پاکستانی سیاست میں مفادات اور تضادات کا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مفادات کا عجیب جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ مفادات میں تضادات نے ایک عجیب بھونڈی صورت اختیار کر رکھی ہے ۔ الغرض ہر قانون ساز اسمبلی میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج نظر آتا ہے۔ مفادات و تضادات کے اس چکر میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی مشینری بھی بری طرح گھری نظر آتی ہے۔

کبھی پنجاب میں باہمی رضامندی سے سینٹ الیکشن بھگتا لیا جاتا ہے تو کبھی اپوزیشن لیڈر سینٹ کے الیکشن میں ’باپ‘ سے مدد لی جاتی ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ اپوزیشن کا پی ڈی ایم ٹوٹ چکا اور پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین فیکٹر بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ۔ اگرچہ حکومتی وزراء جہانگیر ترین کے ساتھ عدالت جانے والے اراکین اسمبلی کو کلین چٹ دے رہے ہیں مگر وزراء کی باڈی لینگوئج چغلی کر رہی ہے کہ پردے میں کچھ پک رہا ہے جبکہ کچھ حکومتی اراکین اسمبلی اور وزراء ”کچھ ادھر اور کچھ ادھر“ کا تأثر بھی دے رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی بھانت بھانت کی بولیاں برداشت کرنا، اب ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی کیونکہ عوام اپنی رائے کا اظہار سوشل میڈیا پر کھل کر کرتے ہیں چنانچہ سیاست دانوں کے لیے اپنے کرتوت چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری طرف ان سیاست دانوں کی وجہ سے پاکستان کی موجودہ سیاسی حالت واقعی قابل رحم ہو چکی ہے۔ پارٹیاں اگرچہ تین ہی قابل ذکر ہیں مگر سمندر سیاست میں تلاطم کی سی کیفیت کچھ عرصہ سے تھمنے میں نہیں آ رہی۔

کبھی طوطا مینا کی کہانی شروع کر کے درمیان میں ٹائیں ٹائیں فش کرتے ہوئے نئے کردار اپنی موجودگی اور اہمیت کا غیر ضروری تأثر دینے کی ناکام کوشش میں اچھے بھلے کام کے رنگ میں بھنگ ڈال کر حلیہ ہی بگاڑ دیتے ہیں۔ ساری رات فسانہ سننے کے بعد اس استفسار کی مانند کہ ”ہیر“ مرد تھا یا عورت، کچھ ایسی ہی کیفیت ان تینوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی ہے جو اپنی نا اہلی کو چھپانے، بونے قد کو بڑھانے اور کرپشن کے داغ مٹانے میں مصروف عمل ہے اور نہیں جانتی کہ ان کی راہ نجات کہاں ہے؟

ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنگ کے پہلوانوں کی جعلی لڑائیوں کی طرح یہ نقلی سیاسی پہلوان بھی آج کل پاکستان میں ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلنگ سیزن ون کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی بات کی جائے تو وہ ”ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے“ کے مصداق مزے سے اہل بندوق اور اہل ترازو کی چھتری تلے چین کی بانسری بجاتے ہوئے مشکل حالات اور معاملات کی بے یقینی میں اپنی ناقص کارکردگی کا تڑکا لگانے میں مصروف ہے ۔ دوسری طرف حکومت عوام الناس کو مہنگائی اور مزید قربانیوں کے لیے تیاری کا چورن بھی بیچ رہی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نے رمضان کے مقدس مہینے میں اشیاء کی سستے نرخوں پر دستیابی کا عندیہ ضرور دیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک پر قابض بیوروکریسی اس بار بھی عمران خان کو ناکام بنا دے گی؟

اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت خلوص کے ساتھ پاکستانی عوام کی خدمت کے مشن پر گامزن ہے مگر اس جماعت میں شامل پیرا شوٹرز اپنی معاون بیوروکریسی کے ساتھ مل کر نہایت شدومد کے ساتھ عوام میں پی ٹی آئی کی ساکھ خراب کرنے کے درپے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے بھی سابقہ حکومتوں کی طرح عوام سے بہت سے دلفریب وعدے کیے تھے اور سبز باغ دیکھنے کے عادی پاکستانی عوام ایک بار پھر سیاسی پنڈتوں کے سحر میں گرفتار ہو گئے تھے لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ اب کی بار عوام سبز باغ کی جگہ حقیقی باغ دیکھنے کے متمنی ہیں۔

قوم اس مرتبہ کسی ایسے نجات دہندہ کی منتظر ہے جو محض اپنی ذات اور اولاد کے لئے شجر رحمت نہ بنے بلکہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل میں گھری ہوئی اس پاکستانی قوم کے لیے حقیقی درد رکھتا ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان کے ظل سبحانی اور شیر شاہ سوری حکمران اپنے، اثاثوں، محلوں، قلعوں اور اراضی کو بچانے میں مصروف رہے مگر ملک کی کشتی کو بھنور سے بچانے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہ کی کیونکہ ان کی سوچیں اپنی ذات اور خاندان سے آگے نہ جاتی تھی اور دوسری طرف اجتماعیت کا فروغ اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا، ملکی مفاد اور ذاتی مفاد کے فرق کو سمجھنا، ان بونے سیاسی لیڈروں کی فہم و فراست کی دسترس سے باہر کی بات تھی۔

مگر اب ہماری سیاسی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ 1990ء کی دہائی نہیں، اب کی بار عوام ان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں کسی باہر کے دشمن کی ضرورت نہیں بلکہ ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کا محاورہ پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستان کے سیاسی افق پر نظر آتا ہے۔

اگرچہ وطن دشمنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا عناصر اپنی سی پوری کوشش میں مصروف ہیں مگر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب پاکستانی عوام نے فیصلے کا حق لے لیا ہے اور وہ وسیع تر ملکی مفاد کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے علم میں ہے کہ ماضی میں ان کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے اور کس طرح ان کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر بیرون ملک جائیدادوں کا انبار لگایا گیا۔

عوام نے اب تک جس حوصلہ مندی سے پی ٹی آئی حکومت کے مشکل ترین اڑھائی سال گزارے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام اپنے محسن اور دشمن کو پہچان چکے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ ملک کو خطرناک حالات سے نکالنے میں کامیابی عطا فرمائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ہماری اس جدوجہد کی بدولت سکھ کا سانس لے سکیں اور اس نعرے ”نیا پاکستان“ کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *