ہم کب اور کیوں بدلتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انسان اس وقت اپنی موجودہ روش بدلنے کے لیے تیار ہوتا ہے جب وہ پتے ہوا دینے لگتے ہیں جن پر اس کا تکیہ تھا۔ ہمارے سرکاری و نجی اداروں میں جو طور طریقے رائج ہیں وہ بھی ان اداروں کے ملازمین اور سائلین کے لئے بالعموم دردشقیقہ کا سبب بنتے ہیں لیکن ان اداروں میں جمود کا دستور قائم و دائم رہتا ہے۔ ایسی تبدیلی کا خواب جو اداروں سے وابستہ تمام افراد کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پاتا ہے۔ زندگی پرانی تنخواہ پر ہی گزرتی رہتی ہے۔ انسان، ادارے اور سماج درج ذیل عوامل کے سبب تبدیل ہوتے ہیں۔

ہر انسان کو جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے معاشی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں انسانی روح کا پرندہ جسم کے پنجرے میں مقید ہے اور جسم کو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے مادی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی انسان، ادارے یا سماج کو جب یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ان کا معاشی دیوالیہ یقینی ہو گیا ہے اور ان کے لئے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنا دشوار سے دشوار ہوتا جا رہا ہے تو پھر تبدیلی کی ہوا چلنا شروع ہو جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی آمد بھی تبدیلی کی نقیب بن جاتی ہے۔ آج ہمارا طرز زندگی سمارٹ فونز ترتیب دے رہے ہیں۔ خطوط کا سلسلہ ای میل کی آمد کے بعد قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ وہ رشتہ جو انسان کا انسان سے روبرو ہونے کے بعد بنتا ہے ، اب برقی سکرینوں سے استوار ہو رہا ہے۔ ہماری جدید نسل زندہ انسانوں کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہے اور کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین کو اپنے لیے جائے پناہ سمجھتی ہے۔

احتساب بھی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ جب تمام اثاثے چھن جانے کا خوف درپے ہو یا پھر جیل کے اندر چکی پیسنے کے ڈراؤنے خواب آتے ہوں تو پھر فرد اور ادارے اپنا قبلہ درست کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اور بات کہ جب احتساب کا خوف آسمانوں کی بلندیوں کو چھوتا ہے تو پھر مرد میدان فیصلے کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے عوام دوست فیصلوں سے اجتناب برتتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی سے خارجی تبدیلی ممکن ہے ، البتہ داخلی تبدیلی کے لئے مذہب کا سہارا ہی کارآمد ہے۔

انسان چونکہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے ، اس لیے جب اس کے کسی کام اور حرکت کے سبب اسے سماجی بائیکاٹ کا اندیشہ ہو تو وہ اپنی روش کو تبدیل کر لیتا ہے۔ پاکستان جب آزاد ہوا تو ہمارے ہاں حسن کردار کی قدر دولت مند ہونے سے زیادہ تھی اور ہمارا سماج ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا کرتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے جن کے ہاں دولت کی ریل پیل تھی اور یوں دولت عزت حاصل کرنے کا معیار بن گئی اور پھر سب نے لکشمی دیوی کی پوجا کرنا شروع کر دی۔

ہم اپنے سماج میں جن شخصیات کی عزت کرتے ہیں، وہی شخصیات اور کردار معاشرے کے لیے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ اب تو ہم ان شعبوں کو اپناتے ہیں جو ہمیں راتوں رات امیر کبیر بنا دیں۔ اسی لیے تو سارے سماج میں پراپرٹی ڈیلرز نے معلم کو شکست فاش دے دی ہے۔ منو بھائی نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ سکول کے ایک ماسٹر صاحب کے نکاح کی بات چل رہی تھی۔ ان کے ہونے والے خسر نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارا روزگار کیا ہے تو داماد شریف نے جھکی نگاہوں سے بتایا کہ میں سکول میں بچوں کو پڑھاتا ہوں تو خسر صاحب ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ بجوں کو پڑھانا تو ثواب دارین کے حصول کے لیے تو قابل قدر ہے لیکن اسے باضابطہ پروفیشن تسلیم کر لینا پرلے درجے کی حماقت ہے۔

وہ لوگ جو کسی حادثے یا بیماری کے سبب موت کی سرحد کو چھو کر آئے ہیں وہ تبدیلی کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے جب قریب المرگ ہونے کا تجربہ کیا تو انہیں یہ احساس ہوا کہ مال و دولت دنیا بتانِ وہم و گماں ہیں اور رشتہ و پیوند زندگی کا حسن ہیں۔ وہ ماں اور بیوی اہم ہیں جو شام کو آپ کے گھر آنے کا انتظار کرتی ہیں۔ بے شک آپ کا روزگار اور پیشہ وارانہ ترقی کی خصوصی اہمیت ہے لیکن اس کے لیے اپنے قریبی رشتوں کی قربان کر دینا ایسا ہی ہے جیسے انسان سونے کو ہاتھ لگائے اور وہ مٹی بن جائے۔

بانو قدسیہ آپا نے مجھے ایک ملاقات میں منور کرتے ہوئے بتایا کہ محبت کھلی ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا عمل ہے اور مٹھی کو اگر بند کر لیا جائے تو محبت و چاشنی کا پارہ پھسل جاتا ہے۔ ہمیں ان تمام خواتینِ خانہ کی قدر کرنی چاہیے جو کھلی ہتھیلی پر سرسوں جماتی ہیں اور بے تکلف دوستوں کی ہزار محفلوں کو ان کے لیے قربان کر دینا چاہیے۔ ہم اپنے سے طاقتور کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے الٹے سیدھے ہو جاتے ہیں لیکن انہیں فراموش کر دیتے ہیں جنہوں نے ہماری ان کہی کو بھی سن لیا اور خدمت کو اپنی پیشانی کا جھومر بنایا۔

ہمارے سرکاری و نجی اداروں میں بھی سیکھنے کا اور اپنی موجودہ روش کو بدلنے کا رجحان اس وقت پیدا ہو گا جب ہم حسن نیت سے کی ہوئی خطاؤں کو معاف کریں گے اور خوگر حمد سے تھوڑا سا شکوہ بھی سننے کے لیے تیار ہوں گے ۔

ہم صرف اسی صورت میں سیکھتے ہیں جب ہمیں جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور ہمیں غلطی کرنے کی گنجائش دی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *