بالی وڈ ڈائری: ’اگر تمہاری رنگت سانولی ہو گئی تو تم سے شادی کون کرے گا‘

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

ثانیہ مرزا

Getty Images

اگر دھوپ میں کھیلنے سے تمہاری رنگت سانولی ہو گئی تو تم سے شادی کون کرے گا۔۔۔ شادی کے بعد اگر گھر چلانا پڑا تو ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کیسے جاؤ گی۔۔۔ ماں بنتے ہی تمہارا کریئر ختم ہو جائے گا۔۔۔

یہ وہ باتیں ہیں جو غالباً ہر اُس لڑکی کو سننی پڑتی ہیں جو کھیلوں میں اپنا کریئر بنانا چاتی ہے اور انڈیا کی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے انسٹاگرام پر ان ہی جملوں پر مبنی اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔

34 برس کی ٹینس کھلاڑی ثانیہ نے بغیر کچھ کہے کیپشنز کے ذریعے وہ تمام باتیں دہرائیں ہیں جو انھیں بچپن سے سننے کو ملی تھیں۔

اس طرح کے جنسی تعصب پر مبنی خیالات کا اظہار ان لڑکیوں سے کیا جاتا ہے جو کسی منفرد یا چیلنجنگ کریئر کا انتخاب کرتی ہے۔

گوری رنگت کا تعلق جانے انجانے میں ہمیشہ ہی لڑکیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے اور فلم انڈسٹری نے اس تعصب کو بڑھانے میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔

جہاں کچھ بڑے سٹارز پہلے صاف رنگت کی کریموں کے اشتہارات میں نظر آتے تھے وہیں فلمی گانوں میں اس تعصب کو انتہائی رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا رہا۔

جہاں ہیرو کو ہیروئن کی رنگت کی اس قدر فکر ستاتی ہے کہ وہ کہتا ’دھوپ میں نکلا نہ کرو روپ کی رانی گورا رنگ کالا نہ پڑ جائے‘ تو کہیں غزل گائی جاتی ہے ’چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال، ایک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال۔‘

فلمی گانوں کی ایسی بے شمار مثالیں ملیں گی جہاں اس تعصب کو باقاعدہ طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ ثانیہ نے انتہائی مؤثر انداز میں اس صدا بہار موضوع کو پیش کیا۔

ثانیہ نے چھ سال کی عمر سے ٹینس کھیلنا شروع کیا اور اس فیلڈ میں لاجواب کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے شادی اور ایک بچے کی پیدائش کے بعد بھی ثانیہ کے کریئر میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں آئی اور آج بھی وہ دنیائے ٹینس کی ’کوئین‘ کہلائی جاتی ہیں۔

دیا مرزا

Getty Images

’ماں بننا خوبصورت احساس ہے، جسے شرم و حیا سے جوڑنا مناسب نہیں

اداکارہ دیا مرزا نے حال میں ہی تاجر ویبھو ریکھی سے شادی کی ہے اور اس ہفتے دیا نے اپنے حاملہ ہونے کی خوشخبری ایک تصویر کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی تو کچھ لوگوں نے مبارکباد دی تو کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو چبھتے سوال کرنے سے ہچکچائے نہیں۔

ایک صارف نے سوال کیا کہ انھوں نے شادی سے پہلے یہ خوشخبری کیوں نہیں سُنائی؟ جس کے جواب میں دیا نے ٹرولز کو لاجواب کرتے ہوئے لکھا ’دلچسپ سوال ہے، ہم نے شادی اس لیے نہیں کی کیونکہ میں ماں بننے والی تھی۔۔۔ ہم شادی کا فیصلہ پہلے اس لیے کر چکے تھے کیونکہ ہم اپنی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے تھے، تو یہ شادی میرے حاملہ ہونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ میری زندگی کی سب سے خوبصورت اور اہم خوشخبری ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ماں بننا زندگی کا سب سے خوبصورت احساس ہے اور اس احساس کے ساتھ شرم و حیا کو جوڑنا مناسب نہیں۔ ایک عورت ہونے کے ناطے ہمیں اپنی خواہش اور انتخاب کا حق ہونا چاہیے۔ چاہے بغیر شادی کے ماں بنیں یا شادی کے بعد یہ فیصلہ کرنے کا حق صرف ایک عورت کا ہے اور اس حوالے سے معاشرے کے دقیانوسی نظریات کو بدلنا چاہیے۔‘

’مووی مافیا‘ کے خوف سے کچھ لوگ کھل کر میرے کام کی تعریف نہیں کرتے

ٹینس سٹار ثانیہ مرزا اور اداکارہ دیا مرزا نے جہاں عورت کو بااختیار بنانے کی بات کی وہیں اداکارہ کنگنا رناوت ہمیشہ کی طرح بالی وڈ کے لوگوں خاص طور پر انڈسٹری کے مردوں کو لتاڑنے کے کام میں مصروف ہیں۔

اس ہفتے کنگنا کی فلم ’تھلائی وی‘ کا ٹریلر ریلز ہوا۔ یہ فلم جنوبی انڈیا کی اداکارہ اور سیاسی رہنما جے للتا کی زندگی پر مبنی ہے۔

کنگنا

Getty Images

بہرحال کنگنا نے اس موقع پر بھی کسی کو نہیں بخشا اور سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ان کے ٹریلر کی خاصی تعریف ہو رہی ہے لیکن ’مووی مافیا‘ کے خوف سے کچھ لوگ کھل کر ان کے کام کی اس طرح تعریف نہیں کرتے جس طرح دپیکا یا عالیہ بھٹ کے کام کی کرتے ہیں اور اکشے کمار جیسی بڑی بڑی شخصیات نے انھیں چپکے سے ٹیکسٹ کر کے مبارکباد دی ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر لوگوں کو بات بات پر لتاڑنے والی کنگنا کا کہنا تھا کہ انھیں سیاسی اور روحانی نظریات کے سبب ہراساں کیا جاتا ہے۔

انڈیا میں فلم سرٹیفیکیشن اپیلٹ ٹریبونل

دوسری جانب انڈین حکومت نے فلم سرٹیفیکیشن اپیلٹ ٹریبونل کو اچانک ختم کر دیا ہے اور متعدد فلمسازوں اور فلمی ہستوں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

اداکارہ شرمیلا ٹیگور جو سنہ 2004 سے 2011 تک سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کی چیئر پرسن رہ چکی ہیں، نے روزنامہ انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ اس ادارے کو اچانک ختم کرنے کے پیچھے حکومت کی کیا منشا ہے تاہم وہ اس بارے میں کوئی رائے نہیں دینا چاہتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس ٹریبونل نے فلم بینوں کی مدد کی ہے۔ اگر انھیں کسی فلم میں سی بی ایف سی کے ساتھ مسئلہ پیش آتا یا انھیں لگتا کہ سینسر بورڈ ان کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا تو وہ ٹربیونل میں چلے جاتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp