خانۂ مقدس میں جنسی ہراسانی کے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزرے برسوں کی بات ہے، جب ایک دور کے رشتے دار کو حج کا فریضہ ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ وطن لوٹ کر حج کے تجربات میں ایک تجربہ بتاتے ہیں کہ جتنی حسین مصری عورتیں ہوتی ہیں اتنا کوئی بھی نہیں ہو سکتا ۔ جس قدر ان کی خوبصورت آنکھیں ہیں، ویسی دنیا میں کہیں نہیں۔

گزشتہ برس انگریزوں کے توسط سے رپورٹ آئی، جس میں کچھ مسلمان خواتین نے حج و عمرہ کے موقع پر حرم شریف میں ہونے والے جنسی استحصال کا حال بتایا تھا۔ بات بہت پھیلی، کہانیاں بنی گئیں، جھوٹ، فتنہ، سازش اور نہ جانے ان مسلمان خواتین جنہوں نے حج و عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی کو کیا کیا نہیں کہا گیا۔

یہ رپورٹ انگریزوں کی شائع کردہ تھی اور انہی ممالک کی مقامی باسیوں کے تجربات پر مبنی تھی۔ عورت چاہے رقاصہ ہو یا عابدہ، اس کی گواہی اور جنسی استحصال کے الزام پر کوئی کان ویسے بھی نہیں دھرتا۔ الٹا چور کوتوال ہو ڈانٹتا ہے، بلکہ چور متاثرین کو کوتوال کے سامنے ڈانٹتا ہی نہیں، تشدد بھی بھرپور کرتا ہے۔

جنسی استحصال یا کسی بھی قسم کی صنفی زیادتی پر گفتگو کیا ہو، وکٹم بلیمنگ کے روشن اصولوں کے عین مطابق سانپ کے زہر کی طرح ہوا میں نشانے پر پھنکارا جاتا ہے کہ ”بی تم نے تب اس پر بات کیوں نہیں کی، جب تمہارے ساتھ یہ سب ہوا؟“ کوئی اتنا احمق کیسے ہو سکتا ہے؟ منطق میں یہ بات بیٹھتی ہی نہیں کہ آپ کمزور سے کہیں کہ اس نے ظالم کا ہاتھ کیوں نہیں روکا؟ اس مذہب کے ماننے کا پرتشدد حد تک دم بھرنے والے کہ جس میں جان شکنجے میں ہو تو کفر اختیار کرنے کی بھی اجازت موجود ہے، وہ مذہب جب بھوک سے نڈھال ہوں تو حرام کھانے کی بھی رخصت دیتا ہو، اس کے پیروکار متاثرین سے بے رحمی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلے وہ سب کیوں نہ کہا یا عمل کیا جو کہنے اور کرنے کی سکت ان میں آج ہے؟

ہم نے بچپن میں یوٹیوب پر خانہ کعبہ میں فرشتے کی ویڈیو دیکھ رکھی ہے، کیا کبھی کعبے میں حاجیوں کے روپ میں شیطانوں پر بات کی گئی ہے؟ خدائے برتر کے گھر کے تقدس کی پروا نہ کرنے والے انسانی شیاطین کا کوئی تذکرہ کیوں نہیں کرتا جو حج سے لوٹ کر عرب و عجم کی عقیدت مند عورتوں کے حسن و جمال کے قصیدے پڑھتے ہیں، ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی اور جنسی سلوک کو اپنی بڑائی بتاتے ہیں؟

ایک پاکستانی خاتون کے مطابق جنسی ہراسانی کے زیادہ تر واقعات طواف کعبہ کے وقت ہوتے ہیں۔ وہاں ہجوم زیادہ اور لوگوں کے رفتار تیز ہوا کرتی ہے۔ کوئی بھی باآسانی اپنے ناپاک مقاصد میں کامیاب ہو سکتا ہے اور کسی پر شبہ بھی ظاہر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان خاتون کا کہنا تھا کہ طواف کے دوران ایک شخص نے ان کے سینے کو تھام لیا، تب تک ہاتھ ڈالے رکھے جب تک ان خاتون نے زور سے چلا کر اس کو پرے ہٹنے کو نہ کہا۔ یہ کوئی حادثہ نہ تھا، جب ہی عین حرم کے روبرو کھڑے اس شخص نے خاتون کے سینے کو تھامتے ہوئے بناوٹی طور پر مسکرانا شروع کیا، جو اس کے مردانہ تکبر کی پہلی قسم تھی کہ اس کے ہاتھ عبادت کرتی عورت کے سینے پر تھے۔

وہ خاتون جن کے بدن کی حرمت کو حرم پاک میں نقصان پہنچایا گیا، انہوں نے حرم میں موجود پولیس کے دو افراد کو انگریزی میں ہراسانی کے واقعہ کے متعلق مطلع کیا، جو ان کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ متاثرہ خاتون دوبارہ کبھی حج و عمرہ کے لئے نہیں گئیں۔

ایک اور خاتون نے اپنے ایسے سنگین تجربات کا اظہار کیا، جس میں پہلے طواف کے دوران ایک شخص نے ان کی چھاتی کو دبوچا، تب تک دبوچے رکھا جب تک خاتون نے اس کو دھکا نہ دیا۔ دوبارہ حرم کے صحن میں ایک آدمی نے رش کے اوقات میں عضو تناسل کو خاتون کی کمر کے ساتھ بے دریغ مس کیا، جبکہ کہ تیسری بار کسی نے انہی خاتون کی پشت کو زور سے دبوچا یہاں تک کہ ان کو تکلیف کا احساس ہونے لگا۔ ان تمام واقعات کی فوری خبر موقع پر موجود پولیس کے اہلکاروں کو بھی دی گئی، جس پر انہوں نے کان نہ دھرے۔ ان خواتین کا کہنا تھا یہ تینوں واقعات دن کے اوقات میں ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں ہوئے ۔

ایک خاتون کے مطابق ان کو پہلے سے متنبہ کیا گیا تھا کہ حج و عمرہ کے دوران ہراسانی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ایک پاکستانی خاتون نے اپنے ساتھ دس برس کی عمر میں ہونے والے واقعے کا حال کچھ یوں بتایا کہ حرم کے صحن میں داخل ہوتے کسی نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا، جبکہ بس میں سفر کے دوران کنڈکٹر نے دس سالہ بچی کی چھاتی کو چھوا۔ ایک مصری خاتون نے تیرہ برس کی عمر میں جب سفر مکہ کیا تو ہوٹل کی انتظامیہ میں ایک شخص نے ان کو او پیاری کہہ کر پکارا تو انڈونیشیا کی خاتون کو دو ہم وطنوں نے اپنی زبان میں حرم سے لوٹتے ہوئے بھی اسی نوعیت کے الفاظ کہے جبکہ طواف کے دوران چھاتی دبوچنے کا واقعہ بھی رونما ہوا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں نے ان سمیت دیگر واقعات کا احوال دوسرے لوگوں کو بتایا تو کوئی بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے کو راضی نہ تھا۔ ان مسلمان عورتوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کو یہ کہہ کر رد کیا گیا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے ۔ کوئی خدا کے گھر جائے اور یہ سب کرے، جبکہ کہنے والوں کے لئے ان مسلمان عورتوں کی سچائی کی اہمیت نہ تھی جو خدا کے گھر عبادت و ریاضت کے لئے گئیں اور کعبے میں موجود شیطانوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ بنی۔

المیہ تو یہ بھی ٹھہرا کہ ہم ان نامعلوم مردوں کی پاک دامنی پر اس لئے وعظ دے سکتے ہیں کہ خدا کے گھر میں وہ ایسا سنگین جرم اور گناہ کرنے کا نہیں سوچ سکتے مگر اپنے منہ سے بولنے والی مسلمان خواتین کو جھوٹا اور سازشی کہنے سے باز نہیں آئے۔ کیا آپ کا دماغ  ایک لحظے کے لئے بھی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ وہ مسلمان عورتیں بھی صادق ہو سکتی ہیں؟ کوئی کیونکر خدا کے گھر سے جھوٹ منسوب کرے گی؟ وہاں تو منہ کھلا رکھنے کی اجازت تو وہ مسلک والے بھی دیتے ہیں جو عورت کو اس کی مرضی کا رنگ بھی زیب تن نہیں کرنے دیتے۔

یہ کیسی منطق ہوئی کہ کوئی شخص لاکھوں روپے خرچ کر کے حج و عمرہ پر جاتا ہے تو وہ ایسے مجرمانہ فعل نہیں کر سکتا؟ بہت سے افراد بہت سوں کو بھوکا چھوڑ کر بھی حج و عمرہ پر جانے کا شرف رکھتے ہیں اور بہت سے ہر سال بددیانتی اور محروموں کو حق سے محروم کرنے کے بعد بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں۔

اب بات یہ ہے کہ کیا حج پر آیا شخص جو عبادت اور وحدت کا شیدائی ہوا جاتا ہے، وہ کیونکر کسی نمازی حاجی کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت خدا کے گھر کے وسط میں خدا کے سامنے کرے گا؟ روحانی تبرکات اور رجحانات سے مزین اس سفر میں بھی کوئی پہلو نکلتا ہے جس کے باعث کوئی آدمی اپنے شیطانی خیالات کو قابو میں نہیں رکھ سکتا یا یوں کہیے کہ جس کا اشارہ وزیراعظم نے حال ہی میں دیا ہے؟ حرم میں سب خواتین باپردہ ہوتی ہیں، تب کیوں حج و عمرہ پر جانے سے پہلے بتلایا جاتا ہے کہ طواف کرتے وقت احتیاط لازم ہے؟

کیا خواتین کے طواف کرنے پر اس لئے پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ مرد اپنے جذبات اور گوشت پوست کو قابو میں نہیں رکھ سکتے؟ خانہ کعبہ کے قریب رش کی بدولت جہاں لوگ جانتے بوجھتے ہوئے عورتوں کی چھاتیوں اور کولہوں پر ہاتھ پھیرنے اور دبوچنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، کیا پھر عورتوں کا کعبہ شریف کو چومنا، ہاتھ لگانا یا قریب جانا بالکل ممنوع ہو جانا چاہیے؟ یا عورتوں کے مقدس اور روحانی سفر کی ممانعت ہو جانی چاہیے؟

حج و عمرہ کے دوران ہونے والے گمبھیر اور مجرمانہ جنسی جرائم یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جنسی استحصال اور تشدد کا تعلق عورت کے لباس یا دوسرے افراد کے اعمال سے نہیں، مرد کی سوچ اور گھمنڈ سے ہوتا ہے۔ کسی عورت کے سینے یا پشت پر مرد کا ہاتھ اس کی نظر میں عورت کی کمتری اور شکست کا پرچار کرتا ہے۔ یہ ایسے قماش کے مرد کو جو احساس برتری کا پیاسا اور اپنی نظروں میں عزت کا بھوکا ہو، ایسی نفسیاتی بڑائی کا گمان دیتا ہے جو اس کے شعور میں رکے ہوئے پانی میں آلودگی کی مانند بیٹھ سا گیا ہے۔

اگر کعبہ جیسی مقدس جگہ میں بھی عورت کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جائے، جب وہ خالصتاً اپنے رب کی رضا و خوشنودی کی طلب گار ہو، تو خدا اس سے بڑھ کر عقل والوں کو اور کیا نشانی بتائے گا کہ غلط کون ہے اور کیا ہے، نہ اس کا لباس، نہ وہ کہاں تھی، نہ یہ اس کا قصور تھا کیونکہ غلط ہو تم۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *