کیا ترک بھی عورتوں سے نفرت کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


لباس کے حوالے سے یہ ایک عام تأثر ہے کہ جہاں خواتین کم لباس پہنتی ہوں وہاں ان کو باآسانی بنیادی حقوق ملتے ہوں گے بالخصوص جنسی و گھریلو تشدد نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ جہاں یہ تأثر ہے وہاں پر یہ بات بھی عام ہے کہ جہاں عورتیں سر تا پا لباس پہنتی ہوں وہاں اخلاقی نوعیت کے جرائم نہیں ہوتے۔ یہ دونوں باتیں ہی دروغ اور بددیانتی پر مبنی ہیں۔ روشن خیال اقدار کا تعلق بہت حد تک برابر انسانی حقوق سے ہوتا ہے۔

ترکی میں سیکولرازم ضرور ہے، وہاں کی عورتوں کا لباس مغربی عورتوں کی طرح بھی ضرور ہو گا مگر جہاں بات جنس کی آتی ہے وہاں ترکی کا سیکولرازم بھی جنس کی بحث جیتتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صرف گزشتہ دو دہائیوں کی کہانی نہیں ہے، ترکی میں جنسی و گھریلو تشدد کے واقعات اسی تسلسل سے رونما ہوتے ہیں جتنے کسی دوسرے مسلمان یا ترقی پذیر ملک میں۔ وہاں بھی لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، زبردستی شادیاں ہوتی ہیں، جنسی اور گھریلو تشدد ایک ہی رفتار سے ہوتا ہے۔

نظام اور معاشرے میں حقوق نسواں کی تحاریک کو لے کر ویسی ہی نفرت اور برابری کے اصولوں میں زن بیزاری کے پہلو واضح جھلکتے ہیں۔ زن بیزاری مشرق ہو یا مغرب ، ہر سو پائی جاتی ہے، عورت دشمنی کا تعلق کسی خاص طبقے، خطے، مذہبی و سیاسی نظریات سے نہیں، دنیا کے ہر ملک میں الگ الگ حقوق نسواں کی جدوجہد موجود ہے جس کا تعلق ان خواتین کے بدن پر پڑے پیرہن کی وسعت یا تنگی سے ہرگز نہیں۔

حال ہی میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول کنونشن۔ اا کی صدارتی حکم کے تحت برخاستگی کا اعلان کیا ہے۔ استنبول کنونشن جو نام سے ترکی سے منسلک ہے، یورپی ممالک کا معاہدہ ہے جو یورپ میں خواتین کو جنسی اور گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے پر مبنی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی ممالک کی حکومتیں ایسے قوانین لاگو کرنے کی پابند ہیں جو جنسی و گھریلو تشدد کے خلاف ان ممالک کی خواتین کو تحفظ فراہم کریں۔ حکومتیں خواتین اور بچیوں کے لئے پناہ گاہیں اور تشدد کی مکمل معلومات محفوظ رکھنے کی بھی پابند ہیں۔

جنسی تشدد جو گھر میں ہو یا باہر، ازدواجی زیادتی اور اس جیسے دیگر امور جن کی بنیاد پر خواتین کے خلاف تشدد کی راہ ہموار ہوتی ہے ، کی بیخ کنی اور فوری جرائم کی روک تھام ضروری ہے۔ استنبول کنونشن پورے یورپ میں خواتین کو شوہر کی جائیداد میں حق اور تشدد کی شکایات پر گھر کی ملکیت جیسے امور میں خواتین کی حمایت ہے۔ ترک خواتین نے اس معاہدے سے بھرپور فوائد بھی حاصل کیے اور متشدد شوہروں سے پناہ بھی حاصل کی۔ بظاہر یہ عام سی باتیں ہیں جو ہر آئین میں درج ہوا کرتی ہیں مگر ایسا کیا تھا کہ اس معاہدے کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کیا گیا؟

ترکی میں 2021 کے دوران اندراج کیے گئے واقعات میں اب تک ستر سے زائد خواتین شوہروں کے ہاتھوں جان گنوا چکی ہیں۔ یہ اعداد 2020 میں تین سو تھے جبکہ 2019 میں چار سو پچھتر۔ ان سرکاری اعداد کے علاوہ، بہت سی خواتین کی موت قتل کے زمرے سے ملتے جلتے واقعات میں شمار کی گئی۔

پینار گلتکن کو جولائی 2020 میں ان کے ساتھی نے قتل کیا، لاپتہ ہونے کے بعد پینار کی جلی ہوئی لاش کچھ روز بعد جنگل سے دریافت ہوئی۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور قتل کے واقعات پر توجہ مبذول کرائی۔ یہ وہ وقت تھا جب ترکی میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل زباں زد عام ہوئے۔

مجھے یاد ہے پینار گلتکن کے قتل کے بعد ہونے والے سیاہ و سفید تصویری چیلنج پر ایک جاننے والے قدامت پرست ترک کے الفاظ کچھ یوں تھے:

”ترکی کو ہر صورت استنبول کنونشن سے دست بردار ہونا چاہیے، اس کنونشن نے عورتوں کو اس قدر حقوق دے دیے ہیں کہ مرد غصے میں پاگل ہو گئے ہیں۔ ایک مرد جو بیوی پر تشدد کرتا ہے، اس سے گھر چھین لیا جاتا ہے اور بیوی کے نام پر منتقل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بوکھلا جاتا ہے، اس لئے مرد اس قدر پاگل ہو گئے ہیں۔ اس قدر پاگل ہو گئے ہیں کہ ایک مرد کے پاس عورت کو قتل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ مردوں کا غصہ اور عورتوں کا قتل تب ہی رکے گا جب ترکی اس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہ ہو گا۔”

ترکی میں  2002 میں 66 خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوئیں، جبکہ 2009 میں یہ تعداد 963 رہی۔ یہ چودہ سو فیصد قتل کی وارداتوں میں اضافہ تھا۔ صدر رجب طیب اردوان کے دور حکومت میں اب تک 6 ہزار 723 عورتیں گھریلو تشدد کے واقعات میں قتل کی گئی ہیں جبکہ اس سے ملتے جلتے سینکڑوں واقعات درج نہ ہو سکے۔ استبول کنونشن سے اخراج کے صرف چھ گھنٹوں میں بارہ خواتین قتل ہوئیں، جن میں چار کے قتل کی وجہ شوہر/منگیتر سے تعلق ختم کرنا تھا۔

یہ بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت سی خواتین پولیس کے پاس قتل ہونے سے پہلے بیسیوں بار شکایات درج کراتی رہی جن پر حکام نے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر ایک متاثرہ خاتون نے ساٹھ بار شوہر کے خلاف شکایت درج کی، جس کو پولیس نے کوئی اہمیت نہ دی۔ بعد میں اسی خاتون کے قتل کا مقدمہ درج ہوا جس میں قاتل اس کا شوہر ثابت ہوا۔ ایک اور مقتولہ تئیس بار شکایت درج کرانے کے بعد قتل کی گئیں، بعد ازاں، ان کے قتل کا مقدمہ بھی اسی شخص کے خلاف درج ہوا جس کے خلاف وہ اپنی زندگی میں شکایت درج کراتی رہیں۔

استنبول کنونشن سے دستبرداری کی بڑی وجہ ترک روایات کی بقاء بھی بتائی گئی ہے۔ ان کے بقول اس معاہدے کی بدولت خواتین کو میسر حقوق سے ترک خاندانی روایات کو خطرہ تھا۔ گھریلو تشدد کے باعث عورتیں ایسے شوہروں کو باآسانی طلاق دے سکتی تھیں، قدامت پرستوں کے قریب طلاق کی بڑھتی شرح ترک روایات کے منافی تھی۔

اس کنونشن کے تحت، ریپ کی شکار خواتین کو اسقاط حمل کے محفوظ عمل تک رسائی ممکن تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ اسقاط حمل کو روکنے میں معاشرہ ہر طرح کے جتن کرنے کو تیار رہتا ہے، مگر عورت پر ہوتے جنسی تشدد پر روایات اور عزت کی گونج سنائی دیتی ہے۔ جبکہ انقرہ کے سابق ناظم ملیح گوکچے نے ریپ کی شکار لڑکیوں کو استقاط حمل سے پہلے مر جانے کا مشورہ تک دیا۔

سابق نائب ترک وزیراعظم مہمت سمک یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ترکی میں بڑھتی بے روزگاری کی وجہ نوکری کرنے والی خواتین ہیں۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ قدامت پرست طبقات کی طرف سے سرتوڑ کوششیں بھی جاری تھیں کہ گھریلو و جنسی تشدد سے نمٹنے والے اس معاہدے سے ترکی کو برخاست کیا جائے۔ ترک صدر اور دیگر رہنماؤں کی نظر میں مرد و عورت کی برابری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان کے نزدیک برابری ابھی بھی جسمانی طاقت اور خدوخال تک محیط ہے، ان خیالات کا اظہار خود ترک صدر گزشتہ برس خواتین کنونشن میں کر چکے ہیں۔

یہ بھی المیہ ہے کہ جسمانی طور پر کسی کو زیر کرنا ہی کیوں طاقت تصور ہوتا ہے؟ اور زیر کرنا ہی کیوں ضروری ہے؟ یہ نکتہ کہ ایک مرد پچاس کلو بوجھ اٹھا سکتا ہے، باآسانی کسی عورت کی کلائی مروڑ کر توڑ سکتا ہے یا بنا زور لگائے کسی عورت کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے، یہی کیوں اس کی طاقت تصور ہوتا ہے؟ کوئی مرد کسی پر تشدد نہ کرے یا کسی عورت کو اپنی ہوس اور انا کا نشانہ بنائے بنا طاقت ور تصور کیوں نہیں ہوتا؟

روایات کا زہر آلود تذکرہ دنیا کے کسی بھی معاشرے یا تمدنی حصار میں کیوں نہ ہو، عورت کا لباس پنڈلیوں سے اوپر یا سر تا پا وسیع ہو ، روایات اور ”خاندانی“ نظام کا غیر معقول بوجھ عورت کے ان ہی کندھوں پر لاد دیا جاتا ہے جن کو مردوں کی لغت میں کمزور کہہ کر عورت سے جینے کے مساوی حقوق چھینے جاتے ہیں۔ اگر آج کے جدید دور میں بھی پدرشاہی کی لغت میں انسانی برابری عورت اور مرد کے پٹھوں اور پنڈلیوں کی ساخت سے حاکم طے کرتے ہوں، وہاں برابری، انصاف، خوشحالی، اور منطق کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ وہاں ایسے ہی بدنیتی کے سناٹے راج کرتے ہیں جہاں روایت کے نام پر اندھیروں کی سعی کی جاتی ہے۔

ایسے معاہدے جو تشدد کی شکار عورتوں کے سرکاری پناہ گاہوں میں قیام اور متشدد شوہروں سے جلد جان خلاصی کی راہ ہموار کریں، جہاں شوہر بیوی اور بچوں کو گھر سے نکالنے کی جسارت نہ کر سکتا ہو، یا عورتوں کے قتل کا وسیع پیمانے پر اندراج اور اس کی بیخ کنی میں سہولت فراہم کریں، ان معاہدوں سے دستبرداری نیتوں کے کھوٹ اور معاشرے میں جبر کے پلڑے کو بھاری رکھنے کی کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں۔ حکومتوں کے ایسے امتیازی اقدام واضح کرتے ہیں کہ آج کے دور میں بھی مردوں کے تشکیل کردہ نظام عورت دشمنی اور تشدد دوستی پر مبنی ہیں۔ خواہ وہ دنیا کا کوئی بھی ملک یا نظام ہی کیوں نہ ہو۔ جو نظام قاتلوں، ریپ کاروں اور متشدد افراد کو روایات کی چادر میں لپیٹ کر ظلم سے نظریں چراتا ہو، وہاں کے لوگ کتنے ہی مہمان نواز یا مناظر کس قدر دل جو کیوں نہ ہو، جبر کے بدنما داغ سامنے آ کر ہی رہتے ہیں۔

استنبول کنونشن جو ترک خواتین کو دیگر یورپی خواتین کے ہمراہ تشدد سے تحفظ فراہم کرتا ہے، کیسے ترک خاندانی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے؟ بظاہر قدامت پسند رہنماؤں کی جانب سے یہ دلیل دینا کہ ایسا معاہدہ ان کے روایتی نظام کے لئے خطرہ ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب اور روایات کی آڑ میں ریاست خواتین کے قاتلوں اور ریپ کاروں کو اس نوعیت کے تمام جرائم کرنے کی آزادی دیتے ہیں جس پر ترک خواتین پریشان بھی ہیں اور سراپا احتجاج بھی۔ مارچ کا مہینہ عالمی ماہ خواتین کے طور پر منایا گیا اور دنیا بھر میں خواتین اپنی حکومتوں اور ان کی عورت دشمن پالیسیوں سے برسر پیکار ہیں۔

جب فریحہ نامی ترک ڈرامہ پاکستان میں آن ائر ہوا تو لوگ اس بات پریشان ہونے کی بجائے خوش تھے کہ ترکی میں بھی سب پاکستان جیسا ہوتا ہے یعنی ایک لڑکی جو گینگ ریپ کا شکار ہوتی ہے، کو نظام اور سماج بری نظر سے دیکھتے ہیں، اس کو انصاف دلانے میں پولیس رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ اپنے حق اور انصاف کے لئے سامنے آنے والی لڑکی کو سب ہی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور برتاؤ کرتے ہیں۔ آپ کا لباس لمبا ہو یا چھوٹا، نظام اگر عورت اور کمزور کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ کبھی بھی مظلوم کی حالت نہیں بدل سکتا۔

اگر روایتی خاندانی نظام عورت کے متشدد شوہروں کے ساتھ رہنے کو اخلاقی اقدار گردانتا ہو تو ایسے نظام سمیت ایسی روایات کو بھی مسمار کرنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔ بچوں کے خلاف زیادتی کو یہ کہہ کر ٹال دیا جائے کہ بچے فقط توجہ کے لئے اول فول باتیں خود سے بناتے ہیں، عورتیں گھر اور کام کرنے والی جگہ پر جنسی ہراسگی اور تشدد کو بے نقاب کریں اور فیصلے انہی کے خلاف آئیں تو نظام اور سماج کی بد دیانتی اور بدنیتی واضح ہوتی ہے۔

اگر قانون انسانوں کو برابر سمجھنے سے معذور ہو تو قانون بدلنے پڑتے ہیں، ایک کامیاب ریاست کے اسلوب بھی انسانوں کو مساوی اور باعزت سمجھنا اہم ہوتا ہے وگرنہ یہ اخلاقی اقدار  نفسیاتی ڈھکوسلے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply