میڈیکل ریپری زنٹیٹیو اور ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

hasnain tirmazi

ہم میں سے اکثر افراد کو کسی پروفیسر ڈاکٹر یا ایسے ڈاکٹر جو کسی بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں رجسٹرار یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوں یا گھر کے قریب کسی جنرل پریکٹیشنر اور اس کے پرائیویٹ ہسپتال میں جانے کا اتفاق ضرور ہوا ہو گا وہ چاہے کسی ذاتی بیماری کی تشخیص کے سلسلے میں ہو یا کسی اور وجہ سے ہو۔ وہاں اکثر ہم نے ایسے کئی نوجوانوں کو دیکھا ہو گا جو صاف ستھرے پتلون اور قمیض پہن کر گردن کے گرد ٹائی لگائے ہاتھ میں بیگ پکڑے کسی کام میں مگن ڈاکٹر سے ملاقات کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

ہنستا مسکراتا سا چہرہ لیے وہ ڈاکٹروں کو ملتے ہیں اور بڑی تابعداری سے جس طرف سے آتے ہیں، اسی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو میڈیکل ریپ کہا جاتا ہے۔ ان کا کام میڈیکل سائنس کی تازہ ترین اطلاعات و معلومات، ریسرچز، نئے مالیکیول اور سالٹ کے حوالے انفارمیشن، کسی دوا کے سائیڈ ایفیکٹ، بیماری کی تشخیص اور نشوونما کے حوالے سے ہونے والی تمام تخقیقات سے ڈاکٹر کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

درحقیقت ڈاکٹر کے علم کو یہی لوگ اپ گریڈ کر رہے ہوتے ہیں۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی ادویات کی پروموشن کے لئے ایک لمبی چوڑی سیلز ٹیم کو ہائر کرتی ہیں جن کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اس کے علم کو مزید مہمیز دیں اور اس علم کے بڑھنے پر ظاہر ہے ڈاکٹر پھر اس علم کی روشنی میں مریض کی بہتر انداز مین تشخیص بھی کرتا ہے اور اس تشخیص کی روشنی میں کی دوا بھی لکھتا ہے ۔وہی دوا جس کی پروموشن وہ میڈیکل ریپ کر رہا ہوتا ہے اور یوں اس کمپنی کی دوا مارکیٹ میں بکتی ہے، جس سے اس کمپنی کی سیلز بڑھتی ہیں اور اس کے عوض اس میڈیکل ریپ کا مشاہرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ ایک سائیکل ہے جس میں ڈاکٹر ، مریض ، دوا ساز کمپنی ، میڈیکل سٹور اور میڈیکل ریپ ایک دوسرے کے ساتھ باہم مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے اپنے اپنے کام میں مگن بھی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں جیل روڈ لاہور میں ڈاکٹر ممتاز حسن جو پروفیسر آف میڈیسن ہونے کے ساتھ ساتھ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے وائس چانسلر بھی تھے ، کے کلینک میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ کسی دوا ساز ادارے کا نمائندہ حاضر ہوا اور اپنے مخصوص انداز میں ان سے گفتگو کرنا شروع ہو گیا۔ پہلے پہل تو کچھ بھی پلے نہیں پڑا مگر بعد میں ان کی بحث میں مجھے بھی مزا آنا شروع ہو گیا۔ بہت زیادہ معلوماتی مباحثہ تھا۔ اس کے جانے کے بعد جب میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مجھے اس بات کا نہیں پتا تھا، اسی لئے میں اتنا زیادہ پوچھ رہا تھا۔

میڈیکل ریپ ریزنٹیٹیو کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیروز سنز فارما کے مینیجر عدنان بٹ نے بتایا کہ اس پروفیشن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں آپ کا مخاطب سوسائٹی کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا انسان ہوتا ہے اور آپ اسے اپنے بدن کے مختلف حصوں کو ہونے والی بیماریوں اور ان کے جراثیم کی روک تھام کے حوالے سے بتاتے ہو. کون سے جراثیم کون سی بیماری پیدا کرتے ہیں اور کون سی دوا اس کے علاج کے لئے کارگر ہو گی۔

اسے آپ جا کر بتاتے ہو جس سے ایک عام انسان کا علاج ہو پاتا ہے . ایک طرح سے آپ بھی سوسائٹی کو کچھ دے ہی رہے ہوتے ہو. انہوں نے بتایا کہ اس سارے عمل کے لئے نئی ریسرچ اور تمام تر معلومات کو نہ صرف ہر وقت پڑھنا پڑتا ہے بلکہ یاد بھی رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر اوقات آپ کی بات کو صرف اس لئے رد کر دیا جاتا ہے کیونکہ آپ ڈاکٹر نہیں ہیں اور ڈاکٹر آپ سے علم سیکھنا نہیں چاہتا۔

اسی حوالے سے دی میڈیسن کمپنی کے ڈائریکٹر ظفر عباس بھٹی نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ سال قبل ہم نے ایک دوائی کو مارکیٹ کیا ، یہ خواتین کی بیماریوں سے متعلق تھی۔ اس کی پروموشن کے لئے میں خود کئی ڈاکٹر صاحبان سے جا کر ملا مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے 80 فیصد ڈاکٹر صاحبان کو نہیں پتا تھا کہ ژینو ہارمون کیا ہوتا ہے اور اس سے متعلق جراثیم کون سے ہوتے ہیں اور کس طرح یہ بیماریاں پیدا کرتے ہیں اور ان کی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے۔

اور جب ہم ڈاکٹر صاحبان سے اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو انہیں غصہ آ جاتا ہے کہ ہمیں مت پڑھاؤ یا تم ہم سے زیادہ جانتے ہو حالانکہ ہمارے ملک کی خواتین کی سب سے زیادہ بیماریاں اسی ایک ہارمون کی وجہ سے ہیں ، جس کے علاج سے بہت سی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہر بیماری کی انڈیکیشن میں یہ ہارمون موجود ہے جس کی تشخیص اور اس کے بارے میں زیادہ جان لینا وقت کی ضرورت ہے اور اس علم کی وجہ سے ہماری خواتین بہت سی بیماریوں سے بچ بھی سکتی ہیں۔

جیسے آج میسٹیلجیا اور بریسٹ ڈیزیز، فابرائڈ، مایوماز جیسی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں اگر ہم اپنے گھر اور ملنے والوں دوست احباب کی طرف نظر دوڑا لیں تو ہمیں ان بیماریوں میں مبتلا بہت سی خواتین مل جائیں گی جن کی بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہو گا مگر جب آپ انہیں ان سے آگاہی کے بارے میں بات کریں تو وہ سننے کو تیار ہی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جس طرح انسانی جسم اور اس کے تمام تر نظاموں کا مجموعی علم ایک ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے بالکل اسی طرح اسی نظام کو درپیش بیماریاں اور جراثیم کا علم ایک فارماسسٹ کو ہوتا ہے ۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ کون سی بیماری کون سا جراثیم پیدا کر رہا ہے اور اس کا علاج کس دوائی سے ممکن ہے کیونکہ دوائی کے بنانے کے سارے عمل میں ایک فارماسسٹ شامل ہوتا ہے ڈاکٹر نہیں۔

افتخار منور علی انسولین لگانے والی سرنج کو مارکیٹ میں بیچتے ہیں اور ایک امریکن کمپنی بی ڈی میں گزشتہ کئی سال سے ملازم ہیں ۔ ذیابیطس کے مریضوں کی مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈیڈ آرگنز کی سیفٹی کے لئے ایک ایس (اے سی ای ) انھیبیٹر کی دوائی ہمیشہ دی جانی چاہیے تاکہ شوگر کا مریض کے باقی آرگن ٹھیک طرح سے کام کرتے رہیں مگر جب کسی ڈاکٹر سے اس بارے میں بات کرو تو وہ کہتا ہے کہ تم زیادہ جانتے ہو پھر شوگر کا علاج نہیں ہے یہ صرف مینج ایبل ہے یعنی انسولین کی جو مقدار کم ہے اسے کسی دوسرے ذریعے سے پورا کیا جائے مگر ہمارے ہاں شوگر کے علاج کی مختلف کیفیات ہیں جو فی زمانہ رائج ہیں۔

سب سے پہلے ڈاکٹر میٹھا بند کر دیتا ہے اور لائف سٹائل کو تبدیل کرنے کے بارے میں کہتا ہے ۔ واک کرو، یہ مت کھاؤ ، وہ مت کھاؤ ، پھر دوائی اور سات آٹھ سال کے بعد انسولین بالکل اسی طرح مریض بھی انسولین کو آخری اسٹیج سمجھتا ہے اور انسولین لگونے سے گھبراتا ہے جبکہ شوگر کا اول اور آخر علاج جو بہترین ہے ، وہ انسولین ہی ہے مگر ہمارے ڈاکٹر صاحبان اسے ماننے سے انکاری ہیں ، پھر مریض کا بار بار آنا اس لئے بھی اچھا جانا جاتا ہے کہ جو آئے گا وہ کچھ دے کر ہی جائے گا۔

ان تمام باتوں سے بالاتر ہو کر ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف ان فارما کمپنیوں کی وجہ سے باعزت روزگار پر لگی ہوئی ہے بلکہ ملک کے لئے آمدنی یا زرمبادلہ بھی پیدا کر رہی ہے ۔ یہ وہ بوجھ ہے جسے پرائیویٹ سیکٹر نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ۔ پاکستان کی 759 فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس وقت سوا تین کھرب روپے کا کاروبار کر رہی ہیں، جو بہرحال ایک بڑا کام ہے۔ ایسے میں اس پیشے سے وابستہ افراد نہ صرف اپنا کام خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں بلکہ تمام تر مسائل کو پس پشت ڈال کر قوم کی خدمت بھی کسی نہ کسی روپ میں سرانجام دے رہے ہیں۔

اگرچہ ہم اور ہماری سوسائٹی ہر طرح کے انعامات اور ستائشی کلمات کا اہل صرف ڈاکٹر کو گردانتے ہیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اکیلا ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتا ، جہاں اس کو اپنی مدد کے لئے پیرا میڈیکل سٹاف کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کسی بھی مریض کا علاج بہترین طریقہ سے کر سکے ، اسی طرح اس کے لئے ان فارما سیوٹیکل اداروں سے وابستہ افراد کی ضرورت بھی ہوتی ہے کیونکہ انہی کی وجہ سے اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ، جس سے کسی بھی بیماری کی تشخیص کے بعد بہتر علاج میں مدد ملتی ہے، لہٰذا ہم جتنی عزت اپنے مسیحا کو دیتے ہیں اس طرح ہمیں اتنی ہی عزت اس پیشے سے وابستہ افراد کو بھی دینی پڑے گی کیونکہ بہرحال یہ بھی اس سوسائٹی کے لئے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے ہم سب کسی نہ کسی طرح مستفید ہوتے رہے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments