تحریک انصاف ڈسکہ الیکشن کیوں ہاری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈسکہ میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے دعوے کرنے والی تحریک انصاف کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے ری الیکشن میں شکست سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس الیکشن میں ناکامی کے باعث حکومت کو جس شرمندگی کا سامنا ہے، اس سے بچنے کے لئے اب حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے کارکن اس بات پر خوشی منا رہے ہیں کہ اگرچہ وہ ڈسکہ الیکشن ہار گئے ہیں لیکن ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ بظاہر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے امیدوار اسجد ملہی کو 2018 کے عام انتخابات کی نسبت 31707 ووٹ زیادہ ملے ہیں لیکن اس کے پس پردہ حقائق پر نظر ڈالیں تو حکومت کے لئے خوشی کی بجائے فکرمندی کا پہلو زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔

یاد رہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں اسجد ملہی نے 67727 ووٹ لیے تھے جبکہ ایک آزاد امیدوار عثمان عابد نے 57778 ہزار ووٹ لئے تھے۔ اس الیکشن میں فتح کے لئے حکومت نے ایک طرف عثمان عابد کو حکومتی اثر و رسوخ اور مستقبل میں اہم عہدہ یا ٹکٹ دینے کا لالچ دے کر اسجد ملہی کے حق میں دستبردار کروایا اور دوسری طرف عام آدمی یا مختلف دھڑوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے حکومتیں جو طریقے یا ہتھکنڈے اختیار کرتی ہیں۔ ان کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 اپریل کے ری الیکشن سے پہلے ووٹرز نے جو مطالبہ کیا، اس کو پورا کرنے کی ہامی بھر لی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے تو الیکشن سے ایک دن پہلے یہ تک اعلان کیا کہ ’حلقے کے عوام فیصلہ کر لیں کہ ایک ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز اور وفاقی وزارت لینی ہے یا اپوزیشن میں بیٹھنا ہے‘ ۔ اس سب کے باوجود اسجد ملہی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 93 ہزار 433 تک محدود رہی یعنی 2018 میں اسجد ملہی اور عثمان عابد کو ملنے والے ووٹوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 19 ہزار 505 کے مقابلے میں انہیں تقریباً 26 ہزار ووٹ کم ملے ہیں۔

اس میں حکومتی اثر و رسوخ یا حکومت سے فائدے کے فوری لالچ کو دیکھ کر ووٹ ڈالنے والے 10 سے 15 فیصد اضافے کو بھی شامل کر لیا جائے تو اسجد ملہی کو کم از کم سوا لاکھ سے زائد ووٹ پڑنے چاہیے تھے۔ اس شکست کے بعد ڈسکہ میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید اسجد ملحی کا انتخابی سفر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے نوشین افتخار کے والد اور شوہر سے بھی متعدد مرتبہ ہار چکے ہیں اور موجود انتخابی شکست کے بعد ہو سکتا ہے تحریک انصاف امیدوار کی تبدیلی پر غور کرتے ہوئے عثمان عابد یا کسی نئی شخصیت کو آزمانے پر غورشروع کر دے۔

اس کے برعکس مسلم لیگ نون کی امیدوار نوشین حیدر کو نہ تو لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی سہولت حاصل تھی نہ ہی ترقیاتی کاموں یا سرکاری فنڈز کی فراہمی کے ذریعے وہ ووٹرز کو کوئی فوری فائدہ پہنچانے کی پوزیشن میں تھیں، اس کے برعکس ان کا ووٹر دباؤ کا شکار تھا اور اسے یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر کہیں کوئی گڑبڑ ہوئی تو حکومتی مشینری ان کے خلاف ہی استعمال ہو گی کیونکہ اس کا ٹریلر 19 فروری کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں دیکھا جا چکا تھا جب تحریک انصاف کے سپورٹرز نے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر زبردستی پولنگ رکوائی اور پولیس و رینجرز بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی سے گریزاں نظر آئے۔ علاوہ ازیں پرائزئیڈنگ آفیسرز کو غائب کر کے جس طرح نتائج میں رد و بدل کی کوشش ہوئی ، اس سے بھی مسلم لیگ کے ووٹرز میں یہ تأثر پایا جا رہا تھا کہ ان کا ووٹ الیکشن کے نتیجے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔

اس کے باوجود نوشین افتخار نے اپنے والد افتخار شاہ کے عام انتخابات میں حاصل کردہ ایک لاکھ 769 ووٹوں کی نسبت 10 ہزار ووٹ زیادہ حاصل کیے ہیں جو کہ سیاسی کیرئیر کی ابتداء کے لحاظ سے ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ 10 اپریل کو ہونے والے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح 19 فروری کو ہونے والے ضمنی الیکشن اور جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے بھی کم رہی ہے۔

نوشین افتخار کی کامیابی کا اہم فیکٹر مہنگائی بھی ہے کیونکہ 19 فروری کے ضمنی انتخاب کی نسبت اس مرتبہ انہوں نے مہنگائی کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ بنا کر لوگوں میں یہ احساس اجاگر کیا کہ حکومتی امیدوار کو فتح ہوئی تو حکومت اسے مزید مہنگائی کرنے اور عوام کی معاشی مشکلات بڑھانے کا اجازت نامہ تصور کرے گی۔ لوگ مہنگائی سے کس قدر تنگ ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈسکہ میں دوران الیکشن عام آدمی، سرکاری ملازمین اور حتیٰ کہ تحریک انصاف کے اپنے کارکن بھی اس معاملے پر حکومت سے خائف نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح گزشتہ چند برسوں میں عام آدمی کے کچن اور یوٹیلٹی بلز کا خرچ بڑھا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ لوگ اس بات پر بھی پریشان نظر آئے کہ ان کے ذرائع آمدن مسلسل کم ہو رہے ہیں جبکہ بیروزگاری اور معاشی کساد بازاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس الیکشن کا ایک اور دلچسپ پہلو امن وامان کی صورتحال قائم رکھنے کے لئے رینجرز کی تعیناتی تھی جس پر مسلم لیگ نون اندرون خانہ تحفظات کا شکار تھی جبکہ تحریک انصاف کے لوگ اسے اپنے لئے ’اضافی مدد‘ تصور کر رہے تھے۔ تاہم دوران ڈیوٹی رینجرز نے اپنے آپ کو پولنگ اسٹیشنوں کی بیرونی سیکیورٹی تک محدود رکھا۔ علاوہ ازیں ان کی یہ بھی کوشش رہی کہ میڈیا کے کیمروں میں آنے سے مکمل گریز کیا جائے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اگر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگیں تو ان کی موجودگی کو اس کا جواز نہ قرار دیا جا سکے۔

اس حلقے میں پرامن ری الیکشن کروا کے الیکشن کمیشن نے بھی اپنی ساکھ بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اگر یہ پالیسی جاری رہی تو آئندہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کو ناصرف الیکشن ہارنے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا ہے بلکہ الیکشن جیتنے کے لئے پرائزئیڈنگ آفیسرز کے مبینہ اغوا کا الزام بھی طویل عرصے تک تحریک انصاف کے لئے کلنک کا ٹیکہ بنا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعیم احمد

نعیم احمد ماس کمیونکیشن میں ایم ایس سی کر چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

naeem-ahmad has 9 posts and counting.See all posts by naeem-ahmad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *