میں اب ایک محب وطن پاکستانی ہوں


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حال ہی میں ہمارے مسلح اداروں اور ان کے افسروں پر تنقید کرنے اور ان کا تمسخر اڑانے پر دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزاؤں کا جو بل منظور کیا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ خاص طور پر بل پیش کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک سچا محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اور اپنے والد محترم جناب شیر افگن خان نیازی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارے مقدس اداروں کی عزت اور حرمت کی خوب لاج رکھی ہے۔ ان کی یہ خدمات تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔

چونکہ یہاں پر جس کا بھی دل کرتا تھا وہ اٹھ کر ہمارے قابل احترام اداروں اور ان کے افسروں پر تنقید کے نشتر چلانا شروع کر دیتا تھا۔ خاص طور پر جب سے یہ نگوڑا سوشل میڈیا آیا ہے۔ تب سے تو اس طوفان بدتمیزی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لیے ایسا اقدام ناگزیر تھا کہ ایسے تمام شرپسند عناصر اور غدار جن کو ہمارے مقدس اداروں سے خواہ مخواہ کا بیر ہے ، ان کو لگام دی جائے تاکہ وہ ہمارے ان اداروں کا تمسخر اڑانے سے باز آ جائیں۔ ان سب شرپسند عناصر نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ ان کو تو کھلی چھوٹ مل گئی ہے کہ وہ جو دل میں آئے وہ کہہ کر ہمارے ہیروز کی دل آزاری کرتے رہیں گے۔

مگر انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہماری اس دھرتی پر محب وطن لوگوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ اسی لیے تو یہاں کے ایک عظیم سپوت نے یہ بل اس کے باوجود منظور کروا لیا کہ ان کو قائمہ کمیٹی میں بھی کئی غدار اراکین قومی اسمبلی کی طرف سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر ان دو، تین کے علاوہ تو کمیٹی میں سب محب وطن تھے، جنہوں نے اس بل کے حق میں ووٹ دینے میں ذرا دیر نہیں لگائی اور اسے منظور کر لیا گیا۔ ویسے تو ہمارے محترم ادارے اپنے طور پر بھی ایسے غداروں کو سبق سکھاتے رہتے ہیں جن کا کام صرف ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہوتا ہے۔

ہمارے قابل عزت اداروں کے لوگ پہلے ایسے شرپسندوں کو پیار سے سمجھاتے ہیں کہ باز آ جاؤ۔ کئی تو اس کام سے رک جاتے ہیں۔ مگر کئی ایسے ڈھیٹ ہوتے ہیں جن کو ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا تو پھر ان کا علاج ایسے کیا جاتا کہ ان کو اٹھا کر شمالی علاقہ جات کی سیر کروائی جاتی اور ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیا جاتا۔ کچھ کے گھر والوں کو بھی مارا پیٹا جاتا ، ان کے چھوٹے بھائیوں کو زخمی کر دیا جاتا، بہن کو تھپڑ مارے جاتے۔ اس سب کا مقصد قطعاً ظلم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ ہوتا کہ ایسے تمام لوگ جو ہمارے مقدس اداروں کا تمسخر اڑا کر دشمن کے ایجنڈا کو تقویت دیتے ہیں۔ انہیں اس سب سے باز رکھا جا سکے۔ لیکن پھر کیا کریں اس سب پر بھی انسانی حقوق کے نام واویلا مچا دیا جاتا ہے،

اور وہ واویلا مچانے والے بھی دراصل ایسے ہی شرپسند عناصر ہوتے ہیں اور باہر کی دنیا کو بھی ہمارے اداروں پر تنقید کا موقع مل جاتا ہے۔ لیکن اس بِل کے آ جانے کے بعد ہمارے محترم اداروں کی بھی مشکل تھوڑی آسان ہو گئی ہے کہ ان کو بھی اس ساری کارروائی سے شاید اب تھوڑا کم گزرنا پڑا کرے گا۔ اور اس طرح کے تمام غداروں کے خلاف با آسانی سول عدالتوں میں مقدمات قائم کیے جا سکیں گے۔ لہٰذا وہ تمام لوگ جو اپنے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتے ہیں ، ان کو چاہیے کہ چوکنا ہو جائیں اور اس سب سے باز آ جائیں یا پھر سزا کے لئے تیار ہو جائیں۔

کیونکہ میں تو خود اب اس سب سے توبہ تائب ہونے لگا ہوں۔ اس سے پہلے اگر کبھی اپنی کسی پوسٹ یا بلاگ میں اپنے مقدس اور قابل احترام اداروں کے بارے میں اگر کوئی بات کر دی ہو تو اس کے لئے بہت معذرت خواہ ہوں۔ آئندہ اپنی کسی بھی تحریر میں کبھی یہ نہیں کہوں گا کہ ہمارے ملک میں فوجی جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ غلط کیا۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ ان کا یہ عمل قومی و ملکی میں مفاد میں تھا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہوں گا کہ ہمارے ملک کی فوج سیاسی معاملات میں ملوث ہو کر انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرتی رہی ہے بلکہ اس نے جو بھی کیا وہ بہترین تھا۔ ایسے ہی کبھی بھی اب یہ نہیں کہوں گا کہ ہماری خارجہ پالیسی سمیت دیگر اہم معاملات ہمارے وہی ادارے کیوں سرانجام دیتے ہیں؟

بلکہ یہ کہوں گا کہ سیاست دان سب بے کار ہیں ، ان میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ اتنے اہم معاملات سرانجام دے پائیں۔ میں اپنے ان قابل احترام اداروں کے قابل احترام افسروں کو بھی اب اس وجہ سے تمسخر کا نشانہ نہیں بناؤں گا کہ وہ اپنے ادارے میں رہتے ہوئے بھی اور بعد میں بھی اپنے کاروبار بھی کرتے رہتے ہیں۔ نہ ہی ان اداروں کے کاروباری معاملات کو غلط کہوں گا۔ کیونکہ وہ سب کرنا بھی ان کا قومی فریضہ ہے۔

مجھے اب ان ادروں کے بجٹ میں اتنا حصہ لینے پر بھی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ جس طرح سے ہمارے یہ محنتی ادارے ہمارے ملک کی حفاظت ہمارے بیرونی دشمنوں سے کر رہے ہیں میں تو یہ کہوں گا کہ بجٹ میں ان کا حصہ اور بڑھا دیا جائے تاکہ وہ اور تندہی سے اپنے فرائض منصبی سرانجام دے سکیں۔

غرض کہ میں اب کسی بھی طرح اپنے ان پیارے اداروں کے خلاف کوئی بات نہیں کروں گا۔ مجھے اب سے ایک سچا اور پکا محب وطن پاکستانی سمجھا جائے۔ کیونکہ میں ایک عام سا شہری ہوں اور میرے اندر نہ تو دو سال کی قید سہنے اور عدالتوں کے چکر لگانے کی سکت ہے اور نہ ہی میں اتنا امیر ہوں کہ پانچ لاکھ جرمانہ ادا کر سکوں۔ اس لیے میں اب بس پاک فوج زندہ باد کا نعرہ ہی لگاؤں گا۔

Facebook Comments HS