بھٹو کا قتل قادیانیوں اور امریکہ کی مشترکہ سازش تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر پوچھو کہ جب پاکستان بن رہا تھا تو کون اس کی مخالفت کر رہا تھا؟ تو جواب ملے گا کہ قادیانی کر رہے تھے (علماء بالکل مخالفت نہیں کر رہے تھے)۔ تقسیم کے وقت پنجاب کے بعض اضلاع پاکستان کے ہاتھ سے کیوں نکلے؟ قادیانیوں کی غداری کی وجہ سے نکلے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بنا؟ قادیانیوں کی وجہ سے نہیں بنا۔ لیاقت علی خان صاحب کو کس نے شہید کیا ؟ یہ قادیانیوں کی کارستانی تھی۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد سینیر جنرلز جنرل افتخار خان اور جنرل شیر خان ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہوئے۔ یہ قتل قادیانیوں نے کیے تھے۔ جب خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم تھے تو انہیں قادیانی قرار دیا جا رہا تھا۔ جب انہیں برطرف کر دیا گیا تو اسے بھی قادیانیوں کی چال قرار دیا گیا۔

ملک کے دوحصوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور ملک دو لخت ہو گیا۔ یہ بھی قادیانیوں کی سازش تھی۔ جنرل یحییٰ خان صاحب کا اس سانحے سے کیا لینا دینا۔ وہ کوئی قادیانی تو نہیں تھے۔ بھٹو صاحب اقتدار میں آئے تو یہ قادیانیوں کا کیا دھرا تھا اور جب انہیں پھانسی دی گئی تو یہ بھی قادیانیوں کی ریشہ دوانی تھی۔ جنرل ضیاء صاحب کا جہاز کریش ہوا۔ قادیانیوں نے میزائل مارا ہو گا۔ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہوں تو یہ بھی قادیانی کرا رہے ہیں۔ اب تو یہ نوبت آ گئی کہ اگر مرغیاں انڈے نہ دیں تو قادیانی ذمہ دار ہوں گے۔ اگر انڈوں سے چوزے نہ نکلیں تو قادیانیوں کو الزام دیا جائے گا۔ اگر مرغیاں پیدا ہو جائیں لیکن ان کا گوشت مہنگا بکے تو بھی وہی گردن زدنی ہوں گے۔ ملک کے کسی بھی سانحے پر کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب کچھ قادیانیوں کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔

اس ذہنی روش کا ایک تازہ مظاہرہ آج 4 اپریل (2021) کو روزنامہ نوائے وقت میں پڑھنے کو ملا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی برسی تھی۔ ان کی پھانسی کو آج بیالیس سال ہو گئے۔ آج نوائے وقت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے پاسبان اعلیٰ علامہ ممتاز اعوان صاحب نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ دل دہلا دینے والا انکشاف کیا کہ اسلامی ایٹم بم اور ختم نبوت کا مسئلہ حل کرنا مرحوم بھٹو کی پھانسی کی بڑی وجہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید ختم نبوت ہیں انہیں امریکہ اور قادیانیوں نے قتل کروایا۔ اس لئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلہ پر دستخط کرتے ہوئے بھٹو نے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے کہ موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوں تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت کے تحفظ کے لئے جان کی قربانی بڑی سعادت ہو گی۔

اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ بھٹو صاحب کو قادیانیوں نے قتل کرایا تھا تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جن جن لوگوں نے بھٹو صاحب کو پھانسی دلوانے میں کردار ادا کیا تھا وہ اس سازش میں قادیانیوں کے آلہ کار بنے ہوئے تھے۔ ایسے لوگوں کی فہرست تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو مرد حق جنرل ضیاالحق صاحب کا نام آتا ہے۔ وہ ملک کے صدر تھے۔ پھر تو یہ یقینی ہے کہ وہ ضرور قادیانیوں کے ساتھ مکمل طور پر ملے ہوئے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتی کہ پھر انہوں نے قادیانیوں کے خلاف آرڈیننس 20 کیوں جاری کیا۔ جس میں قادیانیوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگائیں۔ اس قانون کی بنا پر آج تک انہیں سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

بھٹو صاحب کو نواب محمد احمد خان صاحب کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کی ایف آئی آر ان کے صاحبزادے احمد رضا قصوری صاحب نے درج کرائی تھی۔ وہ تو ضرور قادیانیوں کے اشاروں پر چل رہے ہوں گے۔ کیا یہ بات آپ کو حیرت میں نہیں ڈالتی کہ چند سال پہلے ہی 1974 میں انہوں نے دوسرے ممبران اپوزیشن کے ساتھ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف ایک سخت قرارداد پیش کی تھی۔ اس قرارداد کے نتیجہ میں اس مسئلہ پر قومی اسمبلی کی ایک سپیشل کمیٹی قائم کی گئی تھی اور آخر میں قادیانیوں یا احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو صاحب کو سزائے موت سنائی تھی۔ یہ فیصلہ جسٹس آفتاب صاحب نے لکھا تھا۔ کیا یہ فیصلہ قادیانیوں یا احمدیوں کے اشارے پر لکھا گیا تھا؟ چند سال بعد جب یہی جسٹس آفتاب وفاقی شریعت کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو انہوں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف کچھ احمدیوں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک نہایت سخت فیصلہ لکھا تھا۔

کیا سپریم کورٹ وہ تمام جج جنہوں نے بھٹو صاحب کی اپیل مسترد کی، قادیانی نواز تھے؟ اگر ہم یہ حقائق بھی نظر انداز کر دیں۔ اور یہ تسلیم کر لیں کہ بھٹو صاحب کو احمدیوں نے اس پاداش میں قتل کروایا تھا کہ انہوں دوسری آئینی ترمیم کے ذریعہ انہیں غیر مسلم قرار دیا تھا تو پھر اس کا لازمی رد عمل یہ ہوا ہو گا کہ تمام مذہبی جماعتوں نے اس عدالتی قتل کی شدید مذمت کی ہوگی۔ انہوں نے تو ایوان صدر کا محاصرہ کر لیا ہوگا۔ اور بھٹو صاحب کی حمایت میں جلوس نکالے ہوں گے۔

کیونکہ یہ مذہبی جماعتیں تو ہمیشہ سے احمدیوں کے شدید خلاف رہی ہیں۔ ان کا تو یہ دعویٰ ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا کارنامہ تو اصل میں ان جماعتوں نے سرانجام دیا تھا۔ دیکھتے ہیں کہ ان کا کیا رد عمل تھا؟

جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تو جمیعت العلماء پاکستان کے سیکریٹری جنرل مولانا عبد الستار نیازی صاحب نے اسے انسانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تما م سیاستدانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ بھٹو کی موت عدلیہ کی بالا دستی کا مظہر ہے۔ [جنگ 7 اپریل 1979] یہ یاد دلاتے جائیں کہ 1953 میں احمدیوں کے خلاف فسادات کے ایک اہم قائد عبد الستار نیازی صاحب تھے۔

جمیعت العلماء اسلام کے قائد مفتی محمود صاحب [والد مولانا فضل الرحمن صاحب] نے بھٹو صاحب کی پھانسی پر بیان دیا تھا کہ بھٹو صاحب نے اپنے جرم کی سزا پائی ہے۔ اس سزا میں کسی کو ملوث ٹہرانا بددیانتی اور تعصب ہے۔ [جنگ 8 اپریل 1979] مجھے حیرت ہے مفتی محمود صاحب نے تو قومی اسمبلی میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے ایک طویل تقریر کی تھی۔ اس موقع پر وہ کیسے قادیانیوں سے مل گئے۔ انہیں تو اعلان کرنا چاہیے تھا کہ یہ سب قادیانیوں کی سازش کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہم اس فیصلہ کے خلاف جہاد کریں گے۔

جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو جنرل ضیاء صاحب کے وزیر چوہدری ظہور الہی صاحب نے بیان دیا کہ اس مقدمے میں پاکستان کی عدالتوں نے مثالی طور پر انصاف مہیا کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے کسی سے کام لینا ہو تو لے لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے خلاف حضرت موسیٰ کو کھڑا کیا اور کامیاب کیا اور اب چار ہزار سال کے بعد جنرل ضیاء صاحب کو یہ استقامت عطا فرمائی کہ وہ بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا کارنامہ سر انجام دے سکیں۔ ان کے صاحبزادے چوہدری شجاعت حسین صاحب اس بیان پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ [جنگ 10 اپریل 1979]

مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب نے یہ کہہ کر بھٹو صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھانے سے معذرت کی کہ غائبانہ نماز جنازہ میری فقہ میں جائز نہیں۔ [روزنامہ صداقت 8 اپریل 1979]

جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد صاحب نےجو اس وقت ضیاء صاحب کے وزیر کے فرائض سرانجام دے تھے بی بی سی کو انٹرویو دیا کہ بھٹو صاحب کو سزائے موت ملنا عدلیہ کی بالا دستی کا ثبوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب عدلیہ نے نزدیک امیر غریب سب برابر ہو چکے ہیں۔ [پاکستان ٹائمز 7 اپریل 1979]۔ اگر بھٹو صاحب کو قادیانیوں نے قتل کرایا تھا تو پروفیسر خورشید صاحب کو فوری طور پر اپنا استعفیٰ ضیاء صاحب کی میز پر رکھنا چاہے تھا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ طفیل محمد صاحب نے بیان دیا کہ بھٹو کا مقدمہ آمرانہ ذہن رکھنے والوں کے لئے نشان عبرت ہے۔ خدا کی دسترس سے بلند سے بلند شخصیت بھی محفوظ نہیں۔ [امروز 8 اپریل 1979]

جمیعت العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی صاحب نے یہ بیان دیا کہ بھٹو صاحب کی موت ہر ایک لئے عبرت کا نشان ہے۔ بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اقتدار میں آنا چاہتے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کی پکڑ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ [مشرق 5 اپریل 1979]

پیر صاحب پگاڑا نے بیان دیا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ملی ہے۔ [ڈان 7 اپریل 1979]

مجھے حیرت ہے کہ اگر بھٹو صاحب کو قادیانیوں نے اس لئے سازش کر کے قتل کرایا تھا کیونکہ انہوں نے ایک عظیم مذہبی فریضہ کی ادائیگی کی راہ میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی تھی تو پھر یہ تمام جید علماء اور مذہبی پارٹیوں کے قائدین اس کی مذمت کرنے اور اس کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے اس فیصلہ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے کیوں ملا رہے تھے؟ انہیں تو فوری طور پر اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہیے تھا۔

آج تو نوائے وقت یہ خبر شائع کر رہا ہے کہ بھٹو صاحب کو قادیانیوں نے قتل کرایا تھا۔ اس وقت نوائے وقت یہ خبر شائع کر رہا تھا کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر مدینہ منورہ پہنچی تو وہاں پر موجود پاکستانی اتنے خوش ہوئے کہ فوری طور پر انہوں نے مسجد نبوی میں شکرانے کے نفل ادا کئے۔ [نوائے وقت 13 اپریل 1979] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم اخبارات اور صحافت کی میدان میں واقعی تبدیلی آ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply