مصر میں خواتین کے ختنہ کرنے کی روایت: اُن ماؤں کی کہانیاں جو اپنی بیٹیوں کو اس غیرقانونی عمل سے بچانا چاہتی ہیں

سروج پتھیرانا - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ختنہ، خواتین، مصر، نسوانی ختنہ، ایف جی ایم

Jilla Dastmalchi

اس رپورٹ میں شامل بعض تفصیلات چند قارئین کی طبعیت پر گراں گزر سکتی ہیں۔

’اُنھوں نے مجھے پکڑ کر لٹایا اور میرے جسم کا ایک حصہ کاٹ دیا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے کہ کیوں۔ یہ میری زندگی کا پہلا صدمہ تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ کیا غلط کیا تھا کہ یہ میرے اوپر حاوی ہو کر مجھے تکلیف دینے کے لیے میری ٹانگیں کھول رہے تھے۔ یہ نفسیاتی طور پر میرے لیے ایک نروس بریک ڈاؤن کی طرح تھا۔‘

لیلیٰ (فرضی نام) صرف 11 یا 12 سال کی تھیں جب اُنھیں نسوانی ختنے (فیمیل جینیٹل میوٹیلیئیشن یا ایف جی ایم) کے عمل سے گزرنا پڑا۔

مصر کی قدامت پسند مسلمان برادریوں خاص طور پر دیہی علاقوں میں بسنے والی خواتین کو نسوانی ختنے نہ ہونے تک ’ناپاک‘ تصور کیا جاتا ہے اور ’شادی کے لیے تیار‘ نہیں سمجھا جاتا۔

مصر میں خواتین کے ختنے کرنے کا عمل سنہ 2008 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اگر خلاف قانون کوئی ڈاکٹر یہ کام کرتا ہے تو اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایسا کوئی بھی شخص جو کسی خاتون کے ختنے کرنے کی درخواست کرے اسے بھی تین سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

قانون ہونے کے باوجود مصر میں خواتین کے ختنہ کی بلند ترین شرح والے ممالک میں شامل ہے۔

انسانی حقوق کے وکیل رضا الدنبوقی خواتین کے لیے مفت مقدمات لڑنے والے ایک مرکز کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خواتین کے ختنے اکثر ’پلاسٹک سرجری‘ کی آڑ میں کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

سوڈانی دلہنیں شادی سے قبل ختنہ کیوں کرواتی ہیں؟

’ختنہ کی وجہ سے مجھے اپنا آپ کمتر محسوس ہونے لگا‘

آئس لینڈ: مردوں کے ختنے پر پابندی کا منصوبہ

قاہرہ میں قائم ویمنز سینٹر فار گائیڈنس اینڈ لیگل اویئرنیس (ڈبلیو سی جی ایل اے) نے اب تک خواتین کی طرف سے تین ہزار مقدمات دائر کیے ہیں اور ان میں سے 1800 کے قریب مقدمات جیتے ہیں۔ ان میں سے کم از کم چھ مقدمات خواتین کے ختنوں کے متعلق تھے۔

ہو سکتا ہے کہ قانون ان کی طرف ہو، مگر انصاف لینا ایک بالکل مختلف کہانی ہے۔ رضا بتاتے ہیں کہ اگر لوگ پکڑے بھی جائیں تو بھی پولیس اور عدالتیں ان سے کافی نرمی برتتی ہیں۔

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسے اُن کا سینٹر اس عمل کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ اُنھوں نے ہمیں اُن تین خواتین سے ملوایا جنھوں نے ہمیں اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کیوں اگلی نسل کو اس سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔

لیلیٰ کی کہانی: ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نے کیا غلط کیا ہے‘

ختنہ، خواتین، مصر، نسوانی ختنہ، ایف جی ایم

Jilla Dastmalchi

اب اس بات کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن وہ بدقسمت دن لیلیٰ کی یادداشت میں اب بھی تازہ ہے۔ اُنھوں نے ان ہی دنوں اپنے سکول کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

’مجھے اچھے نمبروں پر انعام دینے کے بجائے میرے خاندان نے ایک دائی کو بلایا، سب نے سیاہ کپڑے پہن لیے اور مجھے ایک کمرے میں بند کر کے گھیر لیا۔‘

خواتین کے ختنوں کے بارے میں بات کرنا اس حد تک ممنوع شے ہے کہ چار بچوں کی 44 سالہ والدہ لیلیٰ یہ بھی نہیں بتانا چاہتیں کہ وہ مصر میں کہاں رہتی ہیں۔

اُن کی نانی اور دو پڑوسی خواتین اُس دن اُن کے گرد موجود تھیں (پڑوسی اکثر اوقات مل کر انتظامات کرتے ہیں تاکہ دائی ایک ہی دن متعدد لڑکیوں کے ختنے کر دے۔)

وہ بتاتی ہیں کہ ’گاؤں میں رہنے کے باعث ہر کسی کی طرح ہمارے گھر میں بھی مرغیاں تھیں۔ اس عورت نے میرے جسم کا یہ حصہ کاٹنے کے بعد مرغیوں کے سامنے پھینک دیا جو اسے کھانے کے لیے جمع ہو گئیں۔‘

اُس دن کے بعد سے لیلیٰ مرغی نہیں کھا سکی ہیں اور نہ ہی اُنھیں اپنے گھر میں رکھ سکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بچی تھی اور وہ چھٹیوں کے دن تھے۔ میں کھیلنا اور آزاد محسوس کرنا چاہتی تھی مگر میں ٹانگوں کو پھیلائے بغیر چل بھی نہیں سکتی تھی۔‘

لیلیٰ کو یہ سمجھنے میں طویل عرصہ لگا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے مگر وہ کہتی ہیں کہ جب وہ بڑی ہوئیں اور بیاہی گئیں تب اُنھیں سمجھ آیا کہ خواتین کا ختنہ نہ ہونے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔

’دیہاتیوں کے لیے ایک ایسی خاتون جس کے ختنے نہیں ہوئے، وہ لازماً ایک گناہ گار عورت ہے اور جس کے ختنے ہو چکے ہیں وہ ایک اچھی عورت ہے۔ یہ کیسے قابلِ فہم ہو سکتا ہے؟ اس کا اچھے رویے سے کیا تعلق ہے؟ وہ ایسی روایت کی پیروی کر رہے ہیں جسے وہ خود نہیں سمجھتے۔‘

جب ان کے ہاں پہلی بیٹی ہوئی، تو لیلیٰ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ بھی اُن کی طرح اسی درد سے گزرے، مگر وہ اپنے شوہر کو اس سے روک نہیں پائیں۔ اُن کے شوہر اپنے خاندان کو خوش کرنا چاہتے تھے۔

مگر جب تک لیلیٰ کی دوسری بیٹیوں کے ختنوں کا وقت آیا، تب تک ملک میں اس عمل پر پابندی لگ چکی تھی اور لیلیٰ نے ڈبلیو سی جی ایل اے کے آن لائن لیکچرز اور ٹی وی اشتہارات دیکھ لیے تھے۔

لیلیٰ نے رضا الدنبوقی کے لیکچرز میں شرکت کرنی شروع کر دی اور اس سے اُنھیں اپنی دوسری بیٹی کو بچانے کی ہمت ملی۔

وہ جانتی تھیں کہ اُن کی برادری میں کیسے کچھ لڑکیوں کی اس صدیوں پرانی روایت کی وجہ سے زیادہ خون بہہ جانے کے باعث موت ہو گئی تھی۔

اُنھوں نے سوچا کہ ’میں کیوں اپنی بیٹی کو اس خطرے کی زد میں دھکیلوں؟ ایک جاہلانہ رسم کی وجہ سے۔‘

’میں ہمیشہ سے جانتی تھی کہ یہ غلط ہے مگر میرے پاس دوسروں کو قائل کرنے کے لیے دلائل نہیں تھے۔ اور یہ صرف میرے شوہر نہیں تھے جنھیں میں نے قائل کرنا تھا، بلکہ میرے سسرال اور میرے اپنے گھر والوں کو بھی اس پر راضی کرنا تھا۔ وہ سبھی اس سے گزرے تھے اور سب کو لگتا تھا کہ یہ صحیح ہے اور سب کا ہی اس بارے میں میرے ساتھ یہ رویہ تھا کہ ’تم کون ہوتی ہو دنیا تبدیل کرنے والی۔‘

بالآخر اُنھوں نے اپنے شوہر کو عندیہ دیا کہ یا تو وہ باقی بیٹیوں کے ختنوں کا منصوبہ ترک کر دیں یا اُنھیں طلاق دے دیں۔

لیلیٰ کہتی ہیں ’ہمارے چار بچے ہیں سو وہ گھر نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔‘

’مگر میرا دل اب بھی میری سب سے بڑی بیٹی کے لیے اُداس ہے۔ اس کا بہت خون بہا تھا اور میں اسے بچا نہیں سکی تھی۔ جب اس کے ساتھ یہ ہوا تھا تو میں اس کے پاس بھی موجود نہیں تھی۔‘

شریفہ کی کہانی: ’ختنہ کے بعد مجھے ہسپتال لے جایا گیا‘

ختنہ، خواتین، مصر، نسوانی ختنہ، ایف جی ایم

Jilla Dastmalchi

شریفہ (فرضی نام) دس سال کی تھیں جب اُن کے والد نے اُن کا ختنہ کروانے کا فیصلہ کیا۔ ’میری والدہ میرے ختنوں کے خلاف تھیں چنانچہ میرے والد جو اپنی والدہ اور بہنوں کو خوش کرنا اور خود کو برتر ثابت کرنا چاہتے تھے، مجھے امی کو بتائے بغیر ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔‘

شریفہ کو لگتا ہے کہ ڈاکٹر نے شاید سُن کر دینے والے دوائی کا استعمال کیا ہو گا جو کہ بی بی سی کو بتائی گئی مختلف لوگوں کی روداد کے مطابق عمومی طریقہ نہیں ہے۔

’میں رو رہی تھی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے والد میرے ساتھ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے مگر میں ڈاکٹر کے سامنے اپنے جسم کے اس حصے سے کپڑا اٹھانے سے گھبرا رہی تھی۔ کچھ غلط محسوس ہو رہا تھا۔‘

’اُس نے سوئی جیسی کوئی چیز استعمال کی اور مجھے ایک ہلکی سی چبھن محسوس ہوئی۔ میرا خون بہنے لگا اور مجھے ہسپتال لے جانا پڑا۔ میرے والد ڈر گئے تھے چنانچہ اُنھیں میری والدہ کو بتانا پڑا۔ اُنھیں ندامت ہو رہی تھی کہ میرے ساتھ کچھ برا نہ ہو جائے۔‘

شریفہ بتاتی ہیں کہ ’میری والدہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کی مریض ہیں۔ وہ یہ خبر سنتے ہی فوراً بے ہوش ہو گئیں۔ اُنھیں اسی ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر میں تھی۔ اُن کی موت وہیں پر ہوئی۔ اب میں اپنی نانی کے ساتھ رہتی ہوں۔‘

شریفہ کے والد نے اُن کی والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی کر لی۔

’وہ مجھے پیسے بھیجتے ہیں۔ میں نے اپنے اور اپنی والدہ کے تجربے کی وجہ سے قانون پڑھنے پر اصرار کیا۔‘

دوستوں کے ساتھ مل کر شریفہ نے رضا الدنبوقی اور اُن کی ٹیم کے خواتین کے ختنوں کے حوالے سے منعقد کردہ سیمینارز میں شرکت کی۔

شریفہ کہتی ہیں کہ وہ نسوانی ختنوں کے متعلق آگاہی پھیلانے میں مہارت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

رضا الدنبوقی کہتے ہیں کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

سنہ 2013 میں ایک ڈاکٹر کو ایک 13 سالہ لڑکی کے ختنے کرنے پر تین ماہ کے لیے جیل بھیجا تھا۔ رضا اس لڑکی کی والدہ اور اُس ڈاکٹر دونوں سے ہی مل چکے ہیں۔

’لوگ اُس ڈاکٹر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ دو ڈالر میں یہ سرجری کر دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق وہ یہ خدا کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔‘

’اُس ڈاکٹر نے کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اُس نے کہا کہ اس لڑکی کی ٹانگوں کے بیچ اضافی گوشت تھا اور یہ کہ وہ نسوانی ختنے نہیں بلکہ پلاسٹک سرجری کرتے ہیں۔‘

رضا کے مطابق نسوانی ختنے کی وجہ سے لڑکی ہلاک ہو گئی مگر پھر بھی اس کی والدہ کا اصرار تھا کہ اُنھوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

’ہم والدہ کے پاس گئے اور پوچھا اگر آپ کی بیٹی اب بھی زندہ ہوتی، تو کیا آپ دوبارہ اس کے ختنے کرتے؟‘ اس پر والدہ نے جواب دیا کہ ’ہاں، ایسا کرنے کے بعد ہی لڑکی شادی کے لیے تیار ہوتی ہے۔‘

جمیلہ کی کہانی: ’مجھے لگا دائی دوبارہ یہ عمل کرے گی‘

ختنہ، خواتین، مصر، نسوانی ختنہ، ایف جی ایم

Jilla Dastmalchi

جمیلہ (فرضی نام) اب 39 سال کی ہو چکی ہیں۔ وہ نو سال کی تھیں جب اُن کا ختنہ کیا گیا تھا۔

’یہ گرمیوں کی چھٹیوں کا وقت تھا اور میری والدہ ایک بوڑھی دائی اور دو پڑوسیوں کو ہمارے گھر لائیں۔ اُنھوں نے تیاریاں مکمل کیں اور مجھے اُن کے ساتھ کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا۔‘

میں اندر گئی تو اُنھوں نے میری شارٹس اتار دیں اور دونوں پڑوسی عورتوں نے میری ایک ایک ٹانگ پکڑ لی۔ دائی کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بلیڈ تھا جس سے اُس نے میرا یہ حصہ کاٹ دیا اور بس۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میری والدہ وہاں نہیں تھیں کیونکہ اُنھیں یہ دیکھنے سے بہت خوف آتا تھا۔‘

اس عمل کے باعث ناقابلِ برداشت درد اور نفسیاتی زخم کے باوجود جمیلہ کہتی ہیں کہ اس تجربے نے اُنھیں بدل کر رکھ دیا۔

اس سے قبل وہ سکول میں صاف گو، بہادر اور ذہین ہوا کرتی تھیں مگر وہ بتاتی ہیں کہ اس کے بعد سب تبدیل ہو گیا۔ اُنھوں نے اس کے بعد بالغ خواتین سے کترانا شروع کر دیا۔

’بدقسمتی کی بات ہے کہ میں پرائمری سکول جاتے ہوئے راستے میں اس دائی سے ملا کرتی تھی مگر جو کچھ ہوا اس کے بعد میں نے مختلف راستہ لینا شروع کر دیا تاکہ اُن سے سامنا نہ ہو۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایک بار پھر یہی کچھ کریں گی۔‘

جمیلہ کو اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے درد محسوس ہوتا ہے۔

’زندگی پہلے ہی کافی تناؤ سے بھرپور تھی اور سیکس بھی بوجھ لگ سکتا ہے۔ شاید اگر یہ میرے لیے لذت انگیز ہوتا تو میں کچھ حد تک اسے بھول پاتی۔ اب یہ صرف مزید بے چینی کا باعث بنتا ہے۔‘

جمیلہ پرعزم تھیں کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ یہ سب نہیں ہونے دیں گی۔ ڈبلیو سی جی ایل اے کی کئی ورکشاپس میں شرکت کرنے کے بعد اُنھوں نے رضا الدنبوقی کے لیکچرز اپنے گھر پر بھی منعقد کروائے۔

’مجھے لگتا ہے کہ وہ بنیادی وجہ تھے کہ میں اپنی بیٹی کو اس سے بچا پائی۔ میرے شوہر میرے ساتھ اس میں شرکت کرتے تھے اور اُن کے خاندان نے اپنی نوجوان بیٹیوں کے ساتھ یہ عمل کرنا بند کر دیا۔‘

اس دوران رضا کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس رواج کے خلاف اپنی مہم میں بہت سی رکاوٹوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’ایک مرتبہ ہم نسوانی ختنوں کے متعلق آگاہی کے لیے ایک ورکشاپ کروا رہے تھے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ پر تھوک دیا۔ وہ کہنے لگا کہ ’تم ہماری لڑکیوں کو امریکہ کی طرح جسم فروش بنانا چاہتے ہو۔‘

مگر جمیلہ کہتی ہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ یہ عمل کرنے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ میں اپنی نویں جماعت میں پڑھنے والی بیٹی کو اس بارے میں سب بتاتی ہوں۔ میں اسے سکول میں اس موضوع پر مضامین لکھنے کے لیے حوصلہ بھی دلاتی ہوں۔‘

جمیلہ جب بی بی سی سے بات کر رہی تھیں تو اُن کی بیٹی بھی یہ گفتگو سن رہی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق مصر میں 15 سے 49 سال کی 87 فیصد لڑکیاں اور خواتین نسوانی ختنوں (ایف جی ایم) سے گزر چکی ہیں جبکہ 50 فیصد مصریوں کا ماننا ہے کہ یہ ’مذہبی فرض ہے۔‘

یہ فیچر بی بی سی عربی کی ریم فتحالباب کی مدد سے تحریر کیا گیا۔ خاکے بشکریہ جلا دستملشی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp