کیا عورتیں دعوت گناہ دیتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ماڈرن قسم کے لوگ بڑے عجیب و غریب رویے کے مالک ہوتے ہیں ۔ اپنی بھرپور جوانی بڑے لش پش انداز سے گزارتے ہیں ، ایک پلے بوائے کی طرح زندگی کو انجوائے کرتے ہیں اور زندگی کے اس پڑاؤ میں وہ نان پریکٹسنگ قسم کے مذہبی ہوتے ہیں مگر جیسے ہی یہ لوگ بڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے ہیں تو ایک جنونی قسم کے پریکٹسنگ مذہبی بن جاتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر ڈال لیتے ہیں۔ ان کو ہر جگہ فحاشی و عریانی نظر آنے لگتی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور خود کو پارسا ثابت کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

المیہ یہ ہے کہ 4 اپریل کو قومی ٹیلی ویژن پر وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک بیان داغ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریپ اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی بنیادی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی ہے۔ اس طرح کا غیر ذمہ دارنہ بیان داغنے کا مطلب ریپسٹ کو جواز یا ریزننگ مہیا کر نے کے مترادف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریپ کی بنیادی وجہ صرف فحاشی و عریانی ہے؟ کیا کسی بھی رونما ہونے والے واقعہ کی صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے؟

جب ہم ایک مخصوص عینک اتار کر حالات و واقعات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے تو بہت سے چھپے پہلو ہماری نظروں کے سامنے آشکار ہونا شروع ہو جائیں گے۔ وزیراعظم نے ریپ کی صرف ایک وجہ بتائی ہے اور وہ ان کی نظر میں فحاشی ہے حالانکہ لفظ فحاشی ایک سبجیکٹو ٹرم ہے اور ہر ایک کی نظر میں فحاشی کا زاویہ نگاہ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کو لمبی جینز پہنے لڑکی میں فحاشی نظر آتی ہے، کسی کو دوپٹہ اوڑھے لڑکی میں فحاشی نظر آتی ہے، کسی کو برقع اور حجاب پہنے لڑکی میں فحاشی نظر آتی ہے۔

کسی لڑکی کا اپنی پسند اور ذوق کے مطابق لباس پہننے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہر ایک کو دعوت دیتی ہے کہ مجھ سے جنسی تعلق پیدا کر لو، اس قسم کی دقیانوسی پر مبنی باتیں فارغ البال اور بے سمت قوموں کا شیوہ ہوتی ہیں، جہاں پر پڑھی لکھی خواتین کو برقع اوڑھا کر گھروں میں قید کر کے شوہر کی خدمت کرنے پر مامور کر دیا جاتا ہے۔

ریپ کے پیچھے وجہ لباس یا جینز نہیں ہوتی بلکہ معاشرتی رویے ہوتے ہیں، جن معاشروں میں عورتوں کو احترام کی نظر سے نہ دیکھا جائے، ان کی رائے کا احترام نہ کیا جائے اور ان کو برابر کا انسان نہ سمجھا جائے تو وہاں پر ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اگر فحاشی و عریانی کی وجہ سے ریپ ہوتے ہیں تو پھر سوچنے والی بات ہے کہ آخر یہ چھوٹے بچے کون سے عریانی والے لباس پہنتے ہیں؟

ایک نو سالہ (9) یا چھے (6) سالہ بچے کے لباس میں کیا بے ہودگی ہو سکتی ہے؟
ایک 3 سالہ بچی کیا بے حیائی دیکھا سکتی ہے۔ کفن میں لپٹی اور قبر میں لیٹی خاتون کیا بے حیائی دکھا سکتی ہے؟

مختلف اسٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریپ جوش اور جذبے کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے پوری پلاننگ ہوتی ہے اور یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہوتا ہے۔ ریپ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، بہت سارے لوگ بچپن میں جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں اور پھر وہ بڑے ہو کر ”ابیوزر“ بن جاتے ہیں۔

چونکہ ہمارے سماج میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کے لیے سائیکالوجیکل کونسلنگ اور ٹراما ہیلنگ کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہے اور سیکس جیسے اہم موضوع کو ڈسکس کرنا ہمارے سماج میں شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ سیکس ایجوکیشن سے ناواقفیت بھی ریپ کی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور بعض دفعہ ریپ بدلہ لینے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اس لیے sweeping statement دینے کی بجائے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ایک دانش مندانہ اقدام ہوتا ہے کیونکہ فحاشی کا تعلق لباس سے نہیں ہوتا بلکہ مثبت تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہوتا ہے اور و ہ سیکس ایجوکیشن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *