نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ایک تاریخی تحریر


سکولوں میں ہر بچے کو امریکی دستور حفظ کرایا جاتا ہے۔ امریکی ہیرو اس کے زبان زد ہوتے ہیں۔ دن رات وہ امریکی ترانے سنتا ہے۔ ادیب، شاعر اور افسانہ نویس اس طرز سے لکھتے ہیں کہ امریکہ کے ہر ہر خطہ سے محبت شہری کے خمیر میں رچ جائے۔ امریکہ کے شہری کو نہ صرف اپنے شہر سے محبت کا درس دیا جاتا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو امریکہ کے ہزاروں شہروں کا شہری سمجھتا ہے۔ دور افتادہ یورپ کی گلیوں سے، جہاں سے وہ یا اس کے آبا و اجداد آئے تھے، اسے مناسبت نہیں رہتی۔ اسے اپنے اس خطے سے مناسبت ہوتی ہے جس سے اس کا کھانا پینا، اس کا روزگار اور اس کا ہر وسیلہ متعلق ہے۔ وہ اس خطے کو بڑھانے اور چمکانے کے لئے کوشاں رہتا ہے اور یہ سب کچھ سکولوں، کالجوں، اخبارات، رسائل اور ٹیلیویژن کے ذریعہ ہوتا ہے۔

اس وقت پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ہے۔ زبان کے لحاظ سے، تاریخ سے، خوراک اور لباس کے لحاظ سے، کلچر سے مغربی پاکستان دنیا کے Homogeneous ترین خطوں میں سے ہے۔ یقین مانیے سکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلینڈ میں زیادہ دوریاں ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد نسبتاً ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں۔ امریکہ کی طرح ہمارا نظام تعلیم، ہمارا تعلیمی نصاب اس خطہ زمین سے ہماری محبتوں کو اجاگر کر سکتا ہے۔ میں ایک ذاتی خواہش کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہوں گا کہ پاکستان میں ایک نئی اردو پیدا ہو، جو پرانی اردو، پشتو، انگریزی، پنجابی اور جھنگ کی منفرد بولی کا امتزاج ہو۔ جو یگانگت اور قومیت کا احساس بڑھائے۔ ضرورت ہے کہ ہمارا نظام تعلیم یگانگت کے احساس کو Consciously اجاگر کرے۔ مجھے کئی برس پہلے بہت خوشی ہوئی تھی جب کراچی کے شہر میں جناب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں ضیا محی الدین صاحب نے ہیر رانجھا کو سٹیج کیا اور حضرت انشا کے لفظوں میں،

سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا

میری دوسری گزارش Technical اور سائنس کی تعلیم کے بارے میں ہے، پاکستان اقتصادی طور پر پسماندہ ہے۔ ایک امریکن ہماری نسبت پچاس گنا زیادہ کماتا ہے۔ انگلستان کے ایک فرد کی اوسط آمدنی سے بیس گنا زیادہ، ایران کی آٹھ گنا زیادہ تر کی کی آٹھ گنا زیادہ، عراق، الجیریا، شام، مصر کی فی کس آمدنی ہم سے چھ گنا زیادہ ہے۔ ہم قومی طور پر اس قدر غریب کیوں ہیں؟ مان لیا کہ امریکہ خوش قسمت ہے۔ امریکہ والوں کو قدرتی اور معدنی وسائل سے بھرپور ایک خالی خطہ زمین مل گیا لیکن پوچھنے والا ہم سے سوال کر سکتا ہے کہ ہم انگریز کے غلام کیسے بنے؟ اگر انگریز فن جہاز رانی سے واقف تھا اور ہم نہیں تھے تو یہ فن اسے کس نے سکھایا؟ اگر کلائیو کی Flint Locks رائفلوں، بندوقوں اور توپوں کی ساخت اتنی اعلی تھی کہ سراج الدولہ کی فتیلہ سوز (Match locks) ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھیں تو بندوق سازی کا یہ فن کس نے انگریز کو ودیعت کیا۔ یہ فن اس قوم نے خود ایجاد نہیں کیا تھا۔ کیا یہ فن ایجاد ہونے کے بعد تعلیم کے ذریعے سے انگریز نے خود ہی اسے اپنی قوم میں فروغ نہیں دیا۔

پانی پت کے میدان میں فتح بابر کے رومی توپ خانہ کی مرہون منت تھی۔ رومی ترک تو اس فن میں 1526 ء کے بعد بھی مزید تحقیق کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے بابر کی اولاد کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ توپ سازی کے فن میں ترقی کے لئے باقاعدہ تجربہ گاہ بنا لیتے۔ آپ قسطنطنیہ میں تشریف لے جائیں۔ رومی ترک کا مسجد کا تصور اپنے زمانے میں یہ تھا کہ ہر شاہی جامعہ کے ایک طرف ہسپتال بنے گا دوسری طرف مدرسہ۔ یہ مدرسہ صرف دینی درسگاہ ہی نہیں ہو گا، اس میں توپ سازی کے تجربے بھی ہوں گے۔ بدقسمتی سے جو ترک پاکستان اور ہندوستان آئے، علم سے ان کی رغبت نسبتاً کم تھی۔ وہ اپنی یادگاریں، مزار اور مقبرے مثلاً تاج محل وغیرہ چھوڑ گئے۔ مدرسے اور تجربہ گاہیں نہیں۔

اگر خدا کی ذات نے امریکیوں پر رزق کھولا اور انہیں ایک نئے Continent سے نوازا تو کیا۔ یہ ان کے عزم کا صلہ نہ تھا جس نے انہیں بے کنار سمندروں میں نئے Continents کی دریافت میں طوفانوں سے لڑوا دیا۔ اگر آج جاپان نے اپنی ٹیکنالوجی سے دنیا کو حیران کر رکھا ہے تو انہیں اس کی تعلیم دینے کے لئے جنات نازل نہیں ہوئے۔ ایک زمانہ تھا کہ جاپان کا مال دنیا کی منڈیوں میں ناکارہ شمار کیا جاتا تھا اب ٹیکنیکل لحاظ سے سب سے زیادہ اسی کی ساکھ ہے۔ British Layland نے Mini Morris کار تیار کی۔ جاپان والوں نے وہی کاریں بنائی ہیں۔ 1000 سی سی کے بجائے جاپان 600 CC کے آدھے سائز کے انجن سے وہی پاور Develop کرتا ہے۔ یہ کس طرح ہوتا ہے؟ ہونڈا والے سو انجینئر جمع کرتے ہیں۔ اسی قسم کے انجینئر جو مغلپورہ سے ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں۔ انہیں ایک سال کا وظیفہ ملتا ہے اس دوران میں فرمائش ہے کہ وہ یہ نیا انجن Develop کریں گے۔ اپنی صلاحیتیں استعمال کریں گے۔ ان کی زندگی اور موت یہی ہے۔ چالیس سال ہوئے امریکہ کے پروفیسر Townes نے ٹرانسسٹر ایجاد کیا۔ انہیں اس ایجاد پر نوبل پرائز ملا۔ ان کا Patent توڑنے کے لئے ٹوکیو کی یونیورسٹیوں میں کوششیں شروع ہوئیں اور اس قدر کامیاب ہوئیں کہ اس وقت سے الیکٹرانکس میں جاپانی بادشاہ ہیں۔ نہ صرف انہوں نے وہ ایجاد دوبارہ دریافت کی بلکہ انہوں نے اس کا نسخہ رسالہ عام میں بھی شائع کر دیا، تاکہ وہ چاہے پاکستانی ہو، عرب ہو، ایرانی ہو، ٹرانسسٹر ٹیکنالوجی کو Develop کر سکے۔

یہ علم کے رستم جاپانی کون ہیں۔ آپ یقین نہ کریں گے یہ وہی لوگ ہیں جو انیسویں صدی کے اوائل میں گھوڑوں کی نعل بندی کے فن سے نا آشنا تھے۔ امریکی ایڈمرل Perry جب پچھلی صدی میں اپنے جنگی جہاز جاپان لے کر آئے اور جاپانیوں نے انہیں روکنا چاہا تو جہاز کی توپوں کی چند باڑوں نے جاپان والوں کو اپنی بندرگاہ کھولنے پر مجبور کر دیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ امریکن ایڈمرل کے جہاز سے چوری ہوئی۔ وہ ایک گھوڑے کی چوری تھی۔ رات کے وقت گھوڑا غائب ہو گیا اور دوسرے دن اسے واپس کر دیا گیا۔ جاپانی اس کے نعل غور سے دیکھنے اور نعل بندی سیکھنے کے مشتاق تھے۔ اس وقت ان کی Metallurgy اس حد تک نہ پہنچی تھی کہ وہ لوہے کے نعل بناتے۔

آج کیفیت یہ ہے کہ جاپان میں میٹرک کے امتحان کا موسم خودکشی کا موسم کہلاتا ہے۔ اس امتحان کے نتائج پر آئندہ داخلے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا معیار اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اس عمر کے بچے دنیا کے کسی اور ملک میں ریاضیات، فزکس، کیمسٹری میں اس سے اعلی سطح پر امتحان نہیں دیتے۔ ان امتحانوں کے دوران پرچوں کے راز افشا نہیں ہوتے، ہڑتالیں نہیں ہوتیں امتحان کے سنٹروں کے دروازے اور شیشے نہیں توڑے جاتے۔ ساری قوم، سب استاد، والدین، طالب علم Examination Fever کا شکار ہوتے ہیں۔ پھر یہ لوگ ان امتحانوں کے نتائج کو اپنی مخصوص طرز پر قبول کرتے ہیں۔

بہت سال پہلے مجھے خوش قسمتی سے چین جانے کا موقع ملا۔ چین کے مڈل سکول میں طالب علم بارہ برس کی عمر میں آتا ہے اور سترہ برس کی عمر میں اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ ان مڈل سکولوں کو میرے طالب علمی کے زمانے کے انٹرمیڈیٹ کالج سمجھ لیجیے۔ ان پانچ سالوں میں لازمی تعلیم کی وجہ سے ہر چینی کو بارہ مضامین پڑھنا پڑھتے ہیں جن میں کوئی مضمون اختیاری نہیں ہوتا۔ وہ بارہ مضمون مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ وطنیات
2۔ چینی زبان
3۔ دو غیر ملکی زبانیں۔ انگریزی، روسی یا جاپانی
4۔ زراعت
5۔ ریاضی
6۔ فزکس
7۔ کیمسٹری
8۔ بیالوجی اور
9۔ تاریخ
10۔ جغرافیہ
11۔ Workshop Practice
ہر طالب علم پورے بارہ کے بارہ مضمون پڑھتا ہے۔ (اب شاید یہ نقشہ بدل گیا ہے )

میرے طالب علمی کے زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ مسلمان حساب نہیں پڑھتا۔ آج کل سننے میں آیا ہے کہ آدھے پاکستانی دماغ حساب فزکس یا کیمسٹری کے اہل ہیں۔ باقی پچاس فیصدی دماغوں کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ مضامین ان میں سما نہیں سکتے۔ چینیوں نے فیصلہ یہ کیا ہے کہ سو فیصدی طالب علم سائنس اور آرٹس دونوں پڑھیں گے۔

آپ شاید گمان فرمائیں کہ سائنس کی اس لازمی تعلیم کا نتیجہ یہی ہو گا کہ ان مضمونوں کا معیار 16 / 17 برس کے طالب علم کے لئے ہمارے انٹرمیڈیٹ کے معیار سے کم ہو گا۔ اس کا تجربہ کرنے کے لئے میں نے فزکس اور ریاضی دونوں کے ایک ایک گھنٹے کے درس اٹینڈ کیے۔ ریاضی میں میرے تعجب کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ چودہ سالہ طالب علم Orders of Infinity پڑھ رہے ہیں۔ یہ وہ مضمون ہے جو ہم لوگ BA میں پڑھاتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3