ذوالفقار علی بھٹو اور ہمارے سات سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ذوالفقار علی بھٹو نے بیس دسمبر انیس سو اکہتر کو بطور صدر پاکستان حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو ان حالات میں کون سے چیلنجز کا پاکستان کو سامنا تھا۔ تاریخ سے جڑے وہ چیلنج ایسے سوال ہیں جن کا جواب میرے اور میرے بعد کی نسل کے لئے جاننا بے حد ضروری ہے کیونکہ مغربی یا موجودہ پاکستان کی بنیادیں اصل میں بھٹو نے رکھی تھیں اور آج کی تمام سیاسی، معاشی اور سماجی سچائیوں کا براہ راست تعلق ان سوالات اور چیلنجز سے ہے جن کا پہلا جواب بھٹو نے اپنے دور حکومت میں دیا۔

وہ سوال کیا تھے، آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔

پہلا سوال: مشرقی پاکستان الگ کیوں اور کیسے ہوا۔ اس سوال کا ایک جواب تو سقوط ڈھاکہ کمیشن کا قیام تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی رائے اس معاملے میں کیا تھی، کمیشن اس کا جواب فراہم نہیں کرتا۔ اپنے عہد کے اتنے بڑے آدمی کے متعلق یہ سوچنا تو نامناسب ہے کہ اتنے بڑے سانحے پر اس کی کوئی ذاتی رائے نہ ہو۔ اس سوال کا ایک ممکنہ جواب الزامات ہو سکتے ہیں۔ مجیب الرحمان پر الزام، بھارت پر الزام، امریکہ پر الزام، روس پر الزام، لیکن الزامات کا یہ انداز تو نہایت عامیانہ، بازاری اور غیر علمی ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ بھٹو بھی الزامات ہی کی سیاست کا دلدادہ تھا تو پھر تاریخ اسے ذہین اور فطین کس بنیاد پر مانتی ہے؟ اور اگر نہیں تو جواب کیا ہے؟

دوسرا سوال: سقوط مشرقی پاکستان کی وجوہات پر دنیا بھر کے سکالرز تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سقوط ڈھاکہ کی بنیاد تقسیم کے بعد ہی رکھ دی گئی تھی۔ بھٹو نے ان وجوہات کو کس حد تک سمجھا اور اپنی پالیسیوں کے ذریعے آئندہ کے لئے اس کا سدباب کیا؟ کیا بھٹو کے دور اقتدار میں بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور سماجی تعلقات میں بہتری آئی یا صوبائیت اور علیحدگی پسندی کے جذبات پہلے ہی طرح پنپتے رہے؟

تیسرا سوال: نظریہ پاکستان کی ایجاد مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد عمل میں آئی۔ کیا بھٹو اس نطریے کی ایجاد میں حصہ دار تھے؟ یا یہ نظریہ ان کی ناک تلے ان کی مرضی کے بغیر بنایا گیا۔ اگر یہ ان کی ناک تلے ان کی مرضی کے بغیر بنا تو دسمبر اکہتر سے جولائی انیس سو ستتر تک انہوں نے کیا کیا؟ کیا کہا؟ کیا انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ نظریہ نفرت اور حب الوطنی کا ایسا ماحول بنا دے گا جو اختلاف کرنے والے کو غدار سے کم کوئی نام دینے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑے گا۔ کیا انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ نظریہ غیر جمہوری قوتوں کو سماج کی جڑوں تک سرایت کرنے کا موقع فراہم کرے گا اور لوگوں کو تاریخ کا تنقیدی جائزہ لینے سے روکے گا؟ اگر نہیں تو پھر تاریخ انہیں ذہین اور فطین کس بنیاد پر مانتی ہے؟

چوتھا سوال: ساٹھ کی دہائی کا ایک سبق انیس سو پینسٹھ کی جنگ تھی۔ پیسنٹھ سے پہلے پاکستان کی ترقی پورے ایشیا میں مثالی تھی۔ جنگ کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی مگر اس کے باوجود آج تک پاکستان کی معاشی ترقی کا بہترین دور وہی تھا۔ بھٹو اس زمانے میں ایوب خان کی کابینہ کا حصہ تھے۔ ترقی کے اس پورے عمل کے گواہ۔ کیا اپنے دور اقدار میں اٹھائے گئے ان کے اقدامات ہمیں ان کے معاشی وژن کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں؟ کیا اس زمانے میں ان کے اقدامات عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تھے یا سوویت یونین کے اندر جاری ٹوٹ پھوٹ کے عمل اور اس کے سوشل ازم سے تعلق کی بھنک بھی بھٹو کی پالیسیوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ قومیانے کی پالیسی نے سرکاری اداروں میں ریفارمز کے عمل کو جس طرح سبوتاژ کیا اور آج ہمارے لئے سالانہ اڑھائی ہزار ارب کے نقصان والے تخفے میں تبدیل کیا۔ کیا بھٹو کو تب ان مضمرات کا اندازہ تھا؟

پانچواں سوال۔: تہتر کی آئین سازی کس حد تک بھٹو کے انسانی حقوق، شخصی آزادیوں، مذہبی آزادیوں اور سوشل سیکورٹی سے متعلق تصورات کی وضاحت کرتی ہے؟

چھٹا سوال: بھٹو کے سامنے ایک بہت بڑا سوال مشرقی پاکستان میں ہوئی شکست میں افواج کے کردار سے متعلق تھا۔ پینسٹھ اور اکہتر دونوں جنگوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد کس حد تک سول اور ملٹری تعلقات کی سمجھ بھٹو کی پالیسوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ اکہتر سے ستتر کے درمیانی سالوں میں کب کب بھٹو کی سول ملٹری تعلقات پر سوچ اور اپروچ سامنے آئی اور وہ کیا تھی؟ کیا انہوں نے کبھی سوچ سمجھ کر سول ملٹری بیلنس کو ادارہ جاتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی؟

ساتواں سوال: پاکستان کی پوری تاریخ دو بنیادی سوالات کے اردگرد گھومتی ہے۔ پہلا یہ کہ ملکی سیاست، سماج اور معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں مذہب کا کردار کیا ہو گا اور دوسرا یہ کہ اقتدار کی سیاست میں سول اور ملٹری کا کردار اور شیئر کیا ہو گا۔

جب تک ان سوالات کا جواب نہیں ملتا، بھٹو کے حق یا مخالفت میں ہوئی تمام گفتگو سے تعصبات کی آبیاری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply