کایا پلٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردی ہی سردی۔ دھند ہی دھند، کئی دنوں سے سورج نے منہ نہ دکھایا تھا۔ خنک ہواؤں کی سنگینی تن بدن میں سرایت کر رہی تھی۔ سرشام ہی اندھیرا پوری کائنات پر چھا جاتا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے دن نکلے صدیاں بیت گئی ہیں۔ زہرہ کا معبد سمندر کنارے آسمان کی بلندی کو چھوتی پہاڑی پر پھولوں کے کنج میں واقع تھا۔ سارا دن قربانیاں، ذبیحے اور نذرانے گزرانے والوں کا ہجوم دھکم پیل کرتا رہا تھا۔

شام ڈھلتے ہی معبد کو جانے والے راستے کی دیواروں، مہرابوں اور پہلو دار ستونوں پر لٹکتے سینۂ محبوب کی طرح تابندہ و فروزاں قمقمے رات کے بیکراں دھندلکے کو شکست دینے کو تیار تھے۔ پورے شہر نے پہاڑی کی جانب رخ کر لیا تھا۔ جامۂ دریدہ زیب تن کیے کنواریاں دف بجاتے معبد کا طواف کر رہی تھیں۔ نازک اندام پریاں جن کے عبائے ابریشم کے دامن کولہوں تک وا تھے، دف کی دھن پر رقصاں محو خرام تھیں۔ ان میں کچھ ایسی بھی تھیں جن کی عریانی ہی ان کا پیرہن تھا۔ ہر بوالہوس سگ دیوانا بن کر ان کی ایک جھلک، ایک لمس پانے کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔

عشق کی افتادگیاں اور حسن کی بے نیازیاں جلوہ افروز تھیں۔ ہرطرف نظر باز چھچھورے، حسن کے دلدادگان پرے جمائے کھڑے تھے۔ پرہجوم راستوں پر مقامی زائرین، ملاح، مسافر، تاجر، امراء و غربا، شاہ و گدا سب حسن کی دیوی زہرہ کی مورتی کے سامنے ماتھا ٹیکنے اور ذی حیات دیویوں کے درشن کو وہاں پہنچ رہے تھے۔ اک ہجوم عصیاں، گاہ خیزاں گاہ افتاں، کشاں کشاں راہ کاٹتا معبد کی طرف رواں دواں تھا۔

وہ کون تھا؟ سب جانتے تھے کہ وہ مرد ہے، مرد کا بچہ بھی۔ اس کے آتے ہی سب نے خود کو کونوں کھدروں میں سمانا شروع کر دیا تھا۔ ہٹو بچو کی صدا نہیں، کوڑوں چھانٹوں کی گونج نہیں لیکن سب راستہ چھوڑ کر دیواروں کے ساتھ چپک گئے تھے۔ توانا و مضبوط پر شباب جسم، لمبی گھنی زلفیں جو مرمریں گردن کے گرد حلقوں اور نرم نرم گچھوں کی صورت میں حصار بنائے لٹک رہی تھیں۔ ریعان شباب کی روئیدگی رخساروں پر عیاں تھی۔ پر فسوں بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جو ایک پل بھی کسی جگہ پر ٹکتی نہ تھیں۔ بھاری مژگاں مدھ بھرے نینوں پر سایہ کیے ہوئے تھیں۔ ابروؤں کی محراب پرخمار آنکھوں کی خوبصورتی کو بڑھاوا دے رہی تھی۔ روں روں اور انگ انگ خردۂ مینا کا حکم رکھتا تھا۔ آتش تر، شعلۂ شباب، جلوۂ حسن اور گرمیٔ عشق کے عناصر اربعہ اس کی رگوں میں دوڑنے والے خون کو حرارت بخشے ہوئے تھے۔ اس ارض فانی پر سندرتا میں اس کا ہم پلہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ کوہ اولمپس پر بسنے والے دیوتا بھی اس سے شرماتے ہوں گے۔

جنسی ہیجان میں مدہوش وہ دوشیزاؤں، داسیوں، مرلیوں اور مقدس اچھوتیوں سے اٹھکھیلیاں کرتے معبد کی طرف ہی جا رہا تھا۔ گاہ بالوں کو چھوتا، لب لعلین کی رنگت چراتا اور گاہ نوخیز پستانوں کو دباتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ جس کو بھی چھوتا ہیجان لمس کی کلکاریوں سے وہ مہک جاتی۔ پیرہن میں پنہاں اثمار شباب کو ٹٹولتا تو کومل دوشیزاؤں کے نیم سماوی گداز بدن لذت درد سے کراہنے لگتے۔ مرکزی دروازے پر پہنچا تو ایک داسی نے نم آلودہ زلف دراز سے اس کے منہ کو دھویا۔ ایک کنواری نے اپنے ململ کے پیراہن سے اس کے پاؤں صاف کیے۔ حوران معبد کی نگاہوں میں ہیبت و الفت کے جذبات کا امتزاج چھلک رہا تھا۔ سب دیدہ و دل فرش راہ کیے سامنے کھڑی تھیں۔ لیکن وہ معبد میں داخل ہو کر سیدھا زہرہ کے مجسمے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

عقیدت مندوں کے نذرانوں اور پھولوں سے آراستہ سنہری چبوترے پر ایستادہ قد آدم سے بھی بلند برہنہ اندام زہرہ دیوی ایک زندۂ  جاوید ہستی معلوم ہوتی تھی۔ دایاں بازو کندھے سے تھوڑا اوپر ہوا میں لہرا رہا تھا جبکہ پہلو کے ساتھ جڑا بایاں بازو پیٹ اور کولہے کے گرد لپٹی مہین و باریک شال تھامے دیوی کے عیاں اندام کو نہاں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پروہت اعظم ہاتھ میں ایک سنہری طشت اٹھائے دیوی کی دائیں جانب کھڑا ہیرے جواہرات کے نذرانے وصول کر رہا تھا۔

گلے میں پہنا ہوا قیمتی ہار دیوی کے چرنوں میں رکھ کر بولا ”اے گل اندام، اے نقش فائق، محبوب جواں مرداں، تیرا پجاری، تیرا یہ پرستار آج خود کو تجھ پر قربان کرنا چاہتا ہے۔ اے حسن و عشق کی دیوی، اے انسانی جذبات میں سے سب سے اعلیٰ جذبہ، جذبہ محبت کی خالق، وہ محبت جسے آرزوئے بوس و کنار کہیے یا ہوس عشق، آج یہ دیوانہ اسی جذبے کے ساتھ تیرے قرب کا خواہش مند ہے۔ آج میری آرزو طلب تجھے اپنانا چاہتی ہے۔ مجھے اپنا ہم آغوش ہونے دے۔“

نذرانوں کو ٹھوکر مارتا، پھولوں کو مسلتا اس کے سیمیں ساق کا سہارا لے کر چبوترے پر سوار ہو گیا۔ معبد کے اندر سناٹا چھا گیا۔ مورتی کے عریاں بازوؤں کے لمس سے آشنا ہوتے ہوئے وہ اس کے اندام کے طول عرض کو ناپنے لگا۔ نیم وا ہونٹوں کو بوسہ دیا۔ بولا ”معبد کو خالی کر دیا جائے۔ آج میں دیوی سے اختلاط کروں گا۔“

پروہت اعظم کے ہاتھ والی تھالی نیچے گر گئی۔ ہیرے و جواہرات دور دور تک بکھر گئے۔ سب بھاگ کر باہر چلے گئے۔ پروہت حیرانی کا ستون بنا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

بولا ”دیوی تو پتھر ہے۔“
اس نے غصے سے پروہت کی طرف دیکھا۔
”یہ عورت بنے گی۔ یہ معبودہ اب معشوقہ بنے گی۔ میں کایا پلٹ بوٹی ساتھ لایا ہوں۔“
اس نے ہاتھ میں پکڑی کپڑے کی چھوٹی سی گانٹھ کو دیوی کے بازو پر باندھ دیا۔

”دیوی اپنے چاہنے والے کے لیے کایا کلپ کرے گی۔ وہ گوشت پوست کے روپ میں آئے گی۔“ وہ مجسمے کو ہیجان خیز طریقے سے چومتا جا رہا تھا۔

”یہ ممکن نہیں۔ آپ حکم کریں کنواریاں پیش کی جا سکتی ہیں ، ایسی کنواریاں جو حسن دوشیزگی سے مالامال ہیں۔ جن کی نرم و نازک ہیجان انگیز رعنائیاں ان کے پیراہن سے بھی پوشیدہ ہیں۔ وہ ایسی دولت جمال کی مالک ہیں جس کو پانے کی جنوں آمیز دھن میں کئی شاہ و وزیر کوڑیوں کے مول بک گئے ہیں۔“ پروہت نے اشارہ کیا اور درجنوں اچھوتیاں اس کے سامنے آ گئیں۔ اس نے ایک جھلک دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ پروہت نے نیا پانسہ پھینکا ”تجربہ کار کسبیاں بھی مل سکتی ہیں۔ وہ کسبیاں جو بوس و کنار کے عجیب و غریب ڈھنگ جانتی ہیں۔ جن کے حقائق حسن سے واقفیت حاصل کرتے کرتے ہزاروں دیوانے سامان زندگی کی تمام قوتیں کھو چکے ہیں۔“

بہت سی داسیاں، مرلیاں، رنڈیاں اس کے سامنے پیش کر دی گئیں۔ لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔ نشے میں دھت آنکھیں بند کیے کسی طرف بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ بے بس پروہت بولتا جا رہا تھا۔

”دیوی تو پتھر ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اس کے ہونٹ برف کی قاش ہیں۔ آپ کیوں پتھر سے سر ٹکرانا چاہتے ہیں۔“ کچھ دیر کے توقف کے بعد پھر درخواست کرنے لگا

”دیوی کی یہ مورتی، مرمر کی بنی یہ عورت، سب کے لئے متبرک ہے۔ یہ حسن و عشق کی حاملہ، عفت مجسم بھی ہے، پاکیزگی و پارسائی کی نگہبان ہے۔ یہ عصمت کی دیوی بھی ہے۔“

اس نے خشمگیں ہوئے بغیر دیوی کی شال اتار کر نیچے پھینک دی۔ کمر اور رانوں کے درمیانی حصہ کو چھوتا ہوا بولا ”جتنی بھی متبرک ہے یہ میرے لئے صرف تسکین جنس کا کھلونا ہے۔ یہ حسن کی دیوی ہے۔ یہ صرف عورت ہے۔“

کایا پلٹ بوٹی سے مجسمے میں تغیرات آنا شروع ہو گئے تھے۔ بے جان اعضاء نے رمقنا شروع کر دیا۔ پاؤں میں جان آئی تو وہ چبوترہ سے علیحدہ ہو گئے۔ سارا معبد جگمگا اٹھا۔ وہ دیوی کو نومولود بچے کی طرح گود میں اٹھا کر نیچے اتر آیا۔ آہستہ آہستہ زندگی کے سارے نقش و رنگ اس میں حلول کر گئے۔ اس نے زہرہ کو اپنی باہوں کے حصار میں لپیٹ لیا۔ کچھ دیر وہ کسمساتی رہی اور پھر نہایت پھرتی سے اس کی گرفت سے نکل گئی۔

”اے آلودہ جسم کے مالک تو پاکیزہ روح سے اتصال کے لائق نہیں۔“ وہ دیوانہ وار اس کی طرف بھاگا اور پوری طاقت سے اس کو پکڑ لیا۔ زہرہ نے ایک ہی جھٹکے سے اسے زمین پر گرا دیا۔ طیش میں آ کر کہنے لگی:

”تو لاکھ ہرکولیس سے شہ زور سہی لیکن اس سم آلودہ قوت مجہول کے بل بوتے پر مجھے نہیں پکڑ سکتا۔ میں مبتلائے محبت جاہل الہڑ دوشیزہ نہیں، تو مجھے خستہ و خراب نہیں کر سکتا۔ تو عام عورت کے مذاق عشق کا عادی ہے، میں نئی عورت ہوں۔ تیری ہی کایا پلٹ بوٹی کی بدولت میں گوشت پوست کی ہوتے ہوئے پتھر جیسی سخت ہوں۔ آنکھیں کھول کر دیکھ میں کون ہوں۔ زندہ جاوید جدید عورت، عصمت کی دیوی، متبرک دیوی، پتھر کی نہیں لیکن پتھر کی طرح سخت۔ تو چراغ آخر شب ہے جو کچھ دیر مشتعل ہو کر خاک ہو جائے گا۔ آنکھیں کھول۔“

نشئی مضمحل آنکھوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اسے دیکھ سکتیں۔ پلکوں پر لدے گناہوں کے بار سے بند ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ آگے بڑھی، سرشتہ گیسوؤں سے لمبی طلائی پن نکالی اور اس پتلی سلائی کو اس کی آنکھوں میں گھونپ دیا۔ پرسکون، واپس اپنے استھان کی طرف چل پڑی۔ نقش پا پر کھڑی ہو گئی اور اشلوک پڑھتی ہوئی دوبارہ پتھر کی بن گئی۔

”میری بیٹیو! صدیوں لمبی کالی رات بیت چکی ہے۔ دیکھو! پو پھوٹنا شروع ہو گئی ہے۔ نئی سحر کی روح پرور رنگینیاں رخ عالم پر بکھر رہی ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہی روپہلی دھوپ نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ گلابی کرنیں شبنم کے قطروں میں جگمگاہٹ پیدا کر رہی ہوں گی۔ قوس قزح کے رنگ بکھر جائیں گے۔ آنکھیں کھولو اوردیکھو نیا سویرا طلوع ہونے والا ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *