پرنس فلپ کی زندگی تصویروں میں
ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ برطانوی شاہی خاندان کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہزادہ فلپ کا انتقال جمعے کو لندن کے مغرب میں واقع شاہی خاندان کی رہائش گاہ ونڈسر کاسل میں ہوا۔ اگست 2017 میں انہوں نے عوامی مصروفیات سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی لیکن اس کے بعد بھی وہ وقتاً فوقتاً سرکاری تقریبات میں شریک ہوتے رہتے تھے۔ ڈیوک آف ایڈنبرا نے آخری بار کسی عوامی تقریب میں شرکت گزشتہ سال جولائی میں کی تھی جب وہ ونڈسر کاسل میں منعقدہ ایک فوجی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ ان تصویری جھلکیوں میں ان کی زندگی کے سفر کے مختلف مراحل دیکھے جاسکتے ہیں۔

1پرنس فلپ 10 جون 1921 کو یونان کے جزیرے کورفو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پرنس اینڈریو یونان کے بادشاہ کے چھوٹے بھائی تھے اور ان کے دادا 1860 کی دہائی میں ڈنمارک سے یونان آئے اور یہاں کے بادشاہ بنے تھے۔

2شہزادہ فلپ نے برطانیہ میں ابتدائی تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد 1939 میں برطانیہ کی رائل نیول کالج ڈارٹ موتھ میں داخلہ لیا تھا۔

310 جولائی 1947 کو ان کی منگنی برطانوی بادشاہ جارج ششم کی سب سے بڑی بیٹی اور ان کی جانشین ایلزبتھ سے ہوئی۔

420 نومبر 1947 کو شہزادی ایلزبتھ سے شہزادہ فلپ کی شادی ہوئی۔ بعد میں یہی ایلزبتھ برطانیہ کی ملکہ بنیں۔

5دورِ نوجوانی میں لیفٹننٹ فلپ کرکٹ کی پریکٹس کرتے ہوئے۔

6پرنس فلپ کی اپنی اہلیہ شہزادی ایلزبتھ اور اپنے بچوں شہزادہ چارلس اور شہزادی این کے ساتھ 1951 کی ایک یادگار تصویر۔

7برطانوی بادشاہ جارج ششم کی موت کے بعد 2 جون 1952 کو ان کی بیٹی ایلزبتھ ملکہ برطانیہ بنیں اور شہزادہ فلپ نے بھی برطانوی فرماں روا بننے والی اپنی بیوی سے وفاداری کا عہد کیا۔

8شہزادی ایلزبتھ کے ملکہ بننے کے بعد فلپ کی زندگی میں ڈرامائی موڑ آیا کیوں کہ جہاں ان کی بیوی اتنی بڑی سلطنت کی حکمران تھیں، وہیں اس سلطنت میں ان کا کردار اور حیثیت غیر واضح تھی۔

9ایک متحرک زندگی گزارنے والے پرنس فلپ شاہی خاندان میں اپنے غیر واضح کردار کی وجہ سے شدید الجھن کا شکار رہے۔

10ملکہ سے شادی کے بعد انہوں نے مزے سے شاہی زندگی گزارنے کے بجائے برطانیہ میں صنعت، سائنس اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے کام شروع کردیا۔

11
شہزادہ فلپ برملا اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتے تھے کہ ایلزبتھ کے ملکہ بننے کے بعد برطانوی بحریہ میں اپنے کریئر سے دست بردار ہونے کا فیصلہ ان کے لیے بہت مشکل تھا کیوں کہ انہیں نیوی کی زندگی سے پیار تھا۔

12شہزادہ فلپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شاہی محل کی رسومات میں کئی اصلاحات کیں اور انہیں جدید دور سے ہم آہنگ کیا۔

13برطانوی شاہی خاندان کے مؤرخ رابرٹ لیسی کا کہنا ہے کہ فلپ نے ہمیشہ ملکہ ایلزبتھ کو ’جی حضوری‘ کرنے والوں میں گھرا دیکھا لیکن وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ملکہ کے سامنے اپنی رائے کا صاف صاف اظہار کرتے تھے۔

14فلپ زندگی بھر اپنی اہلیہ سے دو قدم پیچھے رہ کر چلے اور عوام میں انہیں ایک فرمانروا کی طرح عزت دیتے تھے۔

15اپنی 90 ویں سال گرہ پر ایک انٹرویو میں پرنس فلپ نے کہا تھا کہ ایلزبتھ کے ملکہ بننے کے بعد کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ملکہ کے شوہر کی حیثیت سے ان کا کردار کیا ہوگا۔

16ملکۂ برطانیہ کے شوہر ہونے کی حیثیت سے شہزادہ فلپ نے سات دہائیوں کے دوران اندرون و بیرونِ ملک 22 ہزار سے زائد تقریبات میں شاہی خاندان کی نمائندگی کی۔

17شاہی خاندان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ ملکہ کا شوہر ہونے کے باوجود انہیں کئی اہم سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی تھی۔ لیکن نجی زندگی میں وہی اپنے خاندان کے سربراہ تھے۔

18خاندانی تنازعات کے علاوہ شہزادہ فلپ کئی مواقع پر غیر ضروری تبصروں اور حرکات کی وجہ سے بھی خبروں کا حصہ بنتے رہے۔
Facebook Comments HS


