبھی نہیں۔
دوم : اللہ تعالی کو علم فلکیات اور دوسرے علوم میں جو کچھ ترقی ہو چکی اور جو ابھی نہیں ہوئی، اس کا بھی علم ہے تو اس کے باوجود اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ”تم میں جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے“ ( البقرہ / 185 ) اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے فرمان میں کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے : ”روزے چاند دیکھ کر رکھو اور ان کا اختتام بھی چاند دیکھ کر کرو“ (الحدیث)
لہٰذا نبی ﷺ نے رمضان کے روزے رکھنے اور ان کا اختتام چاند کو دیکھنے کے ساتھ معلق کیا ہے، نہ کہ علم فلکیات اور علم نجوم کے ذریعہ مہینہ کو معلوم کرنے کے لیے، باوجود اس کے اللہ تعالی اس کا علم رکھتا ہے کہ علم فلکیات والے ستاروں کے حساب اور ان کا مدار میں چلنے وغیرہ کے حسابات میں بہت زیادہ ترقی کریں گے۔
اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس شریعت پر چلیں جسے اللہ تعالی نے ان کے لیے اپنے نبی ﷺ کی زبان سے مشروع کیا ہے کہ رمضان کے روزوں کی ابتداء اور اختتام کے لیے چاند کے دیکھنے پر بھروسا کیا جائے اور یہ اہل علم کے اجماع کی طرح ہے تو جو بھی اس کی مخالفت کرتا ہے اور ستاروں کے حساب پر بھروسا کرتا ہے ، اس کا قول شاذ ہے، اس کا کوئی اعتبار اور بھروسا نہیں ہو گا۔ واللہ تعالی اعلم ”
(ماخذ: فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 106 ) (نوٹ: سوال حذف کر دیا گیا ہے )
اس فتوے میں اسی مشہور حدیث شریف کا حوالہ آیا ہے اور اسی سے استدلال کرتے ہوئے ظاہری آنکھ کی رؤیت کو معتبر اور علم فلکیات کی مدد سے چاند کی شہادت کو غیرمعتبر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ”نبی ﷺ نے رمضان کے روزے رکھنے اور ان کا اختتام چاند کو دیکھنے کے ساتھ معلق کیا ہے، نہ کہ علم فلکیات اور علم نجوم کے ذریعہ مہینہ کو معلوم کرنے کے لیے۔“ یہ استدلال بظاہر قرآن کے خلاف معلوم ہوتا ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ نے بتایا ہے کہ سورج اور چاند دونوں کی گردش ماہ و سال کا آغاز و اختتام معلوم کرنے کے لیے ہے۔
بے شک ان کے دیگر فوائد اور مقاصد بھی ہیں مگر قرآن نے خاص طور پر ماہ و سال کا حساب کتاب رکھنے کے بارے میں بات کی ہے۔ اس فتوے کے آخر میں رؤیت ہلال کی روایت پر اجماع کی بات بھی کہی گئی ہے۔ نیز اس میں ضمنی شہادت کے طور پر سورۂ بقرہ آیت نمبر: 185 ( فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ۖ) کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، مگر یہ حوالہ مسئلہ زیر بحث سے غیر متعلق محسوس ہوتا ہے۔ اس میں ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ضرور دیا جا رہا ہے مگر رؤیت ہلال کے اثبات یا عدم اثبات سے اس آیت کا کچھ تعلق نہیں۔
ہماری مذہبی روایت میں خود رسول اللہﷺ کے زمانے سے ہی ہلال کے اجتماعی مشاہدے کی بڑی توانا روایت رہی ہے۔ لہٰذا قمری مہینوں کی تعیین کے لیے چاند دیکھنے کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ بطور خاص، شعبان، رمضان، شوال اور ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کا کچھ زیادہ ہی اہتمام رہا ہے۔ یہ اہتمام انفرادی و اجتماعی سطح پر بھی رہا ہے اور سرکاری سطح پر بھی۔ آج بھی کئی ممالک میں رؤیت ہلال کے لیے رصدگاہیں قائم ہیں۔ اور صاحب علم افراد پر مشتمل کمیٹیاں ترتیب دی گئی ہیں۔
رؤیت ہلال کی یہ توانا روایت اس لیے بھی رہی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جب علم فلکیات نے ترقی نہیں کی تھی، تو قمری مہینوں کی ابتدا کی تعین کرنے کے بس دو ہی راست ذرائع تھے، ایک یہ کہ چاند کی ہلالی شکل کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جائے۔ اور دوسرے یہ کہ جاری ماہ کے تیس دن پورے کیے جائیں۔ البتہ ان دونوں میں پہلا طریقہ ہی اصل تھا۔ دوسرا طریقہ یعنی تیس دن پورے کرنا سکینڈری اور متبادل طریقے کے طور پر تھا۔ جیسے کسی مہم کے لیے دو پلان تیار کیے جاتے ہیں۔ ’پلان۔ اے‘ اور ’پلان۔ بی‘ ۔ ان میں اصل تو ’پلان۔ اے‘ ہی ہوتا ہے، البتہ ’پلان۔ بی‘ اس وقت کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے جب ’پلان۔ اے‘ کسی وجہ سے فیل ہو جائے۔ اسی طرح جاری ماہ کے تیس دن پورے کرنے کا حکم بھی اس وقت کے لیے ہے جب رؤیت کسی وجہ سے ممکن نہ ہو سکے۔
دراصل ہلال اور رؤیت ہلال کی روایت بعض فرائض کی انجام دہی کے لیے بے حد اہم ہے۔ ایسے ہی جیسے ظرف کے لیے مظروف کی اہمیت ہوتی ہے اور جیسے عبادات کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ عبادات کے اوقات کی تعیین سورج کی گردش سے بھی اسی طرح مؤکد ہوتی ہے جس طرح چاند کی گردش سے ہجری کلینڈر کے ماہ و سال کی تعیین ہوتی ہے۔ البتہ سورج کو ہماری مذہبی روایت میں تقدس کا وہ مقام نہیں مل سکا جو ’ہلال‘ کو ملا ہوا ہے۔ اور ساتھ میں ستارے کو بھی۔
رؤیت ہلال کی حقیقت دراصل یہ ہے کہ رؤیت یا پھر تیس دن کی تکمیل اس بات کو مؤکد کرتی ہے کہ پچھلا مہینہ ختم ہو چکا ہے اور نیا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اب اگر ان تاریخوں کی درست تعیین کسی اور ذریعے سے ہو جاتی ہے تو یہ بھی قابل قبول ہونا چاہیے کیونکہ مقصود تو تاریخ کی تعیین ہے نہ کہ ہلال کا دیدار۔ اس معنیٰ کی تائید قرآن کی درج ذیل آیات سے بھی ہوتی ہے :
یسئلونک عن الاہلة، قل ہی مواقیت للناس و الحج (البقرہ: 189 )
”یہ لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں کے لیے ان کی عبادت کے اوقات اور حج کے موسم کی تعیین کے لیے ہے۔“
ھو الذی جعل الشمس ضیاءً والقمر نوراً وقدرہ منازل لتعلموا عدد السنین والحساب ( یونس : 5 )
”وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔“
قمری مہینوں کی ابتدائی تاریخوں کی تعیین کے لیے علم فلکیات سے مدد لینے کے انکار کے پس پردہ جو استدلال کھڑا ہے وہ مضمون کی ابتدا میں مذکورہ حدیث شریف سے یہ نتیجہ اخذ کرنے پر استوار ہے کہ رسول اللہﷺ نے آنکھ سے چاند دیکھنے کی شرط لگائی ہے۔ حالانکہ یہ دور کی کوڑی ہے اور اسے رؤیت ہلال کی مستحکم روایت کو زندہ وتابندہ رکھنے کی کاوش کے نتیجے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
البتہ یہ استدلال درست ہے کہ اسلام نے دینی اعمال کی اساس آسانی پر رکھی ہے۔ حضورﷺ کے زمانے میں آج کی طرح گھڑیاں نہیں تھیں اور اس وقت سیکنڈ اور منٹ کا حساب لگانا ممکن نہیں تھا۔ اس وقت کے مسلمان مسجد کے صحن میں اور دیگر مقامات پر چھوٹے قد کی لکڑیاں گاڑ لیتے تھے اور ان کے سایوں کو دیکھ کر نمازوں کے اوقات کی تعیین کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ علم فلکیات نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس قدر ترقی نہیں کی تھی تو قمری مہینوں کی تعیین کی بنیاد علم فلکیات پر نہیں رکھی جا سکتی تھی۔
اور اگر ایسا کر بھی دیا جاتا تو یہ چند لوگوں کے اختیار کی چیز رہ جاتی، چند لوگ جو علم فلکیات سے واقف ہوتے وہی چاند کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتے، باقی سارے لوگ ان کی تقلید محض کرنے کے لیے مجبور ہوتے۔ اور یہ بات کسی نہ کسی حد تک آج بھی موجود ہے، تاہم ماضی کے مقابلے میں آج صورت حال کافی مختلف بھی ہے۔ آج علم بہت عام ہو گیا ہے اور اس کے حصول میں کافی سہولیات پیدا ہو گئی ہیں۔
ذرا اس پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر شعبان کا کوئی مہینہ واقعی انتیس کا ہو، اس صورت میں انتیس کی شام میں چاند کا نکل آنا یقینی ہے مگر مطلع ابرآلود ہو اور انفرادی و اجتماعی کوششوں کے بعد بھی رؤیت نہ ہو سکی ہو، تو حکم یہی ہے کہ ایک دن اور انتظار کریں یہاں تک کہ ماہ شعبان کے تیس دن پورے ہو جائیں۔ جب تیس دن پورے ہو جائیں گے تو یہ بات صد فیصدمؤکد ہو جائے گی کہ تیس شعان کا سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی ماہ شعبان ختم ہو چکا ہے اور ماہ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے۔
مگر اس صورت میں ایک روزہ چھوٹ جائے گا، کیونکہ مہینہ دراصل 29 ہی کا تھا، رؤیت نہ ہو سکنے کی وجہ سے ایک دن بڑھایا گیا۔ تاہم مسلمان اس کے لیے بالکل بھی گناہ گار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات ان کی استطاعت سے باہر تھی کہ وہ انتیس اور تیس کے مہینوں کی تعیین یقینی صورت میں کر سکتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عام مسلمانوں کی سہولیات کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ اسی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مقصود عبادت ہے نہ کہ رؤیت۔ اگر روزہ جیسی عظیم عبادت میں بھی ایک دن کی تاخیر ہوتی ہے تو شریعت کو اس سے کچھ بھی پریشانی نہیں ہے۔
شریعت کی نظر میں چاند اور سورج دونوں یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ نہ سورج کو چاند پر کچھ فضیلت ہے اور نہ ہی چاند کو سورج پر، حتیٰ کہ چاند کی ہلالی شکل و صورت کو بھی سورج اور کسی دوسرے ستارے وسیارے پر شرعی اعتبار سے کچھ فضیلت حاصل نہیں ہے۔ یہ دونوں ہی قدرت کی نشانیاں ہیں، جس طرح اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز اللہ کی قدرت، خلاقی اور صنعت کا مظہر اور نشانی ہے۔ خود رسول اللہﷺ نے کسوف و خسوف کے تعلق سے بعض استفسارات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج و چاند کو گرہن لگنا اللہ کی آیات میں سے ہے :
ان الشمس والقمر لا یخسفان لموت احدٍ ولا لحیاتہ ولکنھما آیتان من آیات اللہ فاذا رایتموھا فصلوا۔
”سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔“ (بخاری ومسلم)
یہ حدیث شریف توہمات کے خلاف ایک یقینی بیانیہ ہے۔ اس میں وہم آمیز تصور کویقین پر لانے کی کاوش نظر آتی ہے، تاکہ انسانی ذہن میں مخلوقات کی اہمیت پیدا ہونے کے بجائے خالق کی عظمت پیدا ہو۔ تاہم اس میں یہ حقیقت بھی آ گئی ہے کہ سورج، چاند، پہاڑ اور وادیاں قدرت کی کاری گری کا نمونہ ہیں۔ ان کے ساتھ نسبت خیر و شر وابستہ کرنا غلط ہے اور گرچہ ان میں سے ہر چیز انسانوں کو نفع پہنچانے کے لیے ہے مگر انہیں ثواب کمانے کا ذریعہ سمجھنا غلط ہے۔ البتہ جن چیزوں کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی وضاحت آ گئی ہے تو وہ الگ بات ہے، جیسے کعبے کو اور والدین کو ایک نگاہ محبت سے محض دیکھتے رہنا بھی کار ثواب ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا اپنی بعض ویڈیو کلپس میں کہتے ہیں کہ ”چاند کو دیکھنا ضروری ہو گا۔ یہ شعائر اسلام میں سے ہے۔ جیسے اذان کی آج ضرورت نہیں رہی مگر اس کی شرعی حیثیت باقی ہے۔ رمل کرنے کی سنت آج بھی باقی ہے۔“ ان کا استدلال یہ ہے کہ قمری مہینوں کی پہلی تاریخ متعین کرنے کے لیے علم فلکیات کا سہارا لینا درست نہیں، جیسا کہ بعض علماء کا موقف ہے، بلکہ رؤیت ہلال کی جو روایت ابتدا سے چلی آ رہی ہے وہی درست ہے اور اس کو علیٰ حالہٖ باقی رہنا چاہیے گرچہ آج اس کی اتنی ضرورت باقی نہ رہی جتنی کہ زمانۂ سابق میں تھی۔
مگر رؤیت ہلال کی روایت کا اذان کے ساتھ تقابل کرنا شاید اس لیے درست نہیں کہ اذان فی نفسہٖ بھی مطلوب ہے، اذان بذات خود اللہ کی کبریائی اور عظمت کا اعلان بھی ہے، جیسا کہ ہم نماز میں اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہیں۔ جبکہ رؤیت ہلال کی روایت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اسی طرح رمل اور اذان رؤیت ہلال کی طرح باعث نزاع بھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں نزاع کے امکانات ہیں۔
مذکورہ حدیث ”لاتصوموا حتی تروہ و لاتفطروا حتی تروہ“ کی مزید ایک حکمت یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ماہ رمضان کو ماقبل اور مابعد کے مہینوں سے الگ کرنا مقصود ہے تاکہ اس سے ماہ رمضان کی عظمت اور رفعت شان کا درست ادراک ہو سکے۔ اسی لیے یوم شک کے روزے کی ممانعت آئی ہے۔ شعبان کے آخری دو دنوں کے روزے پسندیدہ نہیں ہیں اور خاص طور پر یوم شک کی ممانعت وارد ہے۔ اسی طرح شوال کی پہلی تاریخ کے روزے کی بھی ممانعت ہے۔ ان وضاحتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان کو طرفین سے ممتاز کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں رمضان کے پہلے روزے کا جانا بھی گوارا ہے۔
اس قبیل کے مفہوم کی سب روایات مل کر جو معنیٰ تخلیق کرتی ہیں وہ معنیٰ رؤیت ہلال کی روایت کومؤکد نہیں کرتے بلکہ ماہ رمضان کی انفرادیت اور علو شان کے ادراک کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ واللہ اعلم
میں نے اس مضمون میں قمری ماہ وسال کی تعیین میں علم فلکیات سے مدد لینے کی وکالت کرنے سے زیادہ اس وضاحت پر توجہ دی ہے کہ ”لاتصوموا حتیٰ تروہ ولاتفطروا حتیٰ تروہ“ سے مقصود چاند کی پہلی تاریخ کا تعین اور تیقن ہے نہ کہ فی نفسہٖ ہلال کا دیدار اور مشاہدہ۔ اور یہ اسی روایت رؤیت کا شاخسانہ ہے کہ چاند کی ہلالی شکل مسلم تہذیب اور دین کی علامت بن گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گردش قمر پر کسی دینی عمل کے انحصار کی وجہ سے ہلال کی تقدیس پیدا نہیں ہوتی۔
اس قضیے پر غور کرنے کے لیے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اگر آج کے زمانے میں ہوتے یا رسول اللہﷺ کے زمانے میں سائنس نے اور بطور خاص علم فلکیات نے اتنی ترقی کر لی ہوتی تو علم فلکیات کے اکتسابات کے تئیں رسول اللہﷺ کا رویہ کیا ہوتا؟ کیا رسول اللہ ﷺ کلی طور پر اس کے مستفادات سے انکار دیتے، یا ان سے مشروط طور پر استفادہ کرنے کی اجازت مرحمت فرماتے۔ شریعت کے مزاج اور رسول اللہ ﷺ کے اسوے کو سامنے رکھنے سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ دونوں صورتوں میں دوسرا رویہ اختیار فرماتے یعنی جدید علوم و فنون سے استفادے کی مشروط اجازت مرحمت فرماتے۔
غوروفکر کرنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے ایام اکثر و بیشتر 29 ہی کیوں رہ جاتے ہیں، جبکہ قمری ماہ 30 کا بھی ہوتا ہے، دیگر مہینے 30 کے ہوتے ہوں تو ہوتے ہوں، مگر ماہ رمضان 29 ہی کا رہ جاتا ہے اور اکثر و بیشتر رہ جاتا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں مختلف بار ایسا بھی ہوا ہے کہ 28 ایام ہی رہ گئے، جبکہ یہ محال بات ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ امت ماہ رمضان کے کبھی کبھار دو اور اکثر ایک روزہ کھا جاتی ہے۔
اسی طرح اس قضیے کا بھی کچھ حل نکلنا چاہیے کہ ایک ہی مطلع کے تحت آنے والے بعض شہروں اور دیہاتوں میں دو مختلف دنوں میں رمضان المبارک کا آغاز کیوں ہوتا ہے اور دو مختلف دنوں میں عیدیں کیوں منائی جاتی ہیں۔ ؟ دراصل اس سارے قضیے کے پیچھے مسلکی عصبیت بھی بھرپور طریقے پر اپنا کام کر رہی ہے۔ اس قضیے میں آخر ایسا کچھ نہ کچھ تو کیا ہی جا سکتا ہے کہ مسلکی عصبیتوں کو اپنا کام کرنے کا موقع نہ ملے۔ اور کم از کم ایک ہی مطلع کے تحت آنے والی بستیوں اور شہروں کے مسلمان ایک ہی دن سے روزہ شروع کریں اور ایک ہی دن عید منائیں۔ اسی طرح رؤیت ہلال کی روایت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو بے شک رکھیں مگر علم فلکیات کے اکتسابات اور مستفادات کو بھی یکسر نظر انداز نہ کریں۔


