اردو کانفرس کا احوال اور مہجری ادب کی صورت حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو زبان و مہجری ادب کے حوالے سے یہ سہ روزہ کانفرس بہت بامعنی اور بامقصد ہے، اس کے لئے خواجہ اکرام صاحب اور ان کے تمام ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں مگر اب مہجری ادب کے ساتھ ساتھ کورونائی ادب پر کانفرس ہونا ضروری ہے۔ اردو ایک زندہ زبان ہے اور یہ مستقبل میں بھی زندہ رہے ، اس کے لئے ایسی کانفرسیں اور ادبی تقریبات کا منعقد ہوتے رہنا ضروری ہے کہ یہی سب کچھ اردو زبان کو آکسیجن مہیا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اردو رولڈ ایسوسی ایشن انڈیا کے روح رواں ہیں اور اس وقت اردو زبان کے ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں، اور خاص بات یہ ہے کہ وہ دنیا میں ہر جگہ اردو بولنے والوں کو ایک برادری کہتے ہیں، حالانکہ ہم سب اردو ادب کے مریض ہیں جنہیں صحت مند اور زندہ رکھنے کے لئے ڈاکٹر صاحب جی جان سے لگے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ سب مریضوں کی آپس میں بھی ملاقاتوں کا بندوبست رکھتے ہیں اور مجھ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ کے ہنر سے نا آشنا لوگوں کو بھی اس لوپ میں رکھتے ہیں۔ شکریہ ڈاکٹر صاحب!

ادب کیا ہے؟ اور کینیڈا میں اردو ادب، خاص طور پر اردو فکشن میں کیا ہو رہا۔ میں اس پر کچھ بات کروں گی۔

پہلے ہم کینیڈا میں اردو ادب پر جو نمایاں کام ہو رہا ہے اس کی بات کر لیتے ہیں۔ اور پھر قارئین اس کام کو ادب کے معیارات کے کینڈے میں خود رکھ کے دیکھ لیں۔ میرے خیال میں تو کینیڈا میں اردو ادب کا سفر جاری و ساری ہے ، اس کی رفتار اور معیار کا فیصلہ تو وقت کرے گا مگر جو مجھے معلوم ہے وہ سامعین کے لئے حاضر ہے۔

ایک انسان کے ذاتی حالات اور خیالات ہوتے ہیں اور ایک جہاں وہ رہ رہا ہوتا ہے وہاں کے اجتماعی حالات اور خیالات، ان دونوں کے ملاپ سے جو واقعات ظہور پذیر ہو تے ہیں، ان سب کو الفاظ میں قید کر نے والا ادیب یا شاعر ، اگر دومختلف جہانوں کا باسی ہو تو ایک منفرد ادب تشکیل پاتا ہے۔ ویسے تو ہڈبیتی اور جگ بیتی ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں اور لکھنے کا ہنر بھی آتا ہو تو ادبی پارہ شاہکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان، انڈیا یا بنگلہ دیش میں بیٹھا کوئی ادیب کتنا ہی منجھا ہوا لکھاری کیوں نہ ہو، وہ کینیڈا کی کہانی ساؤتھ ایشئین کینیڈین رائٹر سے زیادہ بہتر نہیں لکھ سکے گا۔

لیکن پاکستان انڈیا میں کھیلے جانے والے گلی ڈنڈے کو ملک سے باہر بیٹھا ادیب باآسانی لکھ لے گا، محترم خلیل الرحمان نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ اگر کوئی برصغیر سے باہر بیٹھ کر گلی ڈنڈے کے کھیل پر لکھنا چاہے گا تو نہیں لکھ سکتا، ان سے معذرت کے ساتھ کہ بات یہ ہے کہ ایک تارک الوطن ادیب کی اور کوئی خوبی ہو یا نہ ہو مگر وہ دو دنیاؤں کو اپنے فرسٹ ہینڈ تجربے کے بل بوتے پر جانچ سکتا ہے اور اس پر لکھ بھی سکتا ہے۔

ایک بالکل مختلف دنیا اور اس کے مختلف چیلنجز ہونے کے باوجود کینیڈا کے شاعروں ادیبوں نے لکھا تو صرف سر سے نہیں اتارا یا ثقافت اور زبان کی رسم کو ہی نہیں نبھایا بلکہ خوب لکھا۔ ان کو اس بات کا ادراک بہت اچھے سے ہے کہ زبان ایک کمیونٹی، ایک نسل، ایک قوم کی تاریخ اور اس کی ثقافت کی امین ہوتی ہے۔ غریب الوطنی میں بھی انہوں نے اپنی زبان کو غریب الوطن نہیں ہو نے دیا اور اپنے تئیں ہر ممکن کوششوں سے اس کو آباد رکھا۔

ایسی کوششوں میں پہلا نام، اس کانفرس میں کلیدی خطبہ پیش کر نے والے ڈاکٹر تقی عابدی صاحب کا ہی لوں گی۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے اردو زبان کے لئے جتنا بھی تحقیقی اور علمی کام کیا ہے ، اسے ہم بڑے آرام سے کسی بھی بڑے برصغیر کے اردو کے محقق اور تنقید نگار کے کام کے مقابلے میں پیش کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر تقی تو کینیڈا میں اردو ادب کے صرف ایک کھلاڑی ہیں، یہاں اردو ادب کے کئی اور مشاق کھلاڑی موجود ہیں۔ جن میں سے ایک سیدہ نزہت صدیقی صاحبہ ہیں۔ ادب میں امن کی بات کر نے والے بہت ہیں مگر جس طرح امن کی بات کرتے ہوئے وہ وطن اور مذہب کی ہر لکیر پار کر چکی ہیں ، اس وسعت نظری کی مثال خال خال ہی ملتی ہے، ان کی نظم ”شناخت“ کی چند آخری سطور دیکھیے؛

مرا وطن کائنات ہے، کائنات سے کم کہیں نہیں ہے
کہ میری میں کی شناخت اب کائنات ہے
کائنات سے کم کہیں نہیں ہے

پھر اور ستارے دیکھیے جن میں سے کچھ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں جیسے کہ اکرام بریلوی، سلطان جمیل نسیم، رضا جبار، رحیم انجان اور جو حیات ہیں ان میں سے فیصل فارانی، نسیم سید اور شکیلہ رفیق، بلند اقبال اور جاوید دانش ہیں۔ یہ سب مانے ہوئے افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں اور یہ اسی سر زمین پر بڑے بڑے شاہکار تخلیق کر تے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ایک اور نام دیکھیے، ڈاکٹر خالد سہیل۔ ایک ادیب اور نفسیاتی ڈاکٹر ہیں اور وہ ادب اور نفسیات کو جس طرح کبھی ساتھ ساتھ چلاتے ہیں اور کبھی الگ الگ کر کے دکھاتے ہیں، یہ بھی ادب کا ایک منفرد راستہ ہے جو انہوں نے اندر اور باہر کے انتشار کو اکٹھا کر کے چنا ہے۔

محمد احمد رضوان، مرزا یاسین بیگ اور سید حسین حیدر، ایک کونے میں بیٹھ کر جس طرح مزاح تخلیق کر رہے ہیں، جب کبھی غیر جانب دار ہو کر دیکھا جائے گا تو ان کا کام بھی برصغیر کے کسی بھی مستند مزاح نگار سے کم نہیں ہو گا۔ پھر حال ہی میں شاہد اختر صاحب نے دنیا کے ادب سے منتخب کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کر کے اردو کی دنیا کو ایک تحفہ دیا ہے۔ رفیع مصطفیٰ صاحب کا ایک اہم ناول ”اے تحیر عشق“ ، یہ دوہجرتوں کو لپیٹے ہوئے ہے، وہ اسے اردو انگریزی دونوں زبانوں میں لکھ چکے ہیں۔

آج چونکہ شاعری میرا موضوع نہیں مگر یہ فخر بھی شامل کر لوں کہ ایک سے بڑھ کر ایک اردو شاعر اس دھرتی پر موجود ہے۔ ، یقیناً ان سب ادیبوں، شاعروں کا تخلیقی کام دنیائے اردو ادب کو کینیڈا کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ یہ میرا گھمنڈ نہیں بلکہ فخر ہے کہ ٹورنٹو میں اردو ادب کے ہر میدان میں بہت اعلیٰ پائے کا تخلیقی کام ہو رہا ہے۔ اور اگر کبھی مستقبل میں برصغیر میں اردو ادب کو سرحدی تعصب سے بالاتر ہو کر پرکھا گیا اور کسی نے غیر جانب دار ہو کر ادبی خدمات کا اعتراف کر نے کا سوچ لیا تو ٹورنٹو میں ہو نے والا کام سرفہرست ہو گا۔

ایک سمارٹ فون میں سمٹ جانے والی دنیا یوں تو صرف جہازوں اور بحری جہازوں کا پیٹ بھرنے کو، جسمانی طور پر سرحدیں پار کر لیا کرتی تھی مگر ان کورونائی دنوں میں پھر سے ایک کوزے میں بند ہو گئی ہے، جہاں وہ کہیں آئے جائے بغیر خود ایک مکمل دریا بن چکی ہے۔ دیکھا جائے تو دنیا کے وسائل ایک دوسرے کے محتاج ہوئے تو اس کے مسائل آپس میں جڑ گئے تھے اور پھر ان کے حل بھی اکٹھے تلاش ہو نے لگے۔ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ ”انسان کے ماحول کے ٹکراؤ سے ہی انسان کی تشکیل ہوتی ہے۔“

اور پھر آپس میں تہذیبوں کے ٹکراؤ سے ایک نئی حقیقت جنم لیتی ہے، اور اسی سے سوچ کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے اور یہی ارتعاش ارتقاء کی پہلی منزل ہے ۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو کینیڈا کا اردو ادب کا تخلیق کار، اپنے کینوس پر اپنا ماضی، اپنے حال میں ڈھالتے ڈھالتے مستقبل کی ایک نئی تصویر بنا رہا ہے۔ اور وہ اردو ادب میں ایک ایسا مواد شامل کر نے کا باعث بن رہا ہے جو کے اس کے قاری کو کینیڈا میں پچاس سو سال بعد یہاں کے عام لوگوں کی تاریخ جن میں ان کے مسائل، وسائل، کشمکش، طرز حیات، مذہبی روایتوں سے آشنا کرے گا۔

آج یہاں کا بیٹھا ادیب اپنے منصب کو پہچان کر، اردو ادب سے جڑے مخدوش مالی حالات، پبلشرز کے چیلنجز، قاری کی عدم دستیابی اور فوری حوصلہ افزائی کی کمی کو بھول کر بر صغیر کے اردو ادب میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے۔ کینیڈا کے ادیبوں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے زبان و اسلوب اور موضوع و ہیئت دونوں اعتبار سے اس صنف کو کافی آگے بڑھایا ہے۔ ان میں زندگی کے کئی رنگ شامل کیے ہیں جو مشرق و مغرب کے درمیان کی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ ادب ہوتا کیا ہے۔

ادب کسی بھی زبان میں ہو اور اس کی کوئی بھی صنف ہو اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے جیسا کہ نامور افسانہ نگار پریم چند نے اپریل 1936 کو انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسے کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ؛

”ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں حقیقت کا اظہار ہو۔ جس کی زبان پختہ، شستہ اور لطیف ہو اور جس میں دل و دماغ پر اثر ڈالنے کی صفت ہو، اور ادب میں یہ صفت کامل طور پر اس حالت میں پیدا ہوتی ہے جب اس میں زندگی کی حقیقتیں اور تجربے بیان کیے گئے ہوں۔“

ارسطو نے کہا تھا روح تین سطحوں پر اپنا اظہار کرتی ہے۔ پہلی سطح نباتات کی ہے، جہاں محسوس کرنے کا عمل ہی اس کا نمایاں ترین ثبوت ہے۔ دوسری سطح حشرات الارض کی ہے جہاں محسوس کرنے کے علاوہ حرکت کرنے کا عمل ایک اضافی وصف کے طور پر موجود ہے۔ تیسری سطح، انسان کی ہے جہاں محسوس کرنے اور حرکت کرنے کے علاوہ، سوچ بچار کا عمل بھی موجود ہے۔ اور یہ ادب ہی ہے جو سوچ کی کھڑکی کو کھولتا ہے کہ زندگی محض مادی وسائل کے حصول کا نام نہیں، اس کا مقصد روح کا نکھار، تہذیبی رفعت اور تخلیقی سطح پر زندہ رہنا بھی ہے۔

جب فنکار، خیال یا وژن کو اپنی ذات کے ایک حصے سے حاصل کر کے دوسرے تک پہنچا دیتا ہے تو ابلاغ مکمل ہو جاتا ہے۔ وزیر آغا نے اس اجتماعی ذہن کو جو قارئین کے بطون میں چھپا ہوتا ہے، زمانے کا نام دیا ہے۔ ذات کا اسرار ہو یا زمانے کا یہ آرٹ اور ادب کے واسطے سے ہی منکشف ہوتا ہے۔ اور میں کہتی ہوں کہ روحیں ریڈی میڈ آرڈر پر نہیں بنی ہوتیں ان کے اپنے اپنے کشف اور ان کے مراحل ہوتے ہیں۔ ادب ان کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اسے کسی سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا ہے۔

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس انتشار کا شکار ہوتے ہیں، ادب ان سب کو الفاظ دیتا ہے۔ اور الفاظ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی وطن۔ اس لئے ادب کے کان میں اذان دینے یا اسے بیپٹائز کر نے کی کوشش ایک بھونڈی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب مقصدیت سے خالی ہو۔ مقصدیت کوئی برائی نہیں ہے مگر اس میں ہنرمندی ہونی چاہیے۔ ادب ادب ہی رہنا چاہیے نہ تو اسے اصلاح کے نام پر منبر سے جاری ہو نے والے خطبے میں بدل دینا چاہیے اور نہ ہی آزادی اظہار کے نام پر اسے کسی پھکڑ پن یا فخش نگاری کے ساتھ یک جان کر دینا چاہیے۔ ادب عالیہ کے اپنے تقاضے ہیں ان پر پورا اترنا بہرحال لازم ہے۔

ادب کا زندگی کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہے، کہ یہ اس کا آئینہ بھی ہے اور اس کا میک اپ بھی، مطلب ادب آپ کو زندگی کی تصویر دکھاتا ہے تو اس زندگی کو بہتر بنانے کی تدبیر بھی بتاتا ہے۔ اسی لئے ادب کا فروغ، ذہنی اور دماغی قوتوں کا فروغ ہے اور قوموں کی ترقی اسی میں پوشیدہ ہے۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:

”ادب و فن صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، وہ ہماری قومی زندگی کا حصہ ہیں۔ قومی زندگی کے لئے صنعتی ترقی، نہریں، سڑکیں، سبھی ضروری ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادب و فن کا ارتقاء بھی ضروری ہے۔ ہم نے ابھی تک ایک آزاد قوم کی طرح اس کو وہ اہمیت یا مقام نہیں دیا، جس کا وہ مستحق ہے“(فیض احمد فیض ۔ متاع لوح و قلم)

رسل کہتا ہے: ہم کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں یہ بات ہم سائنس سے سیکھتے ہیں مگر ہمیں کیوں زندہ رہنا چاہیے؟ یہ راز ہمیں ادب بتاتا ہے۔ اور ذرا سوچیے زیادہ تر لوگ اس ”کیوں“ کے بغیر ہی جیے چلے جاتے ہیں۔ زندگی کے اس ”کیوں“ کی تلاش میں جو ادب تخلیق ہوتا ہے، اس کے اظہار کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے شاعری میں تو کبھی داستان میں، کبھی ناول میں اور کبھی افسانے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ ایک ادیب کی معاشرے کی طرف ذمہ داریاں ایک عام انسان سے زیادہ ہوتی ہیں، اس کا نقطۂ نظر زیادہ پختہ ہونا چاہیے کہ وہ زیادہ باشعور ہوتا ہے اور اسے عام لوگوں کو معاشرے کا بلیو پرنٹ دکھانا ہوتا ہے۔

جس طرح قرون وسطیٰ کے یورپ کا ادب، عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر مردہ زبانوں میں تھا، اسی طرح ہند کا کلاسیکی ادب اور فلسفہ سنسکرت میں تحریر کیا گیا۔ چھال کے صفحات کو رسی میں پرو کر کتاب کی شکل دے دی جاتی اور کتب خانوں میں رکھ دیا جاتا تھا۔ ویدک عہد کا ادب لکڑی کا تھا۔ تحریر سے دور، تقریر کے قریب۔ چھاپہ خانہ مسلمانوں کے ساتھ ہند میں آیا۔ اور جب سلطنت ہندمغلوں کے ہاتھ لگی تو وہ جنگ اور شاعری کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا جانتے تھے۔

گو کہ اس وقت مسلم تعلیم، انفرادی تھی جو صرف اشرافیہ کے حصے میں، نجی معلمین کی صورت ملتی تھی اور عام لوگوں تک تعلیم کی رسائی نہیں تھی مگر پھر بھی اس زمانے میں شاعری خوب پھلی پھولی۔ اور پھر یہ مشاعرے، ہندوستان کی تہذیب کا حصہ بن گئے، اور آج تک ہیں۔ شاہجہاں کے دور حکومت میں اردو کو عوامی سے ادبی درجہ بھی مل گیا تھا۔ بعد میں فارسی زبان و ادب کے فروغ کی کوششیں ہوئیں اور برطانوی عہد میں انگریز نے اردو کو مزید فروغ دینا شروع کر دیا تھا۔

ادب مختلف دور میں مختلف حالتوں میں موجود رہا ہے جیسا کہ یونانیوں کے ہاں، ہمیں داستانیں ایلیڈ اور اوڈیسی کی شکل میں ملتی ہیں اور ہندوستان میں گلی کوچوں کے افسانوں کو نسل در نسل دیو مالاؤں کی شکل دے دی گئی تھی۔ مہابھارت، ایشیا کا عظیم ترین تخیلاتی فن پارہ قرار دیا گیا ہے۔ کچھ محققین، اسے ایلیڈ سے عظیم تر نظم کہتے ہیں۔ گیتا، عالمی ادب میں فلسفے کی عالی مرتبہ نظم ہے۔ اسے ویدوں کے بعد سب سے زیادہ تکریم دی جاتی ہے۔ اسے حقیقی فلسفی گیت بھی کہا جاتا ہے۔ ہند کی دوسری مشہور ترین داستان رامائن ہے۔ جو مہابھارت کی نسبت، مغرب والوں کو زیادہ آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے اور یہ نسبتاً مختصر بھی ہے۔ رام اور سیتا، شاید افسانوی کردار ہیں مگر یولیسس اور پینلوپی کی طرح زندہ انسانوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ادب وقتی انتشار یا انقلاب کا نام نہیں۔ وقتی جذبات، یا وقتی آفات کو الفاظ میں ڈھال بھی دیا جائے، معنی بھی پہنا دیے جائیں لیکن وہ ایک ادبی بلبلے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

ادیب اپنے ماحول کا عکاس ہو تا ہے اور جیسے کہ شکئیسپئر نے کہا تھا ”میں قلم پکڑتا ہوں اور اپنا دماغ لکھنے لگتا ہوں“ ۔

ایک سچا ادیب بیرونی کے ساتھ ساتھ اندر کی دنیا کو بھی کدال سے کھودتا ہے اور باہر نکالتا ہے۔ ماحول ادیب میں جذب ہوتا ہے یا ادیب کے اندر کا ماحول باہر نکل کر خود ماحول کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں راستہ تخلیق کی طرف ہی جاتا ہے اور اس راستے سے انسانی شعور کے ارتقاء کا راستہ نکلتا ہے۔

برصغیر کے اردو ادب میں مہجری ادیبوں کا ایک اہم مقام ہے مگر اس کو تسلیم کیسے کرنا ہے اور برصغیر کی مین سٹریم میں ان کے تخلیق کردہ ادب کو کیسے شامل کرنا ہے، ان ادیبوں کی حوصلہ افزائی کیسے کرنی ہے کہ ادب کی جو شمع وہ روشن کیے ہوئے وہ آگے بھی جلتی رہے، اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ ساؤتھ ایشئین ادیب جو سرحدوں سے بالاتر اردو ادیب ہی ہیں کہ وہ غیر ملکی زبانوں میں بھی لکھ سکتے تھے مگر انہوں نے اردو کو اپنا کر اردو ادب کو زندگی اور وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔

اب دنیا میں جہاں جہاں اردو لکھنے والے شاعر اور ادیب ہیں، وہ وہاں کے مقامی حالات کو ذاتی تجربے اور مشاہدے سے لکھتے ہیں اور اس طرح صرف برصغیر کے حالات اور واقعات کی بجائے، اردو ادب، دنیا بھر کی تاریخ، رسم و رواج، حالات، ثقافت اور واقعات کو بھی اتنی ہی آسانی سے اپنے اندر سمو رہا ہے۔ ادب کو سرحدوں اور زمانوں کی قید سے نکلنا پڑتا ہے۔ ادب کی اصناف کی اپنی ارتقاء کے ساتھ انسان کی سوچ کا عمل بھی چلتا رہتا ہے۔ اس طرح ہیئت اور موضوع دونوں کا ارتقائی عمل چلتا رہتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ اردو ادب کو مذہب اور وطن کا قیدی بنانے کی کوشش نہ کی جائے ، اسے ہر دوسری زبان کے ادب کی طرح پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے کیونکہ پانی بہے تو دریا اور سمندر، نہ بہے تو گندا جوہڑ۔

آپ سب کا بہت شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *