نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ایک تاریخی تحریر


چین نے تہیہ کیا ہے کہ وہ ہر صنعتی تکنیک کو چین میں رائج کریں گے۔ ان کی نئی قومی زندگی ہمارے دو سال بعد 1949 ء میں شروع ہوئی۔ لیکن ان کے عزم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان چالیس سالوں میں انہوں نے قومی سطح پر Sophisticated Machine tools بنائے ہیں۔ MIG 21 ہوائی جہاز بناتے ہیں۔ ہر چینی طالب علم اپنے سکول اور اپنی یونیورسٹی کے زمانے میں ہفتے میں ایک دن Work Shop میں صرف کرتا ہے جس سکول کا معائنہ میں کرنے گیا تھا اس میں یہ کیفیت تھی کہ چودہ سے سولہ طلبا کا ایک گروپ Transister Components بنا رہا تھا۔ دوسرا گروپ Potasium Corbonate معدنی صورت سے لے کر Titration کرنے کے بعد بوتلوں میں بند کر کے مارکیٹ کے لئے تیار کر رہا تھا۔ بارہ سالہ چار طالب علموں کا ایک گروپ اپنے ہم جماعتوں کے بال کاٹنے میں مصروف تھا۔ ایک کمرے میں چار بارہ سالہ بچے تین Cent لے کر باقی طلبا کے جوتوں کی مرمت کرنے میں مصروف تھے۔ ان میں سے ایک بچی بول اٹھی۔ آپ اس کمرے کی کھڑکیوں پر نگاہ ڈالیں ان پر پردے ڈلے ہوئے ہیں۔ ہم نے جب پہلے جوتوں کی مرمت شروع کی تھی تو ہم بدبودار جوتوں کی ہاتھ لگانے سے شرماتے تھے۔ کھڑکیوں پر پردہ ڈالے رہتے تھے۔ آہستہ آہستہ ہمیں اب اس محنت سے شرم نہیں آتی۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی طالب علمی کے زمانے میں Productive ہوں، Parasite نہ ہوں۔ میں نے مدرسوں میں، کالجوں میں یونیورسٹیوں میں بار بار پوچھا کہ یہ مان بھی لیا کہ سب فیکٹریاں گورنمنٹ کی ملکیت ہیں لیکن آپ لوگ محکمہ تعلیم میں کام کرتے ہیں، فیکٹریاں محمکہ صنعت کے پاس ہوں گی، آپ کو متعلقہ سیکرٹری صاحب سے اجازت کس طرح مل جاتی ہے۔ آپ کو یہ سب کام کرنے کے لئے Grants کی ضرورت ہو گی، اس کا انتظام کیسے ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر صاحب اگر ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر سے ملنا چاہیں تو عمال انہیں روک دیتے ہیں۔ آپ کے ہاں اس قسم کے مسئلے کس طرح حل ہوتے ہیں۔ یقین مانیے جب کبھی میں نے سوال کیے میں انہیں سوال سمجھا ہی نہ سکا۔ ان کا ہمیشہ یہ جواب ہوتا تھا کہ ہماری سوسائٹی بنی اسی اصول پر ہے کہ ہر فرد جہاں بھی ہو ایک اچھے Idea کی مدد کرے گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی افسر کوئی حکومت کا عامل کسی طرح بھی روک بنے۔

چین کے بیان میں میں اپنے موضوع سے بہت دور ہٹ گیا میں عرض کر رہا تھا کہ اگر انگریز نے Industrial Technique ایجاد کیے اور انہیں تعلیم کے ذریعے اپنی قوم میں پھیلایا، اگر جاپان تعلیمی نظام کے ذریعے (بغیر معدنی یا دیگر وسائل رکھنے کے ) اپنی ساری قوم میں Skills پھیلا سکتا ہے اگر چین والے اپنی قوم کو ذہنی اپاہج نہیں سمجھتے اور ہر بچے سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی سائنس اور کوئی نہ کوئی مہارت سیکھے گا اسے بڑھائے گا اور اگر سب قومیں اپنی غربت کا علاج اسی طرح کر رہی ہیں تو کیا اس میں ہمارے لئے سبق نہیں ہیں۔ آپ فرمائیں گے کہ غریبی خود اتنی لعنت ہے کہ اگر انسان بھوکا ہو، ننگا ہو تو اس کی دماغی صلاحیتوں کے بڑھانے کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں مجھے جرمنی کا ایک واقعہ نہیں بھولتا۔ 1947 ء میں میں کیمبرج میں طالب علم تھا۔ جرمنی شکست کھا چکا تھا۔ جرمن قوم سرنگوں تھی۔ کیمبرج اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک پارٹی کو امریکن کنٹرول کمیشن والوں نے جرمن کی حالت دیکھنے کے لئے دعوت دی۔ تقریباً 500 کے قریب طالب علم سارے یورپ سے میونخ پہنچے۔ اس شہر میں ایک عمارت نہیں تھی جو صحیح و سالم ہو اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ جرمن مکانوں میں نہیں بلوں میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے لئے شہر کے ایک پارک میں خیمے لگائے گئے۔ خیموں کے اس شہر میں میں نے سنا کہ ایک جرمن مجھے تلاش کر رہا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ Research Scholar ہے۔ اس وقت کے لحاظ سے اسے شاید 25 روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ اس مشاہرہ سے شاید وہ ایک وقت کی روٹی کھا سکتا تھا۔ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، جنگ کے دنوں میں وہ ایک جنگی قیدیوں کے کیمپ میں ملازم تھا جہاں بعض پنجابی قیدی بھی تھے۔ ان پنجابی قیدیوں سے اس نے پنجابی زبان کی تحصیل کی۔ 1947 ء میں یہ جرمن ایک پنجابی جرمن ڈکشنری کی تالیف کر رہا تھا۔ پنجابی زبان میں اس کا کل سرمایہ ہیر وارث شاہ کی ایک کاپی اور ایک لاہور سے چھپی ہوئی اور خستہ حالت میں پھٹی ہوئی دلا بھٹی کی کاپی تھی۔ یہ سن کر کہ شہر میں ایک پنجابی وارد ہے۔ وہ جرمن میری تلاش کر رہا تھا کہ دلا بھٹی میں بعض مشکل مقامات میں اسے سمجھا دوں۔ اس کی بد قسمتی سے یہ مقام میرے لئے بھی مشکل تھے اور اس بے چارے کی یہ خواہش تشنہ تکمیل رہ گئی۔

اس واقعہ پر غور فرمائیں۔ مجھے معلوم نہیں وہ ڈکشنری شائع ہوئی یا نہیں۔ اگر شائع ہوئی بھی تو اسے کتنے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک علم دوست قوم کی کہانی ہے۔ ایسی قوم جس کا سارا اثاثہ علم ہے۔ سائنس کا علم ٹیکنالوجی کا علم زبانوں کا علم اور پھر ایسی قوم جس کے افراد میں یہ عزم ہے کہ جرمن پنجابی ڈکشنری کا لکھنا بے معنی ہی سہی لیکن اپنا وقت تاش کھیلنے میں نہیں گزاریں گے۔ سٹرائیکس نہیں کریں گے، فلمیں نہیں دیکھیں گے اپنے یونیورسٹی کے وقت کو کھیل کا وقت نہیں سمجھیں گے، علم سیکھیں گے اور علم پیدا کریں گے۔ شاید اس میں ہمارے لئے بھی سبق ہو سکتا ہے۔

قومی تعمیر کے بارے میں میں چین کا ذکر کر رہا تھا۔ ایک کہانی دہرانا چاہتا ہوں۔ یہ داستان چیئرمین ماؤ نے بیان کی ہے اور اسے اپ ہر چینی کی زبان سے سنیں گے پرانے زمانے میں چین کے شمال میں ایک بوڑھا رہتا تھا۔ ا سکا نام ”پیر کم عقل“ تھا۔ اس بوڑھے کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی، لیکن اس کے دروازے کے سامنے ”نے ہانگ“ اور ”وانگ دو“ کے دو عظیم پہاڑ کھڑے تھے جن کی وجہ سے سورج کی کرنیں اس کے گھر میں کبھی نہ پہنچتی تھیں۔ ایک دن اس بوڑھے نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور انہیں کہا کہ آؤ ہم اس پہاڑ کو کھود کر دور کر دیں۔ اس کے ہمسائے جس کا نام ”پیر دانش ور“ تھا اس بے عقل بوڑھے سے کہا۔ ”میاں مجھے معلوم تھا کہ تم بیوقوف ہو لیکن اتنا گمان نہ تھا کہ اس قدر کم عقل ہو گے۔ تم کھودنے سے کس طرح ان دونوں پہاڑوں کو رفع کر سکو گے؟ بے عقل بوڑھا بولا تمہارا کہنا درست ہے، لیکن اگر میں مر گیا تو اس کے بعد میرے بیٹے ہیں ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے۔ یہ سلسلہ ہمیشہ رہے گا۔ پہاڑ اور زیادہ طویل نہیں ہوں گے ہر کھودنے کے ساتھ ان کی طوالت کم ہی ہو گی۔ بڑھے گی نہیں ایک دن یہ لعنت ہمارے دروازے سے دور ہو ہی جائے گی۔“ پیر کم عقل کی یہ بات سن کر پاک ذات کو ترس آیا۔ دو فرشتے آئے اور انہوں نے ان دونوں پہاڑوں کی لعنت کو دور کر دیا۔

میری عرض یہی ہے کہ سوسائٹی کی لعنتیں ان دو پہاڑوں کی مانند ہیں۔ انہیں اپنے حلقہ اثر میں Patience کے ساتھ دور کرنے میں کوشاں ہو جائیے۔ اللہ تعالی کی پاک ذات کو آپ کی کوششوں پر بھی ترس آئے گا۔ یہ فکر نہ کیجئے کہ آپ کی کوشش کامیاب ہو گی یا نہیں۔ آپ اپنا فرض ادا کیجئے، خداوند تعالی کی پاک ذات ان میں بہت برکتیں ڈالے گی۔ میرا خیال ہے کہ ہم لوگ اقبال کے فلسفہ خودی سے بھی غلط معنی نکال گئے اور Individualistic زیادہ ہو گئے۔ اور قوم اور ملت کے لئے کام کرنے سے گریز کرنے لگے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

سے یہ مطلب نہ تھا کہ ہم اپنے اپنے مفاد کو مقدم کر لیں اور قوم اور ملت کو ثانوی حیثیت دے دیں۔ البتہ ہو یہی کچھ رہا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3