خوشحال زندگی گزارنے کا ہنر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک استاد اپنے شاگردوں کا انوکھا امتحان لینا چاہتا تھا۔ وہ انہیں درسی کتب کے بجائے ان کی دماغی کیفیت کا ایک حصہ بطور امتحان پیش کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے شاگردوں کو ایک عام برائی سے خاص انداز میں متعارف کرائے۔ اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے کا ہنر سکھائے۔ یہ صرف امتحان ہی نہ تھا بلکہ ایک سوچ، فکر اور نظریہ کو پرکھنا تھا۔ ایک الگ انداز زندگی کا تعارف تھا۔ جسے امتحان کا نام دیا گیا۔

چنانچہ استاد محترم نے جماعت میں قدم رکھا تو سناٹا چھا گیا۔ حسب عادت تھوڑی دیر خاموشی کے بعد طلبہ کو مطلع فرمایا کہ آج ان کا امتحان ہے۔ تمام طلبہ کچھ دیر اپنی درسی کتب کی طرف متوجہ رہے۔ کسی نے پہلے چیپٹر کی اہمیت پر زور دیا تو کسی کے کہا نہیں! نہیں! وہ جو تیسرا والا تھا ناں، وہ استاد جی نے بڑی تفصیل سے پڑھایا تھا اور اس کی اہمیت بھی بتائی تھی۔ بہرحال آراء مختلف تھیں کہ کون سا ”چیپٹر“ کتنا اہم ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک ایسا چپٹر جسے معاشرے کی اکثریت اہمیت نہیں دیتی۔ ایک ایسا چیپٹر جسے روز پڑھا جاتا ہے لیکن اس میں پڑا نہیں جاتا۔ ایک ایسا چیپٹر جو باوجود عمومیت کے خصوصیت کے درجہ تک پہنچ گیا تھا۔ جسے یاد کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ جسے عام لوگوں نے محسوس کرنا ترک کر دیا تھا۔ آج استاد محترم اسی چیپٹر سے سوال کرنا چاہتے تھے۔ آج وہ اس پر روشنی ڈالنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اسی غرض سے انہوں نے طلبہ کی تعداد کے حساب سے چند صفحات ان کی ٹیبل پر رکھ دیے جن پر کچھ سوالات درج تھے۔

استاد محترم نے ایک پرچہ لیا اور اس کو پلٹ دیا، اور کہا اصل سوال صفحہ کی پچھلی جانب درج ہے۔ جب طلبہ نے پرچہ پلٹا، تو وہ حیران رہ گئے کہ صفحہ کی دوسری جانب کوئی سوال نہیں تھا۔ بلکہ اس صفحہ کے بیچوں بیچ ایک کالا دھبہ یا نقطہ تھا۔ طلبہ ورطۂ حیرت میں ڈوبے سوالیہ نظروں سے استاد محترم کو دیکھنے لگے۔

استاد محترم اپنے طلبہ کی حیرانی کی وجہ سے بخوبی واقف تھے۔ اس لئے انہیں بڑے شائستہ انداز میں کہا: پریشان مت ہو! آج یہی آپ کا امتحان ہے۔ اور میں چاہتا ہوں اس صفحہ پر جو کچھ آپ کو نظر آئے، اس پر سوچیں اور جو کچھ سمجھ آئے لکھ ڈالیں۔

طلبہ الجھن کا شکار ہو گئے۔ سلجھن کے راہیں ڈھونڈنے لگے۔ آج وہ اپنی زندگی میں ایک ایسا امتحان دینے کا تجربہ کرنے جا رہے تھے جسے وہ نہیں سمجھ سکے، ایک ناقابل فہم چیز کا امتحان۔

طلبہ نے غور و فکر کیا کہ اس صفحے پر ہمیں کیا دکھائی دے رہا ہے۔ سب تفکرات کا جواب بیک آواز ”کالے نقطے“ کی موجودگی تھا۔ یہ کالا نقطہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ تھوڑی دیر اور سوچا، شاید کچھ اور بھی ہو لیکن کوئی فائدہ نہیں۔ نظر و فکر کی گنجان آبادی کے چاروں اطراف سے کالے نقطے کی صدائیں سنائی دینے لگی۔ چنانچہ ان صداؤں نے قلم کی نوک کو جنبش دی، تمام طلبہ نے اپنے قلم و قرطاس کو تحریر کے لئے تیار کیا۔ اور قلم نے صفحہ کو اول تا آخر بھر ڈالا۔ اور کالے نقطے کی دلنشین تشریحات کا ایک تانا بانا بندھ گیا۔

پھر رفتہ رفتہ امتحانی وقت اپنے اختتام کو جا پہنچا۔ تمام طلبہ نے اپنا اپنا حل شدہ پرچہ استاد محترم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اور انہوں نے ہر طالب علم کا پرچہ پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔ ہر شاگرد نے اپنی تئیں سیاہ نقطے کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ سب طلبہ خاموشی کے عالم میں استاد محترم کے سامنے کسی حتمی نتیجے کے منتظر تھے۔ استاد محترم نے انہیں سمجھانا شروع کرتے ہوئے کہا: آج کے اس امتحان میں میں آپ کو کوئی ”گریڈ“ یا نمبر نہیں دینا چاہتا۔ بلکہ اس کے بدلے میں آپ کو سوچنے اور سمجھنے کے لئے کچھ دینا چاہتا ہوں۔

دیکھیں آپ میں سے کسی نے بھی صفحے کے سفید حصہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، جبکہ کالانقطہ سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ کیا آپ جانتے ہیں؟ یہی کچھ ہماری اصل زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ سیاہ دھبوں پر تو توجہ دی جاتی ہے، اگرچہ ان کی مقدار قلیل ہی کیوں نہ ہو، لیکن ان کے چہار جانب چھائی سفیدی جس نے اس کالے دھبے کا گہراؤ کر رکھا ہوتا ہے، اسے بھلا دیا جاتا ہے۔ اور پھر غموں کی وادیوں میں سرگرداں گشت کی جاتی ہے۔

یہ زندگی ہمارے رب کی جانب سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ ہمارے پاس زندگی میں خوش رہنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ہمارے پاس ایسے کئی طریقے ہیں جنہیں اپنا کر ہم خوش بھی رہ سکتے ہیں اور خوشیاں بھی بانٹ سکتے ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کریں۔ ایک دوسرے کی لغزشوں کو موضوع سخن بنانے کے بجائے انہیں دفنا دیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ لیکن ہوتا کیا ہے، صرف سیاہ دھبوں کی آغوش میں جیا جاتا ہے۔ کبھی صحت کے مسائل، کبھی معاش کی تنگی، کبھی زیادتی کی ہوس، کبھی الجھے ہوئے رشتے، کبھی حسد کی آگ، کبھی تکبر کی انکساری، اور کبھی غیر اللہ سے بندھی توقعات کا مٹی تلے دب جانا، اور اس کے علاوہ ایک ایسی طویل فہرست جس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے بے رخی پر مجبور کر رکھا ہے۔ جو ہمیں نعمتوں کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہونے دیتیں۔

ہماری زندگی خدا تعالی کی جانب سے عطا کردہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔ ایسی زندگی کے سامنے سیاہ دھبوں اور کالے نقطوں کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ لیکن پھر بھی وہ ہمارے ذہنوں پر مسلط رہتے ہیں۔ ہمارے تفکرات کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں۔ اٹھتے، بیٹھے انہی سیاہ دھبوں کی دھنیں سنی، سنائی جاتی ہیں۔ جن کے شور و غوغا میں نعمتوں کا ذکر کہیں سنائی نہیں دیتا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی بھی خوشحال گزرے تو جیسے ہر مقصد اور منزل تک پہنچنے کا ہنر اور طریقہ ہوتا ہے، خوشحال زندگی گزارنے کا بھی ہنر ہے، وہ یہ کہ ہم اپنی نظریں، اپنے نظریات، اپنے افکار کو ان سیاہ دھبوں سے ہٹا کر زندگی کا مشاہدہ کریں۔ ہر اس لمحہ اور نعمت کی قدر کریں جو زندگی نے آپ کو مہیا کر رکھی ہے۔ سیاہ دھبوں کی کالی گھٹاؤں سے نکل کر زندگی کو خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی پر نور فضاؤں گزارنا سیکھیں۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *