بھارتی اداکار اور ماڈل ثاقب خان کی توبہ


آج اگر ہم غور کریں تو کیا ہم یہ بتا سکیں گے کہ کیا ہمیں اللہ نے جس مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا ہم اس پر پورا اتر رہے ہیں۔ اکثر جب کسی کو کوئی گناہ کا کام کرنے سے روکا جائے اور کہا جائے ایسا مت کرو تو اس پر اکثر کا جواب ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کے لئے اتنی بھی سختی نہیں فرمائی۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو کیا اللہ کے پاس فرشتوں کی کمی تھی۔ وہ ہر وقت اللہ کی عبادت کرتے تو ہیں مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے بیشک اللہ نے فرشتے عبادت کے لئے پیدا کیے ، پھر آپ لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی کو امتحان کی جگہ کیوں بنایا؟ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ، آخرت میں ہمیں اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ اسی اعمال کے بدلے ہماری سزا یا جزا کا فیصلہ کریں گے۔ یہاں میں ایک ایسی شخصیت کی بات کرنے جا رہی ہوں جسے اللہ نے ہدایت دی  اور وہ بھی کس صورت میں۔  یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ اپنے کس بندے پر کتنا مہربان ہے ۔  کیا اس بات کو ماپنے کے لئے کوئی پیمانہ موجود ہے؟

سنا ہے اگر انسان یہ دیکھنا چاہے کہ اللہ اس پر مہربان ہو گیا ہے تو سب سے پہلے انسان کو اپنے اندر کی برائیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ ان سب برائیوں پر نظرثانی کرنے کے بعد جب انسان اپنے اندر کی ان عادات کو ترک کرتا ہے جو اللہ کو پسند نہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے لئے اللہ نے اپنی خاص رحمت کے دروازے کھول دیے۔

میں بھی یہاں ایک ایسے شخص کا ذکر کرنے جا رہی ہوں جس نے اپنی سابقہ زندگی سے اپنا موازنہ کیا۔  یہ بات سچ ہے جس پر اللہ نے مہربان ہونا ہوتا ہے ، اس کے دل میں اللہ اپنی محبت بہت پہلے سے موجزن رکھتے ہیں۔ وہ انسان اللہ کی عبادت تو کرتا ہے مگر دنیاوی زندگی میں گم رہنے کی وجہ سے ان معاملات کو سمجھ نہیں سکتا،  نماز تو ادا کرتا ہے مگر اس نماز میں سکون کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی۔ حال ہی میں ایک بھارتی ایکٹر اور ماڈل جن کا نام ثاقب خان ہے ، نے یہ اعلان کیا کے وہ اللہ تعالی کی خوشنودی اور دین اسلام پر مکمل طور پر عمل کرنے کے لئے ایکٹنگ اور ماڈلنگ چھوڑ رہے ہیں۔

یہ خبر بھارت سمیت پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی بہت گردش کی اور کہیں لوگوں نے ان سے ان کے اس فیصلے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی کے آخر اتنی کامیاب اور شاندار زندگی گزارنے کے باوجود اس عیش و عشرت کی زندگی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا انہوں نے اپنا یہ بیان انسٹرگرام کے ذریعے دیا۔ اس سوال کے جواب میں ثاقب خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کچھ دیر کے لئے اپنی سانس روکتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے بالکل ایسا لگتا ہے کچھ دیر کے لئے ہم دنیا میں نہیں ہیں یعنی مر گئے جب اس دنیا کی حقیقت موت ہے تو کیوں نہ ہم اگے آنے والے امتحان کی تیاری کریں نیک اعمال کر کے ایسے اعمال جنہیں کرنے کا اللہ نے حکم دیا۔

ثاقب خان بھارت میں کوئی مشہور پروگرام کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا ایک بار ان کی والدہ پروگرام دیکھ رہی تھیں، ایک لڑکی جس کا لباس اور کردار بالکل نامناسب تھا ۔ وہ بتاتے ہیں میری والدہ نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ لڑکی مسلمان ہے جبکہ وہ لڑکی مسلمان تھی مگر ثاقب خان اپنی والدہ کو جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ مسلمان ہوتی تو ایسا بالکل نہ کرتی۔

اسی طرح ایک اور جگہ مثال دیتے ہیں کے جس ماحول سے تعلق ہے ، وہاں اکثر لوگوں کے نام مسلمانوں والے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ شراب، الکوحل کا نشہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ کسی نے پوچھا تم شراب سگریٹ نہیں پیتے ، وہ بھی مسلمان ہیں وہ ایسا کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہیں ، کیوں کہ جو چیزیں اللہ نے حرام کر دیں وہ مسلمان اپنے لئے حرام سمجھتا ہے۔

ایک اور جگہ مثال دیتے ہوئے ثاقب خان نے بتایا لوگ کہتے ہیں جیسے کنول ہمیشہ کیچڑ میں اگتا ہے ، بالکل ایسے ہی بالی ووڈ میں شہرت کے لئے بھی برے کام کرنا ضروری ہیں، اس کے بغیر شہرت نہیں۔

مگر جس کو اللہ ہدایت دے وہ دنیاوی زندگی کی کامیابی تک محدود ہو کر نہیں رہ سکتا۔ ایسا انسان حقیقی کامیابی کی جستجو کرتا ہے ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کا اللہ اس سے راضی ہو جائے۔ یہ توفیق ہر انسان کو نہیں ملتی کہ وہ اتنی دولت ، شہرت اور کامیابی کی زندگی کو ٹھکرا کر حقیقی سکون اور اللہ کی خوشنودی تلاش کرے۔  ثاقب خان آج کل قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ رہے ہیں اور باریک بینی سے اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو بھی ہدایت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS